Daily Mashriq


پی آئی اے کے دو بدقسمت طیارے جو کھڑے کھڑے ’کھنڈر‘ بن گئے

پی آئی اے کے دو بدقسمت طیارے جو کھڑے کھڑے ’کھنڈر‘ بن گئے

پاکستان کی قومی فضائی کمپنی پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز نے چار طیاروں کے لیے بولی کا اشتہار شائع کیا ہے مگر پی آئی اے کے بیڑے میں اتنے طیاروں کی موجودگی میں چار طیارے کیوں درکار ہوں گے؟

اس اشتہار کے ذریعے پی آئی اے چار نیرو باڈی ( narrow body) یعنی مختصر سے درمیانے فاصلے تک پرواز کرنے والے چار طیارے کم از کم چھ مہینے کے لیے حاصل کرنے کی خواہشمند ہے۔

پی آئی اے میں طیارے ویٹ لیز یا مختصر مدت کے لیے حاصل کرنے کے سلسلے میں تیزی مسلم لیگ نواز کے دورِ حکومت میں آئی جب ریکارڈ تعداد میں طیارے ویٹ اور ڈرائی لیز پر حاصل کیے گئے ۔

یہ وہی دور ہے جس میں پی آئی اے میں رنگ برنگے طیارے چھ مہینے کے لیے شامل کیے جاتے رہے، کبھی ترکی کی پگاسس ایئر لائنز کے پیلے طیارے اور کبھی ویتنام کی وئیت جیٹ کے لال طیارے ۔

مگر پھر یہ سلسلہ رک گیا اور تقریباً ایک سال کے وقفے کے بعد ایک بار پھر پی آئی اے نے ٹینڈر جاری کیا ہے اور چار طیارے حاصل کرنے کی خواہش کا اظہار کیا ہے۔’

اس میں سب سے تشویشناک بات یہ ہے کہ پی آئی اے اپنے یا ڈرائی لیز (طویل مدت کے لیے کرائے پر لیے گئے طیارے ) جو مختلف وجوہات کی بنیاد پر کھڑے ہیں ان کے مسائل حل کرنے کی بجائے مزید پیسہ خرچ کر کے یہ طیارے کرائے پر حاصل کرتی رہی ہے۔

ویٹ لیز پر مزید پیسے خرچ ہوتے ہیں اور پی آئی اے کھڑے طیارے کا کرایہ بھی بغیر کسی آمدن کے ادا کر رہی ہوتی ہے۔

کتنے طیارے کھڑے ہیں؟

پی آئی اے کا ایک بوئنگ 777 طیارہ AP-BHV گذشتہ تقریباً ایک سال سے کھڑا ہے۔ ابتدا میں انجن نہ ہونے کی وجہ سے یہ طیارہ کھڑا ہوا مگر اب حالات یہ ہیں کہ دو بار رقم کی فراہمی کے باوجود یہ طیارہ کھڑے کھڑے کھنڈر بن چکا ہے۔ جہاں ایک سال قبل اس کے انجن لگانے اور چند دوسرے چیکس سے طیارہ قابلِ پرواز ہو سکتا تھا اب اس پر دگنا بلکہ بعض اندازوں کے مطابق تین گنا خرچ کر کے ہی یہ اڑنے کے قابل ہو گا۔ شنید ہے کہ اب اس کی سنی گئی ہے مگر یہ کب پرواز کرے گا اس بارے میں حتمی طور پر اب تک کوئی اطلاع نہیں ہے۔ کیونکہ اس طیارے کے بڑی تعداد میں پرزے اتارے جا چکے ہیں۔

دو ایئربس اے تھری ٹوئنٹی طیارے کھڑے ہیں ( AP-BLA ، AP-BLV)جن کے انجن نہیں ہیں۔ AP-BLAکے پرزے لگا کر AP-BLB قابل پرواز بنایا گیا اور اب AP-BLA کھڑا رہے گا اور پی آئی اے اس پر کروڑوں روپے ماہانہ کرایہ ادا کرتی رہے گی۔ انھیں طیاروں کی کمی پوری کرنے کے لیے چار اور طیارے اس ٹینڈر کے نتیجے میں حاصل کیے جائیں گے جن کا کرایہ علیحدہ سے ادا کیا جائے گا۔

