Daily Mashriq

لمحہ لمحہ صدیاں بیتیں

لمحہ لمحہ صدیاں بیتیں

لٹو کی طرح گھومتی زمین سورج کے گرد اپنے بیضوی مدار پر چلتے چلتے کم و بیش365 دن اور راتوں کا سفر طے کرنے کے بعد آج پھر اس مقام پر پہنچ گئی جہاں وہ ہر سال اکتیس دسمبر اور یکم جنوری کی درمیانی رات کے بارہ بجے کے فوراً بعد پہنچ کر کرہ ارض پر رہنے والوں کی ہلا گلا اور نہ سمجھ آنیوالے ہنگاموں اور غل غپاڑے کا باعث بنتی ہے۔ صدیوں سے جاری ہے یہ روزو شب اور بدلتے موسموں کی رنگ آمیزی کا سلسلہ پتھر کے زمانے سے بھی بہت پہلے سے جاری وساری ہے۔ پتھر کے زمانے کے پتھریلے انسان کے پتھرائے ذہن وشعور کو اس بات کا ادراک کب تھا کہ دن اور رات کیوں اور کیسے وجود میں آتے ہیں، نیرنگی فضا اور بدلتے موسموں کا راز کیا ہے۔ نیلا گگن اور اسکے چاند سورج ستارے، دھوپ چھاؤں، اندھیرے اجالے، دن اور رات، یہ سب کیا اور کیوں ہو رہا ہے۔ اس دنیا کو چیستان زیست کہا جائے تو برا نہ ہوگا۔ اس کو سمجھنا ’کوہ قاف‘ کی بجائے’کوہ کاف‘ کو سر کرنے جیسا لگتا ہے۔ ’کوہ کاف‘ حروف تہجی کے حرف’ ک‘ سے شروع ہونیوالے’کب،کیوں، کیسے، کیا، کس، کہاں، کون، جیسے الفاظ جب سوالیہ نشان بن کر حضرت انسان کے ذہن وشعور کے بند کواڑوں پر دستک دیتے ہیں تو اس پر اس کے ’’کھل جا سم سم‘‘ جیسے جادو سے قدرت کے سربستہ رازوں کے در دریچے یوں کھلنے لگتے ہیں کہ حضرت انسان شاعر مشرق اور دانائے راز بن کر یکلخت پکار اُٹھتا ہے کہ

اپنی جولاں گاہ زیر آسماں سمجھا تھا میں

آب وگل کے کھیل کو اپنا جہاں سمجھا تھا میں

کائنات کے عمیق مطالعے نے حضرت انسان کو نظام شمسی سے روشناس کرایا، اسے معلوم ہوا کہ سورج کے گرد قائم مدار پر بہت سارے سیارے محو گردش ہیں جن میں سے ایک منا سا سیارہ زمین بھی ہے جو اپنے محور پر سورج کے گرد گھومتے ہوئے زمین والوں کیلئے سلسلہ روز وشب کا باعث بن رہی ہے اور اس سلسلہ روز وشب کی گنتی لمحہ بہ لمحہ ہفتوں اور مہینوں کی گنتی میں ڈھلتی رہتی ہے اور جب سال کے بارہ مہینے پورے ہوتے ہیں تو اپنے مدار پر گردش کرتی زمین اس مقام پر آپہنچتی ہے جہاں یہ آج سے بارہ مہینے پہلے تھی۔ ظلمت کدہ ہند کے باسی نور اسلام کی آمد سے پہلے بکرم جیت کا صدیوں پرانا کیلنڈر استعمال کر تے تھے جسے وہ ’جنتری‘ کا نام دیتے تھے۔ ان کا سال ویساکھ کے مہینے یعنی اپریل کے وسط سے شروع ہوتا تھا۔ اسلامی عہد اقتدار کے دوران یہاں بکرم جیت کی جنتری کیساتھ ساتھ ہجری تقویم بھی رائج ہوگئی جسکے ہر نئے سال کا آغاز یکم محرم کو ہونے لگا لیکن سرزمین ہند پر برطانوی قبضے کے دوران 1857ء کی جنگ آزادی کے بعد یہاں جس کی لاٹھی اس کی بھینس کے مصداق انگریزی یا عیسوی کیلنڈر کو رائج کردیا گیا اور یوں

