Daily Mashriq

موسم کی انگڑائیاں اور پرانی یادیں

موسم کی انگڑائیاں اور پرانی یادیں

نینوں میں بدرا چھائے بلکہ گزشتہ رات سے تو رم جھم سے بھی آگے جا کر چھاجوں پانی برسنے کا سلسلہ شروع ہوچکا ہے، اس حوالے سے محکمہ موسمیات نے پہلے ہی خبریں پھیلا کر عوام کو الرٹ کر دیا تھا، پہاڑوں پر برفباری کا سلسلہ بھی شروع ہوچکا ہے اور ٹی وی چینلز پر ان علاقوں سے رپورٹیں بھی مل رہی ہیں جہاں درجہ حرارت ایک بار پھر گر گیا ہے، حالانکہ یہ وہ دن ہیں جن کے بارے میں جاتی سردی والے الفاظ استعمال کئے جاتے ہیں۔ محکمہ موسمیات نے بعض علاقوں میں سردی کے دنوں میں معمول کی بارشیں نہ ہونے یا پھر کم کم ہونے کی وجہ سے ان فصلوں پر منفی اثرات مرتب ہونے کے خدشات بھی چند روز پہلے ظاہر کئے تھے جو خصوصاً برفباری والے یا شدید سردی والے علاقوں میں انہی دنوں پیدا ہوئی ہیں، سو اب دیکھتے ہیں کہ یہ جو بارشوں اور برفباری کا سلسلہ جاتی سردی کے دنوں میں شروع ہوگیا ہے اور جس کے اگلے دوچار روز جاری رہنے کی باتیں کی جارہی ہیں اس کے متعلقہ یخ بستہ علاقوں میں اگنے والی فصلوں پر کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں، فصلیں اچھی ہوتی ہیں یا خدانخواستہ معاملہ منفی سمت میں جاتا ہے، اس حوالے سے ماہرین زراعت ہی زیادہ بہتر رائے دے سکتے ہیں، ہمارا تو اس حوالے سے اپنے ایک بہت ہی پیارے مرحوم دوست ڈاکٹر شفیع اللہ خان سے ہی زیادہ واسطہ تعلق رہا ہے جو طویل عرصے تک ریڈیو پاکستان سے نشر ہونے والے زراعتی پروگرام ’’کرکیلہ‘‘ سے ہمارے ساتھ وابستہ رہے، ریڈیو کے مائیکروفون کو صوبے کے مختلف علاقوں میں لے جا کر وہاں کے کسانوں اور زمینداروں کو مختلف موسموں کی فصلوں کے بارے میں معلومات فراہم کرتے رہے، انہیں بہترین مشورے دیکر ان کی رہنمائی کرتے رہے، بعد میں وہ پی ٹی وی کے اسی نوعیت کے پروگرام ’’باغ باڑی‘‘ کیساتھ بھی ایک عرصے تک ان کا تعلق رہا، محکمہ زراعت کیلئے انہوں نے زرعی انفارمیشن کا الگ شعبہ قائم کیا جہاں دیگر زرعی ماہرین کے تعاون سے وہ زرعی مشوروں پر مبنی پروگرام ریکارڈ کر کے قوم کی خدمت کرتے رہے اور آخر میں انہوں نے نہ صرف پی ایچ ڈی کیا بلکہ ایک نجی یونیورسٹی کیساتھ بھی وابستہ رہ کر ملک وقوم کی خدمت بجالاتے رہے۔ زندگی کے آخری چند برسوں کے دوران وہ روحانیت کی طرف مائل ہوگئے اور ادارہ تعلیمات جلویہ کے خلیفہ کے طور پر عام لوگوں کو روحانی فیض پہنچاتے رہے، امام جلویؒ کی تعلیمات سے متاثر ہوکر انہوں نے نہایت عمدہ کتابیں بھی تحریرکیں، پشاور اور گرد ونواح سے ان کے سینکڑوں مرید آج بھی ان کی تعلیمات سے فیض پاتے ہیں، شاید اسی حوالے سے کسی نے کہا ہے کہ

