Daily Mashriq


 ساہیوال ہلاکتیں: لواحقین کو جے آئی ٹی کیوں منظور نہیں؟

ساہیوال ہلاکتیں: لواحقین کو جے آئی ٹی کیوں منظور نہیں؟

پاکستان کے شہر ساہیوال میں پیش آنے والی ہلاکتوں کی تفتیش کرنے والی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم یعنی جے آئی ٹی گزشتہ دو روز سے متاثرہ خاندان کے لواحقین کو ملزمان کی شناخت پریڈ کے لیے طلب کر رہی ہے مگر وہ اس قانونی عمل کا حصہ بننے سے گریزاں ہیں۔

گزشتہ ماہ پیش آئے واقعے میں ایک گاڑی پر کاؤنٹر ٹیررزم ڈیپارٹمنٹ پنجاب کے اہلکاروں کی فائرنگ سے ایک خاتون اور بچی سمیت چار افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

اس واقعہ میں تین بچے زندہ بچ گئے تھے جن میں سے دو زخمی ہوئے تھے۔

ہلاک ہونے والے مہر خلیل کے بھائی مہر جلیل نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ انھیں ’ جے آئی ٹی کی طرف سے کی جانے والی تفتیش پر نہ تو اعتبار ہے اور نہ ہی اس کی تحقیقاتی رپورٹ کو قبول کریں گے۔‘

’ہم چاہتے ہیں کہ اس سانحے کی تفتیش عدالتی کمیشن کے ذریعے کروائی جائے۔ یہ (پولیس) خود ہی مارنے والے ہیں، یہ کیا تفتیش کریں گے؟‘

مہر جلیل نے مزید کہا کہ انھوں نے اپنے وکیل کے ذریعے عدالتی کمیشن بنانے کے لیے لاہور ہائی کورٹ میں درخواست دائر کر دی ہے۔

مہر جلیل ان افراد میں شامل ہیں جنہیں شناخت پریڈ کے لیے ساہیوال بلایا جا رہا تھا، مگر وہ نہیں گئے اور ان کے بقول نہ ہی وہ جانے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

شناخت پریڈ کے لیے کیوں نہیں جاتے؟

مہر جلیل کی اس حوالے سے انتہائی سادہ سی دلیل ہے: وہ واقعے کے وقت موقع پر موجود ہی نہیں تھے۔

موقع کے گواہان اور اس واقعے میں بچ جانے والے تین بچوں کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ ’سہمے ہوئے بچے کیا شناخت کریں گے؟ اسے موقعے پر تو اچھے سے اچھا شخص ہواس باختہ ہو جاتا ہے۔‘

’ہماری تو شناخت پریڈ بنتی ہی نہیں ہے۔ یہ تو محکمہ شناخت کر کے بتائے گا نا۔ جب وہ (سی ٹی ڈی پنجاب کے اہلکار) آپریشن کے لیے گئے ہیں تو وہ کون کون لوگ تھے؟ یہ محکمہ بتائے گا۔‘

جمعرات کے روز مجسٹریٹ کے سامنے شناخت پریڈ کے لیے پیش ہونے کا دوسرا دن تھا، تاہم اسی روز مہر جلیل نے عدالتی کمیشن کے لیے لاہور ہائی کورٹ سے رجوع کرنے کا فیصلہ کیا۔

اسی روز مقامی ذرائع ابلاغ پر ’ذرائع‘ کے حوالے سے نشر ہونے والی ایک خبر کے مطابق جے آئی ٹی نے سی ٹی ڈی پنجاب کے گرفتار اہلکاروں کے بیانات قلم بند کر لیے ہیں۔

خبر کے مطابق اپنے بیانات میں اہلکاروں نے مبینہ طور پر یہ موقف اپنایا ہے کہ انھوں نے گاڑی پر پہلے گولی نہیں چلائی۔

گرفتار اہلکاروں نے بیانات میں کہا ہے کہ انہوں نے محض جوابی فائرنگ کی تھی اور نا ہی انہیں کسی کی جانب سے فائرنگ کرنے کے احکامات نہیں دیے گئے تھے۔

اہلکاروں کے موقف کے مطابق گاڑی میں سوار افراد اپنے نامعلوم موٹر سائیکل سوار ساتھیوں، جو کہ بعد میں موقع سے فرار ہو گئے، کی فائرنگ سے ہلاک ہوئے۔

