Daily Mashriq

کلبھوشن کی اہلیہ کے مشکوک جوتے

کلبھوشن کی اہلیہ کے مشکوک جوتے

کی طرف سے کلبھوشن سے اس کے اہلخانہ کی ملاقات کی اجازت ’’انسانی ہمدردی‘‘ کی بنیادوں پر دی گئی۔ تاہم کلبھوشن سے اس کے اہلخانہ کی ملاقات کے حوالے سے بھارت نے اس کا جواب ہرزہ سرائی اور پاکستان کو دھمکی کی صورت دیا۔ کلبھوشن کی اہلخانہ کیساتھ ملاقات میں انتہائی احتیاطی تدابیر کا اسلئے اہتمام کیا گیا کہ کہیں کلبھوشن کو قتل کرنے کیلئے کوئی زہر یا اس طرح کی حساس چیز فراہم نہ کردی جائے جس میں رفتہ رفتہ اثر کرنیوالا زہر بھی استعمال ہو سکتا تھا اور اگر کچھ عرصے بعد کلبھوشن کی موت واقع ہو جاتی تو اس کا سارا الزام پاکستان پر دھر دیا جاتا۔ پاکستانی سکیورٹی حکام نے ان تمام ممکنات کو مدنظر رکھا کیونکہ بھارت کو اس وقت کلبھوشن کی وجہ سے شدید ہزیمت کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ پاکستان میں دہشتگردی کی کارروائیوں کیلئے بھارتی ’’را‘‘ کا نیٹ ورک قائم کرنیوالے اس سفاک مجرم کو جو اپنے گھناؤنے جرائم کا اعتراف بھی کر چکا ہے‘ محض انسانی ہمدردی کے تحت اسکی والدہ اور بیوی سے ملاقات کی سہولت فراہم کی گئی جس پر اس نے خوشی و اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے پاکستان کا شکریہ بھی ادا کیا اور پاکستان کے اس اقدام کو اس کی والدہ اور بیوی نے بھی سراہا مگر بھارتی متعصب میڈیا نے نیک نیتی سے اٹھائے گئے پاکستان کے اس اقدام کو بھی پاکستان کی بدنیتی ظاہر کرنے کیلئے ایڑی چوٹی کا زور لگادیا اور پاکستان کیخلاف زہریلا پراپیگنڈا جاری رکھا۔بھارتی میڈیااورمودی سرکارکی جانب سے منفی بیانات سے صاف ظاہرہے کہ پاکستان کی خودمختاری اور سلامتی کیلئے خبث باطن رکھنے والی ہندو انتہاء پسند مودی سرکار کو اپنے دہشتگرد جاسوس کلبھوشن یادیو سے انسانی بنیادوں پر اسکی والدہ اور اہلیہ سے کرائی گئی ملاقات پر پاکستان کو اقوام عالم میں ہونیوالی پذیرائی بھی ہضم نہیں ہو سکی اور اسکی فوج نے پاکستان کی اس خیرسگالی کا جواب جارحیت کے ذریعے دیتے ہوئے کنٹرول لائن پر یکطرفہ گولہ باری کرکے تین پاکستانی فوجی جوانوں کو شہید کردیا۔ بھارت فی الحقیقت پاکستان کو کشمیری عوام کے کاز کا ساتھ دینے سے روکنے کیلئے ہی اس پر مقبوضہ کشمیر میں دراندازی کے الزامات لگاتا ہے‘ اس پر دہشتگردی کا ملبہ ڈالتا ہے ، اسکی سلامتی تاراج کرنے کے بھیانک منصوبے بناتا ہے۔ اس سلسلہ میں وہ ہر محاذ پر پاکستان کیخلاف گھنائونی سازشوں میں مصروف ہے۔ بھوشن کے اعتراف جرم کے بعد پاکستان میں رائج قانون اور انصاف کے تقاضوں کے مطابق اس کا کورٹ مارشل کیا گیا اور اسے سزائے موت سنائی گئی جس پر مودی سرکار اپنے سدھائے اس دہشتگرد کو بچانے کیلئے پوری ڈھٹائی کیساتھ پاکستان کیخلاف پراپیگنڈے میں مصروف ہوگئی اور بھارتی وزیر خارجہ سشماسوراج نے اسے بھارت کا بیٹا قرار دیکر دعویٰ کیا کہ اسے پھانسی کی سزا سے بچا کر ہر صورت بھارت واپس لایا جائیگا۔ آئی سی جے میں اس کیس کی باقاعدہ سماعت آئندہ ماہ جنوری میں شروع ہو رہی ہے جہاں پاکستان نے اپنے جواب کیساتھ کلبھوشن کے پاکستان کی سرزمین پر کئے گئے جرائم کے ٹھوس ثبوت بھی پیش کردیئے ہیں، جرائم میں سزائے موت پانیوالے اس مجرم کیلئے قانون میں کسی رعایت کی گنجائش نہ ہونے کے باوجود پاکستان نے انسانی ہمدردی کے جذبے کے تحت کلبھوشن کی دفتر خارجہ میںاس کی والدہ اور بیوی سے ملاقات کا اہتمام کیا جس کیلئے انہیں خصوصی انتظامات کے تحت پاکستان کے ویزے جاری کرکے اسلام آباد لایا گیا اور بھارتی ڈپٹی ہائی کمشنر کو بھی ان کیساتھ آنے کی اجازت دیدی گئی مگر بدطینت بھارت نے پاکستان کے اس خلوص اور نیک نیتی کا جواب بھی اپنی خصلت کے عین مطابق پاکستان کیخلاف زہریلا پراپیگنڈا شروع کردیا جس کیلئے متعصب بھارتی الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا ہمہ وقت مصروف عمل رہا۔ پاکستان کے ازلی دشمن کی جانب سے کسی بھی نیک عمل کی تعریف سامنے آنابالکل ایساہی ہے کہ جیسے رات کودن کہاجائے۔ انڈیا نے پاکستان میں موت کی سزا پانیوالے مبینہ انڈین جاسوس کلبھوشن یادیو سے ان کی والدہ اور اہلیہ سے ملاقات کے ایک روز بعد کہا ہے کہ پاکستان نے کلبھوشن کی فیملی کی ’توہین‘ کی اور ملاقات کا جو طریقہ کار اختیار کیا گیا وہ طے شدہ اصولوں سے مختلف تھا۔دوسری جانب پاکستانی دفترخارجہ نے کہا ہے کہ بھارتی جاسوس کلبھوشن کی اہلیہ کے جوتوں میں کچھ مشکوک محسوس ہواتھا اس لیے جوتا واپس نہیں کیا تاہم باقی تمام سامان اور جیولری واپس کردی، جوتے میں ریکارڈنگ چپ یا کیمرا تھا جس کی تحقیقات کررہے ہیں۔ترجمان دفترخارجہ ڈاکٹر فیصل نے اپنے بیان میں کہا کہ کلبھوشن کی اہلیہ کے جوتے کی چھان بین کی جارہی ہے ان کو متبادل جوتا فراہم کردیا گیا تھا، ان کے جوتے میں میٹل کی کوئی چیز تھی جوتے میں میٹل کی انکوائری کی جارہی ہے کہ وہ ریکارڈنگ چپ تھی یا کیمرا تھا۔کلبھوشن سے اس کی والدہ اوراہلیہ کی ملاقات کے بعد بھارت کی جانب سے اظہارتشکرکی بجائے مختلف الزامات سامنے آنے کے بعد کلبھوشن کو قونصلر رسائی دینے کا باب بند کر کے اور عالمی عدالت انصاف میں اسکے گھنائونے جرائم کے تمام ٹھوس ثبوت پیش کرکے اسکے حق میں جاری کیا گیا حکم امتناعی ختم کرانے کی کوشش کی جائے۔ کلبھوشن بھارت کی سب سے بڑی کمزوری ہے جو پاکستان کی سلامتی کیخلاف بھارتی سازشوں کا بذات خود بہت بڑا ثبوت ہے۔ پاکستان دانشمندی کیساتھ اس کیس کو لیکر چلے گا تو وہ اقوام عالم میں بھارت کا اصل مکروہ چہرہ بے نقاب کرنے میں کامیاب رہے گا۔

متعلقہ خبریں