Daily Mashriq


حال دل ہے یہ پیشگی معذرت کے ساتھ

حال دل ہے یہ پیشگی معذرت کے ساتھ

دو ہفتے ہوتے ہیں قلم وکاغذ اور اخبارات سے دوری کے، کچھ ساعتوں کیلئے ٹی وی دیکھ لیتا اور کچھ سوشل میڈیا شدید جاڑے میں حملہ آور ہوئے بخار اور کھانسی نے متحد ہو کر ادھ موا کر دیا۔ قلم مزدور کا اس مزدوری کے سوا کوائی اور کاروبار بھی نہیں، پندرہ دن بیماری میں نکل گئے، مصیبت کے دن ابھی باقی ہیں۔ وہ جو اختلاف رائے پر منہ پھاڑ کر لفافہ صحافی، طوائف اور نجانے کیا کیا کہتے ہیں انہیں کیا معلوم کہ زندگی کیسے گزرتی ہے۔ ایک پوری نسل پل کر جوان ہوئی اور اب سماج میں ات اٹھائے ہوئے ہے اس نسل کا خیال ہے سیاستدان سارے چور ہیں۔ صحافی طوائفوں سے بدتر مخلوق ہے۔ یہ نام نہاد مڈل کلاس کیچڑ میں کھڑی نئے دور کے آغاز اور ترقی کے گیت گا رہی ہے۔ سوشل میڈیا کی دو سائٹوں پر میرے فعال اکاؤنٹس ہیں دن رات کڑوی کسیلی سننا پڑتی ہیں۔ آپ سچ کے علم دار اور محب وطن ہیں تو پھر نون لیگ اور پیپلزپارٹی کو منہ بھر کے گالیاں دیں۔ پیشوائے بنی گالہ کی اقامت میں نیت باندھ لیں۔ ایسا نہیں کرتے تو وہ سب سننے کو ملے گا جس کا تصور بھی آپ نہیں کر سکتے۔ چند تھڑدلے دلیل پر بات آگے بڑھانے کی بجائے فرمانے لگتے ہیں آپ کی صحت کی فکر ہے۔ صاف بات یہ کہ ان کے نزدیک آپ ایک ذہنی مریض ہیں۔ صحت مند آدمی تو تبدیلی سرکار کے لشکر میں ہیں۔ پچھلے دو ہفتے سے یہ تماشے کچھ زیادہ ہیں یا بیمار آدمی نے زیادہ وقت سوشل میڈیا کو دیا اس لئے زیادہ محسوس اور دکھائی دیئے۔ہم سے لفافہ صحافیوں کی قسمت بھی بڑی عجیب ہے نون لیگ اور پیپلزپارٹی نے اپنے ادوار میں الحمدللہ فاصلہ رکھا۔ ان کا حق تھا خیر کے کونسے کلمات ہم نے ان کے لئے کہے لکھے، نئی نسل کے تبدیلی پسندوں کو کیا معلوم کہ درشنی چہروں اور قلم مزدوروں میں کیا فرق ہوتا ہے۔ نون لیگ کے بعد تحریک انصاف دوسری جماعت ہے جس کے لوگ مخالفوں اور ناقدوں کو منہ بھر کے گالیاں دیتے ہیں۔ مذہبی جماعتوں کے پاس فتوؤں کا ہتھیار ہے۔ بسا اوقات سوچتا ہوں آخر ہمارے اساتذہ کرام نے زمانہ سازی کی تربیت کیوں نہ دی؟ لیکن صحافت کے کوچے میں بسر ہوئے ماہ وسال پر نگاہ ڈالتا ہوں تو یہ سمجھ میں آتا ہے کہ 1970 کی اس دہائی میں جب ہم ایسے قلم مزدور صحافت کے کوچے میں اترے تھے تب صحافت نظریہ تھی۔ روشن فکری، آگہی، تصویر کے دونوں رخ اور پس پردہ معاملات کے سامنے رکھنا۔ یہ تو 1977 کے بعد کی بات ہے جب دائیں بازوؤں کے صحافیوں نے تیسرے فوجی حکمران جنرل ضیاء الحق کے ’’دست غزنوی‘‘ پر بیت کرلی تب نوازشات کا سلسلہ شروع ہوا جس نے بھی جمہوریت اور ذوالفقار علی بھٹو کو گالی دی ’’شاداب کر دیا گیا اسے‘‘۔ 1980 ء کی دہائی کے آخری دنوں اور 1990 ء کی دہائی کے آغاز میں ایک نئی صحافت نے جنم لیا۔ کوچہ صحافت میں بنام صحافی سیاسی ومذہبی جماعتوں کے میڈیا منیجرز اتر آئے۔ چوتھے فوجی آمر جنرل پرویز مشرف نے میڈیا منیجری کو باقاعدہ منظم دھندہ بنوا دیا۔ اب بعض مذہبی سیاسی گروہوں کے ساتھ ریاستی اداروں نے بھی شکرے میدان میں اُتارے۔ الیکٹرانک میڈیا نے شکروں کا کام آسان کردیا سیاپا فروشوں نے دنیا جہاں کے عیب سیاسی لوگوں میں سے نکال کر دائمی نجات دہندہ کے طور پر سیاست کو پیش کیا۔ پچھلے بارہ پندرہ سالوں کے دوران اس ملک میں صحافت کے نام پر شکروں، چھاتہ برداروں، میڈیا منیجروں اور دیانت بھری حب الوطنی کے خوانچہ فروشوں نے صحافت کی آڑ میں جو کہا لکھا اور کیا وہ ایک لمبی داستان ہے۔ اصلاح پسندوں کے اس غول کے 20 سال قبل کے حالات اور لمحہ موجود کے ٹھاٹ باٹھ دیکھ کر یقین کیجئے حسد ہوتا ہے نہ ملال۔ پارسائی کا کوئی دعویٰ تھانہ ہے، قلم مزدوری ذریعہ روزگار ہے۔ مجھے اس کے سوا کوئی اور کام نہیں آتا۔ مرحوم والدین بہت بڑے پیر نہیں تھے لیکن سرائیکی وسیب میں سادات کے لئے موجود احترام میں انہوں نے اپنا حصہ کچھ زیادہ لیا۔ والدہ عالمہ باعمل تھیں۔ پچاس برس ملتان میں درس ومیلاد کی محفلوں میں قرآن وحدیث کی تلاوت کی تطہیر ذات وسماج کے پیغام کی دعوت دی، بابا فوج سے شان سے رخصت کئے گئے اور اپنے نظریات کے مطابق دنیا سے بھی شان سے رخصت ہوئے۔ ترکے میں فقط ماں باپ کا احترام بھرا سماجی مقام ہے۔ قلم مزدوری سال 1973ء میں شروع کی تھی۔ 2019ء آن پہنچا ہے زندگی کی گاڑی چل رہی ہے۔ ذاتی دشمنیاں پالنے کا شوق کبھی تھانہ ہے۔ پسند وناپسند سے انکار نہیں مجھ طالب علم کو آج بھی ذوالفقارعلی بھٹو ان کی صاحبزادی محترمہ بے نظیر بھٹو اور پشتون رہنما خان عبدالولی خان محبوب ہیں غالباً ان کی محبوبیت کی بدولت ان کے نام سے قائم جماعتوں کے لیے نرم گوشہ ہے اس نرم گوشے کے باوجود دونوں جماعتوں کی سیاسی حکمت عملیوں اور ادواراور اقتدار کے عرصوں میں ایک ناقد کے طور پر آراء کا اظہار کیا۔ شکر ہے ان جماعتوں کے کارکنوں نے پلٹ کر گالی دی نا یہ کہا کہ ہمارے مخالفوں سے لفافہ لیا ہے۔ پچھلے سال دو تحریروں کی وجہ سے پی ٹی ایم کے نو جوانوں نے انصافیوں کی طرح وار کئے تو اے این پی کے دوست مدد کو آئے بہت سارے سرخ پرستوں نے نئے قوم پرستوں کو سمجھا یا اٹھائے گئے سوالوں کا جواب پھل کے ساتھ دو تو پتہ ہے ان دنوں بد قسمتی سے سوشل میڈیا پر پیروکاروں کے انبوہ رکھنے والوں نے فقیر کو ایجنسیوں کا ٹاوٹ بھی قرار دیا۔بہت ادب سے معذرت خواہ ہوں لگ بھگ پندرہ دن بعد کالم لکھتے ہوئے عصری موضوع پر بات کرنے کی بجائے کچھ ذاتی دکھ بیان کردیئے ۔اپنی ایمانداری یا کعبہ کی اینٹ ہونے کا زعم نہیں البتہ گالیاں دینے،

(باقی صفحہ7)

متعلقہ خبریں