تاہم جے آئی ٹی یا حکومتِ پنجاب کی جانب سے اس خبر کی تصدیق یا تردید سامنے نہیں آئی ہے۔

بی بی سی نے اس حوالے سے جے آئی ٹی کا موقف جاننے کی کوشش کی مگر ان کی جانب سے کوئی جواب نہیں ملا۔

لواحقین کے خدشات

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جلیل اور دیگر لواحقین کو جے آئی ٹی کی تفتیش کے حوالے سے اس قدر خدشات کیوں ہیں؟

بظاہر اس کی وجہ وہ خبریں ہیں جو جاری تفشیش کے حوالے سے اب تک سامنے آئی ہیں۔

حکومتِ پنجاب یا جے آئی ٹی کی طرف سے تفتیش سے اب تک کی ہونے والی تحقیقات کے حوالے سے از خود کوئی بریفنگ نہیں دی گئی۔

سی ٹی ڈی پنجاب کے گرفتار اہلکاروں کے بیانات کی حالیہ خبر کے بعد جلیل اور دیگر لواحقین کو خدشہ ہو سکتا ہے کہ بچوں اور موقع پر موجود نہ ہونے والے افراد سے شناخت پریڈ کروا کر جے آئی ٹی ملزمان کو بچانا چاہتی ہے۔

لواحقین اس خدشے کا اظہار بھی کر چکے ہیں۔

ابتدائی تفشیش کے بعد ہلاک ہونے والے مہر خلیل، ان کی اہلیہ اور 13 سالہ بیٹی اریبہ کو معصوم قرار دیا گیا ہے

خیال رہے کہ حکومتِ پنجاب نے سانحہ ساہیوال کی تحقیقات کے لیے پانچ رکنی جے آئی ٹی تشکیل دی تھی۔ اس کی ابتدائی رپورٹ پر حکومتِ پنجاب نے اس بات کا اعتراف کیا تھا کہ ’مرنے والوں میں مہر خلیل، ان کی اہلیہ اور 13 سالہ بیٹی معصوم تھے۔‘

جبکہ گاڑی کے ڈرائیور ذیشان جاوید کے بارے میں ’داعش کے خطرناک دہشت گرد گروہ کا حصہ ہونے‘ کا الزام لگایا گیا تھا۔

اسی رپورٹ کے بعد سی ٹی ڈی کے پانچ اہلکاروں کو گرفتار کرنے اور ان کے خلاف انسدادِ دہشت گردی عدالت میں مقدمہ چلانے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔

اس کے بعد بھی محکمہ داخلہ پنجاب کم از کم دو مواقع پر اعتراف کر چکا ہے کہ ساہیوال میں سی ٹی ڈی کا یہ آپریشن ’ناقص منصوبہ بندی‘ کا نتیجہ تھا جس میں ’معصوم انسانی جانوں کا ضیاع‘ ہوا۔

’یہ تو ثبوت مٹا رہے ہیں‘

اس سے قبل مقامی ذرائع ابلاغ پر گزشتہ کئی روز سے یہ خبریں بھی سامنے آتی رہی ہیں کہ واقع کی فرانزک انکوائری کرنے والی پنجاب فرانزک سائنس ایجنسی لاہور کو جے آئی ٹی کی جانب سے نامکمل شواہد فراہم کیے گئے تھے۔

ان میں دیگر شواہد کے ساتھ جائے وقوع سے ملنے والے گولیوں کے خول اور فائرنگ میں استعمال ہونے والی بندوقوں کا تذکرہ شامل تھا۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے اس سوال کے جواب میں کہ وہ جے آئی ٹی کے سامنے کیوں پیش نہیں ہونا چاہتے، مہر جلیل کا کہنا تھا کہ انھیں اُس پر اعتماد نہیں۔

’اتنا وقت گزر گیا انھوں نے اب تک شواہد پورے نہیں کیے۔ یہ تو شواہد مٹا رہے ہیں۔ اُن میں رد و بدل کر رہے ہیں۔ دیکھیں نا اب تک بندوقیں بھی پیش نہیں کی گئیں۔‘

تاہم اس حوالے سے پنجاب فرانزک سائنس ایجنسی لاہور کے حکام نے بی بی سی کو بتایا کہ ’جائے وقوع سے ملنے والی گولیاں یا ان کے خول آ چکے ہیں۔ بندوقیں بھی آ جائیں گے، ان کی تاخیر سے آنے سے زیادہ فرق نہیں پڑتا۔‘