چین وعرب ہمارا ہندوستان ہمارا

مسلم ہیں ہم وطن ہے سارا جہاں ہمارا

کے ترانے گانے والے بکرم جیت کی جنتری اور ہجری تقویم کو طاق پر رکھ کر اپنے سلسلہ شب وروز کا شمار عیسوی کیلنڈر کی تقلید میں کرنے لگے۔ میں یہاں اتنا عرض کرنا ضروری سمجھتا ہوں کہ دنیا میں صرف آج ہی کا دن سال نو کا پیغام لیکر نہیں آتا بکرم جیت کی جنتری کے سال نو کا اپنا ایک دن ہے جو یکم ویساکھ کو شروع ہوتا ہے۔ اسلامی یا ہجری تقویم کے نئے سال کا اپنا ایک دن ہے جو ہر سال یکم محرم سے شروع ہوتا ہے اور بات یہیں پر ختم نہیں ہوتی اللہ تعالیٰ کی اس بھری دنیا میں مختلف قومیں اپنی پہچان اپنے اپنے کیلنڈروں سے کرواتی ہیں جن کی تقلید میں وہ ہر سال کے پہلے دن کی طلوع صبح کو سال نو کا جشن منانے کا حق رکھتی ہیں۔ ہماری ہمسائیگی میں اسلامی جمہوریہ ایران والے سال نو کا جشن اپنے ہاں رائج کیلنڈر کے مطابق21 مارچ کو ’’جشن نوروز‘‘ کے عنوان سے مناتے ہیں۔ وہ اپنے ہاں رائج کیلنڈر کو ’’تقویم شمسی‘‘ کا نام دیتے ہیں جبکہ اسلامی یا ہجری کیلنڈر کو وہ ’تقویم قمری‘ کہتے ہیں۔ دنیا میں سانس لینے والی بہت سی زندہ اور آزاد تہذیبیں اپنے ہاں صدیوں سے رائج سلسلہ شب وروز وماہ سال کو زندہ رکھے ہوئے ہیں۔ کل ہی کی بات ہے دنیا کی ایک تہذیب میں رائج ایک کیلنڈر نے دنیا کے تہس نہس ہونے کی ایسی ہوائی اُڑائی کہ اگر اور کہیں نہیں تو دنیا والوں کے دلوں کی دھڑکنوں میں روز محشر کا خوف دندنانے لگا۔ ہم کہ نا واقف آداب غلامی نہیں۔ ہم جو کبھی پا بہ جولان رہے عادی ہوچکے ہیں فرنگی راج کی زنگ آلود زنجیروں کے، جبھی تو یکم جنوری کو رقص زنجیر پہن کر بھی کیا جاتا ہے کی رسمیں ادا کرتے رہتے ہیں، ہم کیا ہمارے پرنٹ اور الیکٹرونک میڈیا والے بھی سال نو کا جشن مناتے وقت غل غپاڑہ کرتے نہیں تھکتے، مبارک ہو آپ سب کو سال 2018ء کے پہلے دن کی طلوع صبح۔ نئے سال کی طلوع صبح کا جشن ہم کیا ہم میں سے ہر فرد اپنے یوم پیدائش پر سال نو منانے کا حق محفوظ رکھتا ہے لیکن یہ الگ بات کہ وہ منا نہیں سکتا۔ خوش قسمت ہوتے ہیں وہ لوگ جن کی پیدائش کے سال نو کا جشن ان کے چاہنے والے ان کے اس دنیا سے پردہ کر جانے کے بعد بھی مناتے رہتے ہیں۔ دسمبر کے تیسویں دن راقم السطور کو ایسی ہی ایک عظیم الشان تقریب سالگرہ میں شرکت کا موقع ملا، تقریب تھی ترقی پسند ادب کی چند ماہتاب چند آفتاب، نابغہ روزگار شخصیت سید فارغ بخاری مرحوم کی، جو نشتر ہال پشاور سے منسلک کلچرل ڈائریکٹوریٹ کے رحمان بابا کے سجیلے آڈیٹوریم میں انجمن ترقی پسند مصنفین خیبر پختون خوا کے زیر اہتمام منعقد ہوئی۔ یہ انکی سالگرہ کا نہیں صدی گرہ کا جشن تھاکہ آپ پیدا ہوئے تھے30 دسمبر 1917 میں اور وہ دن تھا 30 دسمبر 2017 کا۔ میرے لئے تھی وہ بیتے سال کی آخری تقریب، جس میں میری خوش بختی نے مجھے شرکت کا موقع فراہم کیا۔ میلوں کی مسافت طے کرکے اس تقریب میں پہنچا لیکن ریڈیو پاکستان کی بکنگ نے مجھے اس تقریب میں ٹک کر بیٹھنے نہیں دیا۔ تقریب کا آنکھوں دیکھا حال لکھنے کا قرض میرے ذمہ واجب الادا ہے لیکن فکرمند اسلئے نہیں ہوں کہ سیاست کے اس درخشندہ آفتاب کی تقریب’صدی گرہ‘ میں مشتاق شباب اور حسام حر جیسے قلم کے شہسوار بھی موجود تھے جو میرے ذمہ واجب الادا قرض اتارنے میں دیر نہیں کرتے۔

متعلقہ خبریں