یہ رتبہ بلند ملا جس کو، مل گیا

بات رم جھم اور بادلوں کے آسمان پر چھا جانے سے موسمی فصلوں سے ہوتی ہوئی ایک دیرینہ رفیق کار ڈاکٹر شفیع اللہ مرحوم تک جا پہنچی، اللہ انہیں غریق رحمت فرمائے، آمین! اور اب واپس موسم کی انگڑائی لیتی ہوئی صورتحال کی جانب چلتے ہیں، اس موسم نے ہمیں اپنے بچپن اور لڑکپن کی یادیں بھی سامنے لانے کا موقع دیدیا ہے، ہمیں یاد ہے کہ پشاور اور گرد ونواح میں سردی کے دنوں میں بارشوں کا سلسلہ عام تھا، اکثر دو تین اور چار یا پانچ دنوں تک خوب مینہ برستا تھا، کبھی کبھی جب جھڑی لگ جاتی تو سلسلہ دراز ہو جاتا اور یوں بارہ روز سے بھی آگے چلا جاتا، لوگ سورج کی شکل دیکھنے کو ترس جاتے، یہ صورتحال عموماً تب ہوتی جب بارشوں کا آغاز جمعرات کے روز ہوتا اور بڑے بزرگ کہتے اب یہ سلسلہ کئی روز تک جاری رہے گا کہ قدیم زمانے سے سینہ بہ سینہ چلنے والی معلومات یہی ہوتیں کہ جمعرات کو شروع ہونیوالی بارش جلدی تھمنے والی نہیں ہے۔ کچھ بزرگ اسے کم ازکم ایک ہفتے تک چلنے رہنے کی پیش گوئی کرتے اور کچھ زیادہ دن تک جاری رہنے کی بات کرتے اور واقعی ایسا ہی ہوتا یعنی کم ازکم ایک ہفتہ تو لازمی گردانا جاتا، ان دنوں گھروں میں خصوصی پکوانوں کا اہتمام عام سی بات تھی، کہیں حلوے پکتے جو مختلف نوعیت کے ہوتے یعنی سوجی کا حلوہ پکتا تو اس کی بھی کئی قسمیں اور شکلیں ہوتیں، کہیں نشاستے کا حلوہ بنایا جاتا، ڈرائی فروٹ سے تو لوگ خاص طور پر شام کے اوقات میں بیٹھ کر لطف اندوز ہوتے، گرم گرم بھنے ہوئے چنے، مونگ پھلی، چلغوزے (آہ چلغوزے؟؟ اب وہ مولوی مدن کی سی بات کہاں کہ چلغوزے بہت مہنگے ہوگئے ہیں) بادام، کشمش، وغیرہ وغیرہ۔ پھر پکوانوں کی بھی نت نئی قسمیں سامنے لائی جاتیں۔ یعنی عام ہانڈی سے ماورا پکوان جن سے لطف اٹھانے کیلئے چھوٹے بڑے اتاؤلے ہو جاتے۔ بازاروں سے منگوانے کا رواج بہت ہی کم تھا، ہاں سری پائے اور اوجڑی دو ایسے پکوان ہیں جو تب گھروں میں پکنے پکانے کا عام رواج تقریباً نہ ہونے کے برابر تھا اور شہر کے مختلف علاقوں میں کئی نامور افراد ایسے تھے جن کے سری پائے صبح کے وقت جبکہ اوجڑی سہ پہر سے شام تک کے اوقات میں لاکر لوگ نوش جان کرتے۔ تحصیل میں جو قدیمی دکان اس حوالے سے سب سے آگے ہوتی تھی وہ دکان اب بھی اسی خاندان ہی کے پاس ہے اور غالباً اب نکے پانچے والا کے پڑپوتے دکان چلاتے ہیں مگر جو لذت چاچے نکے یا ان کے بعد ان کے فرزند کے ہاتھ میں اللہ تعالیٰ نے ڈالی تھی کم ازکم اس نوعیت کی اب نہیں مگر پھر بھی دوسرے پائے فروشوں سے حد درجہ بہتر ہے۔ اسی طرح پشاور کی خاص ڈش چپلی کباب بھی بارش کے دنوں میں خوب چھب دکھاتے جس کا جادو آج بھی سر چڑھ کر بول رہا ہے۔

متعلقہ خبریں