ان کا کہنا تھا کہ اپنی فرانزک رپورٹ یا سائنسی تجزیے میں وہ ایسے تمام سوالوں کے جواب دے پائیں گے جن سے یہ پتہ چلانے میں مدد ملے گی کہ ’گولیاں کس نے چلائیں، کس زاویے سے چلائی گئیں اور کس کی گولیوں سے گاڑی میں سوار افراد ہلاک ہوئے۔‘

’ہماری کسی سے دشمنی نہیں، ہمیں انصاف چاہیے‘

پانچ رکنی جے آئی ٹی کی سربراہی پنجاب کے ایڈیشنل انسپکٹر جنرل اسٹیبلشمنٹ اعجاز حسین شاہ کر رہے ہیں اور اس میں آئی ایس آئی اور ملٹری انٹیلی جنس کے دو ممبران بھی شامل ہیں۔

واقعے کی ابتدائی رپورٹ حکومتِ پنجاب کو دینے کے بعد جے آئی ٹی کی طرف سے جامع تحقیقات کے لیے مزید وقت مانگا گیا تھا جس کی اجازت دے دی گئی۔ اس کے بعد سے جے آئی ٹی کے ممبران ساہیوال میں جائے وقوع کے کئی دورے کر چکے ہیں۔

اس دوران عینی شاہدین کے بیانات بھی قلم بند کیے گئے تھے اور موقع سے شواہد بھی اکٹھے کیے گئے۔ پولیس حکام اور حکومتِ پنجاب اس بات کا عندیہ دے چکے ہیں کہ جے آئی ٹی کو تحقیقات مکمل کرنے میں 30 دن کا عرصہ لگ سکتا ہے۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے مہر جلیل کا کہنا تھا کہ انہیں جے آئی ٹی کی اب تک کی کارروائی پر اعتماد نہیں۔ ’یہ زیادتی کر رہے ہیں۔ جے آئی ٹی نے ہم سےکوئی رابطہ نہیں کیا، ہمیں اعتماد میں نہیں لیا جا رہا۔‘

انھوں نے کہا کہ ’ہم تو چاہتے ہیں ہمیں انصاف ملے، ہماری کسی سے کوئی دشمنی تو نہیں۔‘

عدالتی کمیشن

جمعہ کے روز ساہیوال میں شناخت پریڈ میں شریک ہونے کی مزید ایک تاریخ رکھی جائے گی جو آخری ہو سکتی ہے۔ قانونِ شہادت کے مطابق شناخت پریڈ میں زیادہ تاخیر نہیں ہونی چاہیے اور اس کے لیے بہترین وقت وقوعہ سے سات روز کے اندر کا مانا جاتا ہے۔

شناحت پریڈ کے لیے جے آئی ٹی کے ایک رکن نے ساہیوال میں مجسٹریٹ کو درخواست دے رکھی تھی۔ تاہم مہر جلیل نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ شناخت پریڈ کے لیے جانے کا ’ارادہ نہیں رکھتے۔‘

وہ عدالتی کمیشن کا قیام چاہتے ہیں۔ سانحہ ساہیوال کی تحقیقات کے لیے عدالتی کمیشن کے لیے لاہور ہائی کورٹ میں پہلے بھی ایک درخواست دائر ہو چکی ہے جس پر سماعت کے لیے عدالت نے دو رکنی بنچ قائم کر رکھا ہے۔ عدالت نے 4 فروری کو جے آئی ٹی کو بھی طلب کر رکھا ہے۔

تاہم جوڈیشل کمیشن کا قیام وفاقی حکومت کی صوابدید پر ہے۔ سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کے مطابق وہ بھی کمیشن کے قیام کے لیے وزیرِ اعظم کو خط لکھ چکے ہیں۔

جمعرات کی رات اسلام آباد میں وزیرِ اعظم سے ملاقات سے واپسی پر مقامی ذرائع ابلاغ سے بات کرتے ہوئے پنجاب کے وزیرِ اعلٰی سردار عثمان بزدار کا کہنا تھا کہ ان کے خیال میں ’تاحال کمیشن کے قیام کی ضرورت نہیں۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’ جے آئی ٹی اپنا کام کر رہی ہے۔ دو روز میں ان سےاس حوالے سے بریفنگ لیں گے۔ اہلکاروں کی گرفتاری پہلے ہی عمل میں لائی جا چکی ہے۔‘

متعلقہ خبریں