Daily Mashriq

لڑ جاؤ اور کچھ کر دو

لڑ جاؤ اور کچھ کر دو

قوم نے ایک چیف جسٹس سے توقعات وابستہ کیں اور ان کی پشت پر کھڑی ہو گئی مگر انہوں نے وقت ضائع کیا اور کرنیوالا کام نہ کیا۔ آج وہ قصۂ ماضی بن گئے ہیں اور کوئی انہیں یاد نہیں کرتا کہ وہ کیسے آئی جی صاحبان کو کٹہرے میں لا کھڑا کرتے تھے اور انتظامیہ کو نکیل ڈالنے کیلئے انہوں نے کیسے از خود نوٹسز کی بھرمار کر رکھی تھی مگر کاغذی طور پر 2009ء کی جیوڈیشل پالیسی دینے کے علاوہ انہوں نے اپنی بحالی کے بعد ساڑھے چار سالوں میں عدلیہ کے انفراسٹرکچر کی بہتری اور عام آدمی کی انصاف تک رسائی یقینی بنانے کیلئے عملی طور پر کچھ نہ کیا۔ جیوڈیشل ایکٹوازم کی اگرچہ انہوں نے پاکستان میں بنیاد رکھی لیکن ان کے جانے کے بعد یہ اپنی موت آپ مر گیا ہے۔ جان مارشل کا جیوڈیشل ایکٹوازم تاریخ میں آج بھی زندہ اسلئے ہے کیونکہ اس ایکٹوازم کا مقصد اپنی ذات کی مشہوری کی بجائے ریاست امریکہ کی مضبوطی تھا۔ اگر جان مارشل عدلیہ کی طاقت کو امریکی وفاق کے حق میں استعمال نہ کرتے تو امریکہ انیسویں صدی میں ہی ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو جاتا۔ امریکہ ایک مضبوط وفاق جان مارشل کے جیوڈیشل ایکٹوازم کی بدولت بنا اور انتظامیہ بھی بے لگام ہونے سے بچ گئی۔ سابق جسٹس افتخار محمد چوہدری اس لحاظ سے بدقسمت رہے کہ زبردست طاقت حاصل ہونے کے باوجود وہ قوم کیلئے کچھ نہ کر سکے اور یوں آج وہ اور ان کی جسٹس پارٹی عوام کی نظروں میں کوئی اہمیت نہیں رکھتے۔ وہ اگر چاہتے تو یونین کونسل کی سطح پر مجسٹریٹ یا جج لا کر بٹھا سکتے تھے ، چنانچہ عام آدمی کو جن مقدمات کے فیصلے کیلئے سالوں انتظار کرنا پڑتا ہے وہ دنوں اور ہفتوں میں طے ہو جاتے۔آج میں موجودہ چیف جسٹس صاحب کو عوامی مسائل کے حل کیلئے اِن ایکشن دیکھتا ہوں تو خوشی ضرور ہوتی ہے مگر دل میں بے چینی بھی پیدا ہوتی ہے کہ وہ احساس رکھنے کے باوجود وہ کام نہیں کر رہے جو انہیں بحیثیت چیف جسٹس کرنا چاہیے۔ رواں ہفتے انہوں نے ناقص دودھ کی فروخت اور عوام کو صاف پانی کی فراہمی کے حوالے سے اپنے از خود نوٹسز والے مقدمات کی سماعت کی۔ اس طرح انہوں نے نجی میڈیکل کالجز کی بھاری فیسوں کی وصولی کیخلاف از خود نوٹس کے مقدمے کی سماعت کی اور کہا کہ عدالت کوشش کر رہی ہے کہ پیسے تعلیم کی راہ میں رکاوٹ نہ بنیں۔ دورانِ سماعت انہوں نے کہا ہمارے پاس وقت کم ہے‘ لڑ جاؤ اور کچھ کر دو۔ یقینا ان کے جذبات لائق تحسین ہیں اور عوامی مسائل کے حل کیلئے ان کی کاوشیں قابلِ قدر ہیں لیکن کل وہ چلے جائیں گے تو کیا آنیوالا چیف جسٹس اس تندہی اور جذبے کیساتھ ان مسائل کو حل کرنے کیلئے کام کر سکے گا؟ بنیادی طور پر یہ سب کام انتظامیہ کے کرنیوالے ہیں مگر ہمارے حکمران طبقے کی ترجیحات کا عالم یہ ہے صاف پانی اور خالص خوراک کی عوام کو فراہمی جیسے کام اُن کی ترجیح نہیں ہیں۔ حکمران طبقے کی عدم دلچسپی کی وجہ سے بحیثیت قوم ہمارا شمار ان اقوام میںہو چکا ہے جن کے افراد کی اکثریت متوازن خوراک سے محروم ہے اور جہاں افراد کے اوسط قد میں کمی واقع ہوئی ہے۔ پچھلی ایک صدی میںدنیا میں انسانوں کا اوسط قد چار یا پانچ انچ بڑھا ہے لیکن بدقسمتی سے پاکستان میں گزشتہ پچاس سالوں کے دوران ایک فرد کا اوسط قد چار پانچ انچ کم ہوا ہے۔ اسکی وجہ غیر متوازن‘ ناقص خوراک اور گندہ پانی ہے۔ جب حکمران طبقہ عوام کے ان بنیادی مسائل سے لاتعلق ہو جائے تو مجبوراً عدلیہ کو اپنا کردار ادا کرنا پڑتا ہے جو کہ ہماری عدلیہ ادا کر رہی ہے۔ میری سوچ یہی ہے کہ عدالتی نظام کچھ اس طرح کا بنا دیا جائے کہ چیف جسٹس صاحب کے از خود نوٹسز کی ضرورت ہی نہ رہے بلکہ عوام ناقص خوراک کا کاروبار کرنیوالوں کو خود سے کٹہرے میں لا کھڑا کریں اور مسائل کے حل میں عدم دلچسپی رکھنے والے حکومتی اہلکار بھی گرفت میں آجائیں۔ عدالتیں جب مقدمات کے فیصلے دنوں اور ہفتوں میں کرنے کے قابل ہو جائیں گی تو کیا معاشرے میں کوئی بے راہ روی کا مرتکب ہو سکے گا‘ اگر ہوگا تو گرفت میں آئیگا اور معاشرہ اچھائی پر استوار ہونے لگے گا۔اگر فوجداری مقدمات کے فیصلے ایک دو ماہ کے اندر ہوں اور اسی طرح خوراک میں ملاوٹ کے مجرم بھی ایک ماہ کے اندر کیفرِ کردار تک پہنچیں تو کیا کسی کو جرم کرنے یا ملاوٹ کرنے کی جرأت ہو گی۔ یہ سب تب ہو سکتا ہے جب عدالتیں روزانہ کی بنیاد پر مقدمات کی سماعت کریں اور یہ اس طرح ممکن ہے کہ ججز کی تعداد زیادہ ہو۔ چیف جسٹس صاحب جیوڈیشل کمیشن کے ذریعے اس مسئلے کو ایڈریس کریں اور اس ضمن میں ایک جامع حکمت عملی ترتیب دینے کی کوشش کریں تو یہ قوم پر احسان ہو گا۔ خوراک میں ملاوٹ کے مسئلے کو حل کرنے کیلئے خصوصی عدالتوں کے قیام پر بھی غور کیا جا سکتا ہے تاکہ معاشرے سے دہشت گردی کی طرح اس ناسور کا بھی خاتمہ ہو سکے۔ چیف جسٹس صاحب نے درست فرمایا ہے کہ زندگی کیلئے دو چیزیں ضروری ہیں لیکن یہاں پانی صاف ہے اور نہ ہوا‘ یہ کیا زندگی ہے؟؟ جو قوم ملاوٹ والا دودھ پینے پر مجبور ہو گی وہاں اوسط قدمیں کمی ہی واقع ہو گی۔ یہ صورتحال متقاضی ہے کہ فوری طور پر اقدامات اُٹھائے جائیں اور ہنگامی بنیادوں پر کرنیوالے کام کئے جائیں چیف جسٹس جناب جسٹس ثاقب نثار صاحب نے کتنا خوبصورت سلوگن وضع کیا ہے: ’’وقت کم ہے‘ لڑ جاؤ اور کچھ کر دو‘‘ میرا احساس ہے کہ چیف جسٹس آنیوالے دنوں میں اپنی توجہ مسائل کے ٹھوس حل کی جانب دینگے اور اپنا وقت سابق چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی طرح ضائع نہیں کرینگے۔ 2009ء کی جیوڈیشل پالیسی پر بھی از سر نو غور کرنے کی ضرورت ہے اور ان وجوہات کو بھی ایڈریس کرنے کی اشد ضرورت ہے جس کی وجہ سے اس پالیسی پر عمل درآمد نہ ہو سکا۔ اہل سیاست اگر انصاف کی فوری فراہمی میں چیف جسٹس کا ساتھ نہ دیں گے یا رکاوٹ بنیں گے تو وہ بے نقاب ہوجائیں گے لہٰذا جو کرنا ہے وہ جلد کیا جائے۔ وقت کم ہے‘ لڑ جاؤ اور کچھ کر دو۔

متعلقہ خبریں