پی آئی اے کے دو اے ٹی آر طیارے کھڑے ہیں جو دونوں ڈرائی لیز پر ہیں جن کا کروڑوں روپے کرایہ پی آئی اے ماہانہ طور پر ادا کر رہی ہے۔ تکنیکی مینٹیننس کی مد میں ادائیگی علیحدہ ہے۔ ایک طیارہAP-BKZ صرف ایک معمولی پرزے کی کمی کی وجہ سے گراؤنڈ کیا گیا اور پھر نہیں اڑ سکا۔ ایک اور طیارے  AP-BKW دونوں طیاروں کے انجن درکار ہیں اور ان میں تکنیکی مسائل بھی موجود ہیں۔

پی آئی اے کا اپنا ایک اے ٹی آر طیارہ AP-BHN مکمل طور پر ناکارہ ہو چکا ہے جس کی بنیادی وجہ یہی ہے کہ جب اسے تکنیکی چیک کے لیے گراؤنڈ کیا گیا تو اس کے پرزے دوسرے طیاروں پر استعمال ہونا شروع ہوئے اور باقی طیاروں کو قابلِ پرواز رکھنے کے چکر میں ایک پورا طیارہ ناکارہ ہو گیا۔ پی آئی اے کی گذشتہ انتظامیہ نے جب اس کا جائزہ لیا تو یہ فیصلہ ہوا کہ جتنے پیسے اس کو چلانے پر لگیں گے اس سے بہتر ہے نیا طیارہ لے لیا جائے یوں پی آئی اے کے ہینگر میں یہ طیارہ سالوں سے ناکارہ کھڑا ہے۔ یوں بقول پی آئی اے کے ایک اہلکار کےطیارے کھانے والی بلا‘ اس طیارے کو نگل گئی۔

طیارے ویٹ لیز پر کیوں لیے جاتے ہیں؟

طیارے ویٹ لیز پر اس لیے حاصل کیے جاتے ہیں تاکہ کسی غیر معمولی ضرورت کے وقت طیاروں کی کمی نہ ہو۔ جیسا کہ حج کے دنوں میں سعودی عرب ایک مہینے کے اندر اندر ایک لاکھ کے قریب مسافر سفر کرتے ہیں۔

دوسرا ایئرلائن اپنے طیاروں کی دیکھ بھال کے سلسلے میں انھیں گراؤنڈ کرتی ہے تو اس کمی کو پورا کرنے کے لیے بعض اوقات طیارے حاصل کیے جاتے ہیں۔

مگر پی آئی اے میں ایسا کیوں ہوتا ہے؟

پی آئی اے کے ایک سابق سینیئر اہلکار کے مطابق پی آئی اے کے معاملے میں دو بڑے مسائل ہیں۔

ایک انجنیئرنگ میں سرمایہ کاری کا فقدان اور دوسرا پی آئی اے میں مالیاتی ڈسپلن کا نہ ہونا۔ پی آئی اے میں ایسا کوئی نظام نہیں ہے جس کے تحت اس بات کا قبل از وقت تعین کیا جا سکے کہ اگر ایک طیارہ سی چیک ( جو کم از کم دو ہفتے کا ہوتا ہے) کے لیے جاتا ہے تو اسے بروقت واپس لایا جائے۔ پی آئی اے میں مالیاتی ڈسپلن کی کمی کی وجہ سے پیسے نہیں ہوتے کہ اگر ایک انجن کو بدلنا ہے تو اسے خریدا جا سکے۔

