Daily Mashriq

صدمے سے باہر آجائیے

صدمے سے باہر آجائیے

سانحہ ساہیوال کے مقتول خلیل کے بھائی نے جے آئی ٹی کے سامنے پیش ہونے سے انکار کر دیا جس کے باعث واقعے کی شناخت پریڈ بھی نہیں ہوسکی۔ سانحہ ساہیوال مقدمے میں ملزمان کی شناخت پریڈ کیلئے مقامی مجسٹریٹ اور جے آئی ٹی ارکان پر مشتمل ٹیم نے گواہان اور جلیل کا انتظار کیا تاہم ان کے پیش نہ ہونے پر شناخت پریڈ کی تاریخ بدل دی، مقتول خلیل کے بھائی جلیل نے اخباری نمائندوں کو بتایا کہ وہ جے آئی ٹی کے سامنے پیش نہیں ہوں گے کیونکہ جے آئی ٹی سے انصاف کی امید قطعی نہیں ہے بلکہ وہ مقدمہ خراب کررہی ہے، انہوں نے کہا کہ کیا جے آئی ٹی کو یا پولیس کو معلوم نہیں کہ قاتل کون ہیں؟ اس میں شناختی پریڈ کی کیا ضرورت ہے، ڈیوٹی پر کون لوگ تھے کیا محکمہ کے افسروں کو معلوم نہیں ہیں۔ مقتول خلیل کے بھائی جلیل نے اپنا موقف دہرایا کہ قائمہ داخلہ کمیٹی کو جوڈیشل کمیشن قائم کرنے کیلئے اپنی سفارشات پیش کر دی ہے جب کمیشن تشکیل پائے گا تو وہ پیش ہونگے، مقتول خلیل کے بھائی کا موقف درست ہے کہ محکمہ کو معلوم ہے کہ ڈیوٹی پر اس سانحہ کے موقع پر کون لوگ معمور تھے، ادھر ایک اور مقتول ذیشان جس کو پنجاب حکومت مبینہ طور پر دہشتگرد قرار دے رہی ہے کی ماں کا کہنا ہے کہ ’’اگر میرا بیٹا دہشتگرد تھا تو مارا کیوں؟ اسے زندہ گرفتار کیوں نہیں کیا؟ انڈیا کے جاسوس کو زندہ گرفتار کر لیا، تو کیا میرے بیٹے کو زندہ نہیں پکڑ سکتے تھے؟‘‘، ’’میرے گھر جاکر دیکھیں ہمارا حال کیا ہوا ہے؟‘‘، ’’ہم کھاتے ہیں، پیتے ہیں، روتے ہیں، ہماری ایک بچی ہے، اُسے لوگ کیا کہیں گے کہ تم دہشتگرد کی بیٹی ہو؟ مجھے کہیں گے کہ تم دہشتگرد کی ماں ہو، برائے مہربانی آپ نے جو یہ (دہشتگرد کا) لیبل لگایا ہے، اسے ہٹا دیں، ہمیں کسی اور چیز کی ضرورت نہیں، میں رات کو سوتی ہوں تو مجھے ڈر لگتا ہے‘‘، یہ دہائی ساہیوال پولیس مقابلے میں ہلاک ہونیوالے ذیشان جاوید کی ضعیف اور معذور والدہ نے گزشتہ منگل کو اسلام آباد میں سینیٹ کی قائمہ کمیٹی کے سامنے دی تو وہاں مکمل خاموشی چھا گئی۔ جی ہاں یہ سوال عوام کی جانب سے بھی پوچھا جا رہا ہے کہ یہ کیسا دہشتگرد تھا جو لاہور کے ایک محلے میں گزشتہ تین دہائیوں سے رہائش پذیر تھا جس کے ہمسائے اور رشتہ دار اُس کے اچھے کردار کی تعریف کرتے ہیں۔ یہ کیسا آپریشن تھا جس میں ذیشان کو دہشتگرد قرار دیکر سب سے پہلے اُسے مارنے کا حکم دیا گیا اور اس حکم کی تعمیل میں تین معصوم جانوں کو بھی اس لئے بیدردی سے قتل کر دیا گیا کہ وہ اُس گاڑی میں سوار تھیں جسے ذیشان چلا رہا تھا۔ مرنے والی تیرہ سالہ اریبہ کو پہلے گاڑی سے باہر نکالا گیا لیکن پھر اندر دھکیل کر گولیوں کی بوچھاڑ کر کے اُس کو اُس کے ماں باپ کیساتھ موت کے گھاٹ اتار دیا گیا۔ گولیاں تو اس ظالمانہ کارروائی میں بچ جانے والے اریبہ کے چھوٹے بھائی اور بہنوں کو بھی لگیں۔ کوئی سی ٹی ڈی اور انٹیلی جنس رپورٹ دینے والوں کو پوچھنے والا ہے کہ اگر ذیشان دہشتگرد تھا یا اُس کا دہشتگردوں سے تعلق تھا تو اُسے پکڑا کیوں نہ گیا جو بات ذیشان کی والدہ نے کی، اُس کی گواہی تو تحریک انصاف کی خاتون ایم این اے عندلیب عباس نے بھی دی۔ عندلیب کا کہنا تھا کہ ذیشان کی والدہ کا اُن کے ہاں آنا جانا تھا، ذیشان اُن کے بچوں کی طرح تھا اور وہ ان کے بچوں کیساتھ ہی کھیلتا تھا۔ عندلیب نے کہا کہ ایک تو آپ کا بچہ مارا جائے اور اوپر سے بغیر تحقیق کے یہ کہا جائے کہ وہ دہشتگرد تھا۔ جے آئی ٹی کی رپورٹ آنے سے پہلے کیسے کسی کے بچے کو دہشتگرد قرار دیا جا سکتا ہے؟ عندلیب نے یہ بھی کہا کہ وہ ذیشان کی فیملی کیلئے انصاف کی فراہمی یقینی بنائیں گی مگر حکومتی وزراء تو اب بھی وہی کہانی دہرا رہے اور اس بات پر بضد ہیں کہ ساہیوال آپریشن درست تھا۔ ادھر ایڈیشنل سیکرٹری داخلہ کی قائمہ کمیٹی کیساتھ اس سانحہ کے بارے میں جو مکالمہ ہوا وہ کچھ اس طرح تھا کہ جس سے اس امر کی صاف بو آرہی تھی کہ سیکریٹری حقائق کو چھپانے کی سعی بد کر رہا ہے۔ سانحہ کے بارے میں سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق کے سامنے ایڈیشنل سیکریٹری داخلہ نے اعتراف کیا کہ دہشتگردی کی بڑی کارروائی کا خدشہ تھا، ممکنات پر کارروائی کی، تسلیم کرتے ہیں کہ غلط کیا گیا۔ چیئرمین کمیٹی سینیٹر مصطفیٰ نواز کھوکھر نے فضیل اصغر کے اعتراف پر کہا کہ بچے نے بیان میں کہا کہ اس کے والد نے پیسے بھی آفر کئے، اگر اس کی بات درست ہے تو آپ کا بیان غلط ہے۔ ایڈیشنل سیکریٹری داخلہ پنجاب فضیل اصغر نے ساہیوال میں والدین اور بہن کا قتل دیکھنے والے بچے کا بیان غلط اور صدمے کا نتیجہ قرار دیا۔ یہ سن کر سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق کے چیئرمین مصطفیٰ نواز کھوکھر ایڈیشنل سیکریٹری داخلہ پنجاب فضیل اصغر کے جواب پر برس پڑے۔ جس پر کمیٹی کے رکن بیرسٹر محمد علی سیف نے کہا کہ بچے کے بیان کو اتنا ہلکا نہ لیں، واقعے کے فوراً بعد آنے والے بیان کی قانونی حیثیت بہت زیادہ ہے۔

(باقی صفحہ 7)

متعلقہ خبریں