Daily Mashriq


آڈٹ اعتراضات کو تادیر ٹالنے کا رویہ

آڈٹ اعتراضات کو تادیر ٹالنے کا رویہ

محکمہ بلدیات کے ذیلی محکموں کے ذمہ کروڑوں روپے کی بے قاعدگیوں کی نشاندہی کے18سو سے زائد آڈٹ پیروں کو حل کرنے کیلئے گزشتہ 6سالوں سے ایک بھی ضلعی اکائونٹس کمیٹی کا اجلاس منعقدنہ ہونا صوبے میںمالی بد عنوانی کی روک تھام کے ضمن میں نیک شگون نہیں اور نہ ہی یہ سابق اور موجودہ حکومت کے حق میں بہتر ہے ۔ محکمہ بلدیات کو کرپشن کا گڑھ سمجھا جاتا ہے خفیہ بد عنوانی اور ملی بھگت اپنی جگہ یہاں پر عالم یہ ہے کہ محکمہ بلدیات کی دستاویزات کیمطابق لوکل کونسل بورڈ، تحصیل میونسپل ایڈمنسٹریشنز، پشاور ڈویلپمنٹ اتھارٹی ، میونسپل کمیٹیوں، ضلع کونسلوں ، ٹائون کمیٹیوں ، یونین کونسلوں اورمختلف اضلاع کے اسسٹنٹ ڈائریکٹرزکے ذمہ آڈٹ پیروں کی تعداد ایک ہزار 837ہو گئی ہے مذکورہ آڈٹ پیرے مالی سال 2011-12سے تاحال حل کے منتظر ہیں جبکہ یہ پیرے جمع ہوتے ہوئے مالی سال 2016-17کے آڈٹ پیرے بھی اس میں شامل ہو گئے ہیں۔ ان آڈٹ پیروں کو کلیئر کرنے کیلئے آڈیٹر جنرل کی جانب سے تمام متعلقہ محکموں کو بھی مراسلے ارسال کئے گئے ہیں جس میں کہا گیا ہے کہ تمام محکمے اپنے ورکنگ پیپرز تیار کرلیں تاکہ جلد از جلد ان آڈٹ پیروں کو کلیئر کیا جاسکے تاہم محکمہ بلدیات ذرائع کے مطابق مذکورہ محکموں کی ضلعی آڈٹ کمیٹیوں کے اجلاس گزشتہ 6سالوں میں منعقد ہی نہیں کئے جا سکے ہیں جس کے باعث تاحال کروڑوں روپے کی بے قاعدگیوں کو صاف نہیں کیا جا سکا ہے۔آڈٹ پیرے سخت معتدل اور سطحی قسم کے ہوتے ہیں جن میںسے بہت سارے آڈٹ اعتراضات وضاحت اور کچھ اضافی دستاویزات وغیرہ دے کرنمٹائے جا سکتے ہیں۔ آڈٹ پیروںمیں ریکوری تک کی نوبت کم ہی پہنچی ہے لیکن محکمہ بلدیات کی ذیلی محکموں کا جورویہ ہے اس سے اس امر کا اظہار ہوتا ہے کہ ان آڈٹ اعتراضات کی نوعیت سنگین قسم کی ہے جن کا متعلقہ حکام کے پاس شاید کوئی جواز اور جواب نہیںعلاوہ ازیں کوئی وجہ ہو نہیں سکتی کہ ایک قانونی طریقہ کار کے تحت اعتراضات دور کرنے سے چھ سال تک احتراز کیا جائے۔ سمجھ سے بالا تر امر یہ ہے کہ اتنی تاخیر اور احتراز پر حکومت کی طرف سے کوئی سخت نوٹس نہیں لیا جاتا اورآڈٹ پیروں کا سختی سے نوٹس لیکر اس کے ذمہ دار عناصر کے خلاف محکمانہ کارروائی نہیں کی جاتی اگر آڈٹ اعتراضات کا یہی حشر کرنا ہی ہے تو پھر اس کیلئے اتنے بڑے ادارے کے قیام کی کیا ضرورت ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ آڈٹ اعتراضات اور ان کی جواب دہی ایک پست سطح کا ہلکا احتساب کا عمل ہے اگر حکومت آڈٹ پیروں کے جواب حاصل کرنے کی پوزیشن میں نہیں تو پھر قومی دولت لوٹنے والوں اور سنگین قسم کی بد عنوانیوں کا ارتکاب کرنے والوں کے احتساب کی توقع کیسے رکھی جائے ۔ آڈٹ پیروں کی تاخیر درتاخیر کے باعث درجنوں افراد کی ریٹائرمنٹ اور موت پر ان کا اختتام اور جو ریکارڈ کی گمشدگی ونا یابی وغیرہ قسم کے معاملات کا سامنے آنا فطری امر ہوگاجس کے بعدان آڈٹ پیروں کی افادیت اور جواب دہی لاحاصل ہوگی بہتر ہوگا کہ جتنا جلد ممکن ہو اس قانونی عمل کی تکمیل کی جائے۔

