Daily Mashriq

فاٹا انضمام اور مولانا فضل الرحمان

فاٹا انضمام اور مولانا فضل الرحمان

موجودہ حکومت کی تشکیل دی گئی فاٹا اصلاحات کمیٹی نے کئی ماہ تک فاٹا کے مختلف طبقہ ہائے فکر سے ملاقاتوں اور مشاورت کے بعد جو سفارشات پیش کی تھیں ان کی روشنی میں فاٹا کے خیبر پختونخوا میں انضمام کا بل اسمبلی میں پیش ہونے کے بعد مؤخر ہوگیا ہے اور اس کا سبب جمعیت علمائے اسلام کے مولانا فضل الرحمان کا موقف رہا ہے۔ تقریباً تین سال کے عرصے میں وہ کہتے رہے کہ انضمام سے پہلے فاٹا میں ریفرنڈم کروا لیا جائے۔ سرتاج عزیز کمیٹی کی سفارشات میں بھی ریفرنڈم تجویز کیا گیا ہے لیکن بتدریج اصلاحات کے بعد جن میں سے اولین یہ ہے کہ پشاور ہائی کورٹ کا دائرہ اختیار فاٹا تک وسیع کر دیا جائے اور اس طرح انضمام کا عمل شروع ہو جائے۔ مولانا فضل الرحمان اس سارے عرصے میں پہلے صرف ریفرنڈم کرانے پر زور دیتے رہے ہیں۔ اب جب وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ چند روز میں فاٹا انضمام کا بل اسمبلی میں پیش کر دیا جائیگا، مولانا فضل الرحمان نے موقف اختیار کیا ہے کہ فاٹا پر یکطرفہ فیصلہ نافذ نہیں کیا جا سکتا اور یہ کہ فاٹا کو الگ صوبہ بنا دیا جائے حالانکہ اگر حکومت کا فاٹا کے انضمام کا فیصلہ بالفرض یکطرفہ ہے تو مولانا کی فاٹا کو الگ صوبہ بنانے کی تجویز بھی مولانا کی یکطرفہ تجویز ہے۔ مولانا یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ فاٹا کے عوام آزاد ہیں جبکہ پاکستان کا آئین اور فاٹا کے عوام اپنے آپ کو اور اپنے وطن کو پاکستان کا حصہ قرار دیتے ہیں۔ اگر مولانا فاٹا کے عوام کو آزاد کہتے ہیں تو پھر ان کا فاٹا کو الگ صوبہ بنانے کا مطالبہ بھی انہیں آزاد تصور نہیں کرتا یا پھر مولانا کو چاہئے کہ وہ یہ وضاحت کریں کہ فاٹا کے عوام کے آزاد ہونے سے ان کی کیا مراد ہے۔ فرض کیجئے فاٹا کو الگ صوبہ بنانے کی ان کی تجویز قبول کر لی جائے تو اس صورت میں بھی فاٹا میں پاکستان کا قانون نافذ کیا جائیگا جو پشاور ہائی کورٹ کا دائرہ اختیار فاٹا تک بڑھانے کی صورت میں ہوگا۔ مولانا اس بات کو نظر انداز کر رہے ہیں کہ ایک طرف ان کے بیانات سے مغالطے پھیل رہے ہیں دوسری طرف فاٹا کے جلد قومی دھارے میں لائے جانے میں تاخیر سے فاٹا کے عوام دہشت گردی کیخلاف جنگ کے ثمرات سے محروم ہو رہے ہیں۔

متعلقہ خبریں