Daily Mashriq

طاہرالقادری کی آل پارٹیز کانفرنس کا اعلامیہ

طاہرالقادری کی آل پارٹیز کانفرنس کا اعلامیہ

پاکستان عوامی تحریک کی کال پر منعقد ہونیوالی آل پارٹیز کانفرنس نے سانحہ ماڈل ٹاؤن کی ذمہ داری پنجاب حکومت اور مسلم لیگ ن پر ڈالتے ہوئے پنجاب کے وزیراعلیٰ اور وزیر قانون رانا ثناء اللہ کو7 جنوری تک استعفیٰ دینے کی مہلت دی ہے اور کہا ہے کہ اگر ان دونوں نے مقررہ مدت کے اندر استعفے نہ دیئے تو8 جنوری کو اس کانفرنس کا ایک اور اجلاس ہوگا جس میں آئندہ کا لائحہ عمل طے کیا جائیگا۔ عوامی تحریک کے علامہ طاہرالقادری نے اس سے پہلے پنجاب کے وزیراعلیٰ اور وزیر قانون سے یکم جنوری تک استعفیٰ دینے کا مطالبہ کیا تھا۔ آل پارٹیز کانفرنس میں اپوزیشن پارٹیوں کی ایک بڑی تعداد نے شرکت کی۔ علامہ طاہرالقادری نے کانفرنس سے خطاب کے دوران کہا کہ ان پارٹیوں کی تعداد چالیس ہے۔ ان میں پیپلز پارٹی اور تحریک انصاف کی بیک وقت موجودگی توجہ کا مرکز رہی جو ملکی سیاست میں ایک دوسرے کی شدید ناقد ہیں۔ یہ بات بھی کانفرنس سے پہلے گفتگوؤں کا موضوع رہی ہے کہ 2014ء کے دھرنے میں عوامی تحریک کے سربراہ طاہرالقادری نے پیپلز پارٹی پر کڑی تنقید کی تھی جب پیپلز پارٹی کی حکومت تھی۔ دوسری پارٹیوں کا بھی ملک کی سیاست میں اپنا اپنا نقطۂ نظر ہے۔ تاہم علامہ طاہرالقادری نے کانفرنس سے خطاب میں وضاحت کی ہے کہ یہ سانحہ ماڈل ٹاؤن کے بے گناہ شہیدوں کا خون ہے جس نے تمام پارٹیوں کو ان کے سیاسی نقطۂ نظر کے اختلاف کے باوجود انصاف کے مطالبہ پر یکجا کر دیا ہے۔ کانفرنس کے اختتام پر دس نکاتی اعلامیہ میں وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف اور ان کے وزیر قانون رانا ثناء اللہ کے استعفے کے 7 جنوری تک مطالبے کے علاوہ چیف جسٹس پاکستان سے کہا گیا ہے کہ وہ سانحہ ماڈل ٹاؤن کا ازخود نوٹس لیں اور اس سانحہ کے غیر جانبدارانہ تحقیقات کیلئے غیرجانبدار جے آئی ٹی قائم کریں۔ تاہم اہم ترین مطالبات دو ہیں جن کا ذکر اعلامئے کے پہلے نکتے میں کیا گیا ہے جس میں سانحہ ماڈل ٹاؤن کیساتھ ساتھ ختم نبوتؐ قانون میں تبدیلی کی مذمت کی گئی ہے۔ ختم نبوتؐ کے قانون میں تبدیلی (جو بعد ازاں واپس لے لی گئی) اور سانحہ ماڈل ٹاؤن دو ایسے ایشوز ہیں جن پر پاکستان کے عوام کا عمومی اتفاقِ رائے ہے اور ان پر کوئی سمجھوتہ ممکن نہیں ہے۔ آل پارٹیز کانفرنس میں ان دونوں معاملات پر عدل کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ ان کے ذمہ داروں کو مثالی سزا دی جائے۔ ماڈل ٹاؤن لاہور میں علامہ طاہر القادری کے گھر پر پولیس کا آپریشن ساڑھے پانچ گھنٹے تک جاری رہا جس میں پولیس نے وہاں پر موجود لوگوں پر فائرنگ کی‘ آنسو گیس کے گولے برسائے اور ان پر جسمانی تشدد کیا جس کے نتیجے میں خواتین سمیت 14افراد جاں بحق ہوئے اور ایک سو کے قریب لوگوں کو ٹانگوں کے اوپر کے حصے پر زخم آئے جس سے کچھ لوگ معذور بھی ہوگئے۔ یہ پولیس گردی کی بدترین مثال ہے اس پر وزیراعلیٰ شہباز شریف اور رانا ثناء اللہ کا یہ موقف کسی صورت تسلیم نہیں کیا جا سکتا کہ انہیں اس واقعے کا علم ہی نہیں ہو سکا حالانکہ ٹی وی سکرینوں پر سارا پاکستان گھنٹوں تک اس آپریشن کو دیکھتا رہا اور وزیراعلیٰ کا گھر بھی ماڈل ٹاؤن لاہور میں واقع ہے۔ حکومت نے جس طرح اس سانحے کو سوچی سمجھی تاخیر کے ذریعے یاداشتوں سے محو کرانے کی کوشش کی ہے وہ سب پر ظاہر ہے۔ اس سانحہ کی تحقیقاتی رپورٹ کی اشاعت میں طرح طرح کی رکاوٹیں کھڑی کی گئیں حتیٰ کہ جسٹس باقر نجفی کی رپورٹ ساڑھے تین سال بعد جاری ہو سکی۔ یہ تمام واقعات پنجاب حکومت کے عدل کی راہ میں حائل ہونے کی طرف واضح اشارہ کرتے ہیں۔ اب کہا جا رہا ہے کہ وزیراعلیٰ پنجاب اور ان کے وزیر قانون یہ بیان حلفی دینے کو تیار ہیں کہ یہ واقعہ پہلے سے منصوبہ بندی کا نتیجہ نہیں تھا جبکہ باقر نجفی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایک دن پہلے ایک اعلیٰ سطحی کانفرنس اسی موضوع پر منعقد ہوئی تھی۔ فرض کیجئے منصوبہ بندی کے حوالے سے شہبازشریف اور رانا ثناء اللہ اس گھناؤنے قتال کے ذمہ دار نہیں تھے تو ساڑھے پانچ گھنٹے تک اس سانحہ کی ٹی وی کوریج کے دوران وہ اپنی ذمہ داری کے طور پر اس آپریشن کو روکنے کا حکم دے سکتے تھے جو وہ کہتے ہیں کہ دیا گیا تو پھر اس ساڑھے پانچ گھنٹے کی تاخیر کے معنی یہی نکلتے ہیں کہ آپریشن کے اتنی دیر جاری رہنے میں ان ذمہ دار اشخاص کی رضامندی شامل تھی۔ ان ساڑھے پانچ گھنٹوں کے دوران سانحہ کے مناظر سارے پاکستان میں دیکھے گئے یقیناً اسلام آباد میں بھی۔ وزیراعظم ہاؤس میں بھی اور وزارت داخلہ میں بھی۔ آج کے کمپیوٹر اور موبائل فون کے زمانے میں ساڑھے پانچ گھنٹے تک فائرنگ اور تشدد کا نوٹس نہ لیا جانا کسی طور پر بھی قابلِ یقین نہیں ہے۔ لہٰذا ارباب اختیار کی ذمہ داری بہرصورت نظر آتی ہے۔ اسی طرح ختم نبوتؐ کے قانون میں ترمیم کے واقعہ میں اگرچہ ترمیم یہاں تک نظر انداز ہوگئی کہ پارلیمنٹ سے پاس ہو کر قانون بن گئی تاہم جب یہ ترمیم واضح ہوگئی تو حکومت نے فوری طور پر واپس لے لی اور نئی ترمیم بھی تیار کر لی یعنی حکومت پر واضح ہوگیا کہ کسی نے اس حوالے سے سنگین غلطی کا ارتکاب کیا ہے۔ حکومت نے پرانا قانون بحال کر دیا۔ اس سے یہ ثابت ہوگیا کہ پرانے قانون میں کوئی سقم نہیں تھا جسے دور کرنے کیلئے ترمیم کی گئی۔ پرانا قانون بحال کرنے سے یہ ثابت ہوگیا کہ ترمیم نہ صرف غیر ضروری تھی بلکہ اس کے مقاصد کچھ اور تھے۔ تو پھر اس ترمیم کے شامل کئے جانے سے متعلق تحقیقات ضروری ہیں۔ یہ معلوم کرنا ضروری ہے کہ اس کے اصل مقاصد کیا تھے اور اس کے مرتکب افراد کو مثالی سزا دینا بھی ضروری ہے۔ سانحہ ماڈل ٹاؤن کے بارے میں رانا ثناء اللہ اب کہہ رہے ہیں کہ حکومت دیت دینے کیلئے تیار ہے۔ دیت دینے پر تیار ہونے کا مطلب یہ ہے کہ حکومت ذمہ داری قبول کر رہی ہے۔ اگر حکومت ذمہ داری قبول کر رہی ہے تو یہ وارثوں کا حق ہے کہ وہ دیت قبول کریں یا قصاص کا مطالبہ کریں۔ سانحہ ماڈل ٹاؤن کے وارث قصاص کا مطالبہ کر رہے ہیں، حکومت ذمہ داری قبول کر رہی ہے تو یہ معاملہ بہت آسان ہو جاتا ہے۔ اسلئے ماڈل ٹاؤن آپریشن کا حکم دینے والوں اور اس غیر قانونی حکم کے ماننے والوں کو قرار واقعی سزا دی جانی چاہئے جس طرح احمد رضا قصوری کے والد کے قتل کے مقدمے میں سزا دی گئی۔ سانحہ ماڈل ٹاؤن اور ختم نبوتؐ کے قانون میں ترمیم کے حوالے سے آل پارٹیز کانفرنس کا مشترکہ اعلامیہ ایک حوصلہ افزاء قرارداد ہے۔ اس کانفرنس کے انعقاد سے ان جماعتوں کی طرف سے عدل کیلئے ان کی کومٹ منٹ سامنے آتی ہے۔ علامہ طاہرالقادری نے کہا ہے کہ یکم جنوری کی ڈیڈلائن ان کی عوامی تحریک کی ڈیڈلائن تھی۔ اب کانفرنس میں شریک چالیس جماعتوں نے سانحہ ماڈل ٹاؤن کے شہیدوں کے انصاف کے مطالبے کی اونر شپ (ملکیت) حاصل کر لی یعنی اب انصاف کا مطالبہ محض عوامی تحریک کا نہیں اس کانفرنس میں شریک تمام جماعتوں کا مطالبہ ہے۔ کانفرنس میں شریک جماعتوںکا اپنا اپنا سیاسی ایجنڈا ہے جس کے آگے بڑھانے کیلئے ان کا اپنا اپنا طریقہ کار اور حکمت عملی ہے لیکن انصاف کیلئے ان جماعتوں کا یکجا اور متفق ہونا ان سب کی کومٹ منٹ کا اظہار ہے۔ امید کی جانی چاہئے کہ آل پارٹیز کانفرنس میں شریک جماعتیں ملک میں عدل وانصاف کی فراہمی کیلئے محض سانحہ ماڈل ٹاؤن یا ختم نبوتؐ کے قانون میں ترمیم کے حوالے سے نہیں بلکہ عدل وانصاف کی راہ میں حائل تمام رکاوٹیں دور کرنے کیلئے اپنی کومٹ منٹ کا اظہار کرتی رہیں گی۔ ان جماعتوں کو یہ احساس ہونا چاہئے کہ عوام نگران ہیں‘ وہ دیکھ رہے ہیں کہ قیادت کا کون دعویدار کیا کر رہا ہے۔ کل اگر یہ جماعتیں انصاف کے تقاضوں کیساتھ کھڑی نظر نہ آئیں تو عوام اس کا حساب لیں گے۔

متعلقہ خبریں