تو در حقیقت یہ ہوتا ہے کہ ایک طیارہ جب مثال کے طور پر سی چیک کے لیے آتا ہے تو وہ مہینوں کھڑا رہتا ہے اس انتظار میں کہ اس کے پرزے خریدے جا سکیں یا اگلا طیارہ آئے تو اس کے پرزے نکال کر انھیں اس کھڑے طیارے پر لگا کر اسے فعال کیا جائے۔

پی آئی اے کے بوئنگ ٹرپل سیون یا اے تھری ٹوئنٹی کی مثال ہی لے لیں جس کے دو انجن درکار تھے جن کی قیمت اس سارے سال کی لیز کے پیسوں سے کم ہے جس کے عدم دستیابی کی وجہ سے اسے کھڑا رکھا گیا۔

طیارے ویٹ لیز پر لینے کے معاملے میں بدعنوانی کے الزامات بھی لگتے رہے ہیں۔ مثال کے طور پر پی آئی اے نے ویئت جیٹ سے چار ایئر بس اے تھری ٹوئنٹی طیارے حاصل کیے جن کا ماہانہ بل ان طیاروں سے بہت زیادہ تھا جو نجی ایئر لائن ایئر بلو نے لیا۔ یاد رہے کہ ایئر بلو نے جو طیارے حاصل کیے وہ تین سے چار سال پرانے تھے جبکہ پی آئی اے نے جو طیارے حاصل کیے ان کی عمر سات سال تھی۔ کیا ان کی شرائط مختلف تھیں یا واقعی بدعنوانی کا عنصر شامل تھا؟

پی آئی اے کے ایک سابق سربراہ نے بتایا 'چونکہ انجنیئرنگ یا فنانس کا کوئی احتساب نہیں تو اگر کوئی ایک بل پر بیٹھا ہوا ہے تو کوئی اس سے نہیں پوچھے گا کہ اتنی دیر کس بات کی لگ رہی ہے۔ یا اگر ایک طیارہ مہینوں سے ہینگر میں کھڑا ہے تو کوئی نہیں پوچھے گا کہ کیوں کھڑا ہے؟ تو جہاں کام دو ہفتے میں ہونا ہوتا ہے وہی کام دو مہینوں میں نہیں ہو پاتا۔'

انھوں نے کہا کہ جب کوئی پوچھ گچھ نہیں ہو گی تو پھر تاخیر ہونا معمول کی بات ہے۔

حیرت انگیز بات یہ ہے کہ گذشتہ سال پی آئی اے کے سابق سی ای او نے طیارے ویٹ لیز پر لینے سے انکار کیا تو ان کے خلاف پی آئی اے کی سی بی اے نے بیانات دیے جس کا اس سارے معاملے سے کوئی لینا دینا نہیں۔

اس کا مستقل حل کیا ہو سکتا ہے؟

دنیا بھر میں ایئر لائنز مختلف روٹس پر ٹریفک میں اتار چڑھاؤ کے حساب سے طیارے بدلتی رہتی ہیں۔ مسافروں کی مانگ میں اضافے کی صورت میں اکثر ایئر لائنز بڑے طیارے لگاتی ہیں اور مانگ کم ہوتے ہیں چھوٹے طیاروں کا استعمال کرتی ہیں یا پروازوں کی تعداد کم کرتی ہیں۔

گذشتہ سال پی آئی اے نے حج آپریشن اور دوسری سروسز کے لیے طیارے ویٹ لیز پر حاصل نہیں کیے جس کے لیے بنیادی طور پر شیڈول میں تبدیلیاں کر کے اس بات کو یقینی بنایا گیا کہ تمام تر طیارے فعال رہیں اور پروازوں میں تبدیلی کے ساتھ ساتھ شیڈول میں بہتری لا کر اس ہدف کو حاصل کیا گیا۔

بقول ایک سابق اہلکار ’ پی آئی اے میں موجود طیارے کھانے والی بلا (plane cannibal) کو جب تک نہیں قابو کیا جائے گا تب تک یہ سلسلہ گھوم پھر کر اسی جگہ لاتا رہے گا۔‘

متعلقہ خبریں