Daily Mashriq


اس رقم کا حساب لیا جائے

اس رقم کا حساب لیا جائے

خیبر پختونخواکی سابق حکومت نے پشاور سمیت صوبے کے مختلف شہروں میں بیوٹیفکیشن پر صوبائی خزانے سے 10ارب 34کروڑ روپے کہاں خرچ کئے اور اس بھاری مصرف کے کیا نتائج رہے اس حقیقت کو طشت از بام کرنے کے لئے کسی تگ و دو کی ضرورت نہیں بلکہ اگر اسے نوشتہ دیوار قرار دیا جائے تو غلط نہ ہوگا۔ ہمارے نمائندے کے مطابق سال2013-14سے لیکر سال2017-18تک سابق صوبائی حکومت نے پشاور کے بیوٹیفکیشن منصوبے کیلئے ایک ارب روپے منظور کئے تھے جس میں سے اب تک 84کروڑ روپے خرچ کیے گئے ہیں۔ اسی طرح پشاور اپ لفٹ پروگرام کے دس ارب روپے کے منظورشدہ منصوبے سے صوبائی حکومت نے گزشتہ چار سالوں کے دوران چار ارب67کروڑ روپے خرچ کئے ہیں،مذکورہ منصوبے کے تحت پشاور شہر میں تعمیراتی کاموں اور بیوٹیفکیشن کے مختلف پراجیکٹ کو مکمل کرنا تھا۔ اسی طرح سابق صوبائی حکومت نے گزشتہ چار سال کے دوران بیوٹیفکیشن آف ڈویژنل ہیڈ کوارٹرز کے 6ارب40کروڑ روپے کے منصوبے میں سے 4ارب40کروڑ روپے خر چ کئے، دریں اثناء سابق وزیر اعلیٰ کی ہدایت پر گزشتہ چار سالوں میںپبی سے جہانگیرہ نوشہرہ کے بیوٹیفکیشن پراجیکٹ60کروڑ روپے کے فنڈز میں سے 42کروڑ روپے خرچ کئے گئے۔امر واقع یہ ہے کہ پشاور سمیت صوبے کے دیگر شہروں میں اربوں روپے کا فنڈز خرچ ہونے کے باوجود وہاں پر اب تک بیوٹیفکیشن کے حوالے سے مسائل موجود ہیں جن میں گندگی کے ڈھیراور صفائی کے ناقص نظام سمیت نکاسی آب کے مسائل شامل ہیں ۔ہمارے نمائندے کی رپورٹ میں اعداد و شمار کے حوالے کے ساتھ جتنی رقوم خرچ کرنے کی تفصیل ہے اس پر شک کا اظہار کرنے کی کوئی وجہ تو نہیں اس لئے کہ یہ اعداد و شمار سرکاری دستاویزات ہی سے حاصل شدہ ہیں لیکن اس کے باوجود دل و دماغ اس حقیقت کو تسلیم کرنے کو اس لئے تیار نہیں کہ معروضی حقائق اور صورتحال برعکس ہیں۔ اس قدر بھاری رقوم کہاں خرچ کی گئیں اور اس سے کیا بہتری اور نتائج سامنے آئے کس قدر بہتری ہوئی‘ کتنے عوامی مسائل حل کئے گئے ‘ ان سارے سوالوں کے جواب متعلقہ حکام ہی کو معلوم ہوں گے عوام کو دکھانے اور بتانے کے لئے کچھ نہیں اور اگر کچھ ہوگا بھی تو وہ نظر کا دھوکہ ہی ہوسکتا ہے۔ صوبائی دارالحکومت پشاور میں گزشتہ دور حکومت کے اقدامات کو ذہن میں تازہ کیا جائے تو جی ٹی روڈ اور یونیورسٹی روڈ پر گرین بیلٹ کی صورت میں اور پودے لگا کر شہر کی اس واحد مرکزی سڑک کا حلیہ درست کردیا گیا تھا۔ چوراہوں اور یوٹرنز کے ذریعے ٹریفک کی صورتحال کو کنٹرول کرنے کی ادنیٰ سعی سے انکار ممکن نہیں‘ چند ایک مقامات پر اس طرح کی دیگر مساعی بھی ہوئی ہو گی بڑے شہروں میں بھی تھوڑی بہت کوشش سے انکار نہیں لیکن اس پر اربوں روپے خرچ ہوئے ہوں گے اسے تسلیم نہیں کیا جاسکتا۔ صوبائی دارالحکومت میں نکاسی آب کا نظام‘ صفائی ‘ گلیوں کی پختگی‘ سڑکوں کی تعمیر و مرمت کی جو حالت ہے وہ کسی بھی علاقے کا معائنہ کرکے اب بھی معلوم کرنا کوئی مشکل کام نہیں۔ صوبائی دارالحکومت کا سب سے بہتر رہائشی علاقہ حیات آباد سمجھا جاتا ہے وہاں پی ڈی اے نے کسی منصوبہ بندی کے بغیر گلیاں اور سڑکیں درست کرنے کی جو کوشش کی وہ اپنی جگہ لیکن یہ کام میرٹ پر نہیں ہوا بلکہ عجیب و غریب صورتحال یہ ہے کہ وہاں پر گلیاں اور سڑکیں ترتیب وار اور سلسلہ وار درست کرنے کی بجائے کہیں کہیں گلیوں کو تارکول کیاگیا اور اگلی ہی گلی چھوڑ دی گئی جس کا مقصد سمجھ سے بالا تر ہے۔ حیات آباد میں اب بھی صورتحال یہ ہے کہ ایک گلی پختہ کرکے اسی کے متوازی دو گلیاں چھوڑ کر پھر تیسری گلی اور اسی طرح ہر سیکٹر اور فیز میں منصوبہ بندی کی بجائے نا معلوم فارمولا اور طریقہ کار اختیار کیاگیا جس کی حکمت حکام ہی کو معلوم ہوگی۔ اگر حیات آباد میں صورتحال یہ ہو تو پھر دیگر علاقوں میں شہری مسائل کے حل اور بہتری کا کیا عالم ہوگا۔ تزئین و آرائش کے لفظ کا استعمال ہی درست نہ ہوگا۔ اس امر کا حساب لیا جانا چاہئے کہ اربوں روپے کہاںخرچ کئے گئے اور کیا بہتری آئی۔ ہمارے نمائندے جہاں جہاں مشرق فورم کرنے جاتے ہیں کسی ایک علاقے کے لوگ مسائل کے حل کا تذکرہ اور اطمینان کا اظہار نہیں کرتے بلکہ ان کو اس امر کی شکایت ہی ہوتی ہے کہ ان کے مسائل میں کمی نہیں آئی۔قومی خزانے سے اس قدر بھاری رقم کے استعمال کے باوجود عوامی مسائل کے حل نہ ہونے کی سوائے اس کے اور کیا وجہ ہوسکتی ہے کہ اس خطیر رقم کا استعمال صحیح منصوبہ بندی اور دیانتداری کے ساتھ نہیں ہوا ہوگا ورنہ صورتحال اس طرح نہ ہوتی جس طرح آج ہے۔دس ارب34 کروڑ روپے خطیر رقم ہے جسے اگر درست اور ایماندارانہ بنیادوں پر بروئے کار لایا جاتا تو آج صورتحال مختلف ہوتی۔ اس رقم کے ضیاع کی تحقیقات ہونی چاہئے اور ذمہ داروں کا احتساب کیا جانا چاہئے۔

متعلقہ خبریں