اس سادگی پہ کون نہ مرجائے اے خدا!

خیبر پختونخوامیںشیڈول پوسٹوں پر ڈیپوٹیشن پر افسران کی تعیناتی پوری اور مدلل توجیہہ کے بغیر ہونے سے صوبے میں میرٹ اور انصاف پر مبنی تقرریوں پر سوال اٹھنا فطری امر ہے۔ اس سے صوبے کے ان عہدوں کیلئے موزوں افسران میں بے چینی پھیلنا صوبے میں اچھی حکمرانی کیلئے نیک شگون نہیں خاص طور پر ایسی حکومت جسے بیوروکریسی سے پہلے ہی عدم تعاون کی شکایت ہو۔ہم سمجھتے ہیں کہ اس امر کی گنجائش ہی نہیں ہونی چاہیئے تھی کہ صوبے کے سرکاری افسران کو بے چینی کا اظہار کرنے اور احتجاج کا موقع ملتالیکن صورتحال یہ ہے کہ پی سی ایس آفیسرز ایسوسی ایشن کے تحفظات کے بعد صوبائی حکومت کو نادرا کے گریڈ17کے ملازم کو گریڈ19کی شیڈول پوسٹ پر تعینات کرنے کا اعلامیہ واپس لینا پڑا۔ہمارے نمائندے کی رپورٹ کے مطابق اس وقت خیبر پختونخوا میں شیڈول پوسٹوں پر 38افسران کام کررہے ہیں ۔ان میں 14افسران مختلف محکموں میں سیکشن آفسیرز کے عہدوں پر تعینات ہیں جبکہ چیئرمین گورنر انسپکشن ٹیم ، سیکرٹری انڈسٹریز ، سیکرٹری ہیلتھ ، سپیشل سیکرٹری ہیلتھ ، ایڈیشنل سیکرٹری فنانس ، ایڈیشنل سیکرٹری پی اینڈ ڈی ، ایڈیشنل سیکرٹری سپورٹس ، ڈائریکٹر پی ڈی ایم اے اور ڈائریکٹر جی ڈی اے ،سیکرٹری سی اینڈ ڈبلیو اور سیکرٹری آبپاشی سمیت دیگر 24شیڈول پوسٹوں پر ایکس کیڈر کے افسران تعینات ہیں۔اسٹیبلشمنٹ کے اس عذر سے اتفاق نہیں کیا جا سکتا کہ افسران کی کمی کے باعث ڈیپوٹیشن پر افسران لئے جاتے ہیں اولاًافسران کی کمی نہیں اور اگر اس عذر سے اتفاق کیا جائے تو ڈیپو ٹیشن پر افسران اعلیٰ کی منافع بخش عہدوں ہی پر تقرری کیوں کی جاتی ہے۔ دوم یہ کہ اس سادگی پہ کون نہ مرجائے اے خدا کہ نادرا جیسے ادارے کے گریڈ سترہ کے افسرکو گریڈ انیس کی شیڈول پوسٹ پر تعینات کیا جائے۔

متعلقہ خبریں