Daily Mashriq


جعلی اکاؤنٹس والے اب بچ نہ پائیں گے

جعلی اکاؤنٹس والے اب بچ نہ پائیں گے

اس میں کیا شک ہے کہ پاکستان کے ساتھ ظلم کرنے والی اس ملک کی اشرافیہ ہے۔ کسی ملک یا قوم کو ڈبونے والی بھی اشرافیہ ہی ہوتی ہے اور ملک و قوم کو بچانے اور ترقی کی شاہراہ پر لے جانے میں اہم کردار بھی اشرافیہ کا ہی ہوتا ہے۔ انیسویں صدی میں جب ایشیاء کی اکثر اقوام ایک ایک کر کے یورپی اقوام کے سامنے سرنگوں ہوگئیں تو مشرق بعید میں جاپان واحد ملک تھا جس پر قبضہ نہ ہو سکا۔ جاپان کو بچانے والی وہاں کی اشرافیہ تھی جس نے حالات کی نزاکت کو سمجھتے ہوئے فیصلہ کیا کہ ہم نے جاپان کو بیرونی طاقتوں کی غلامی سے بچانا ہے۔ جاپان کی اشرافیہ نے آزادی کی قیمت اس طرح ادا کی کہ جاگیرداروں نے اپنی جاگیروں کو مزارعین میں تقسیم کیا اور سرمایہ داروں نے مزدوروں کو اپنے سرمائے میں حصہ دار بنایا۔ اب جاپان ایک ناقابلِ شکست قوم تھی۔ صحیح معنوں میں لوہے کے چنے جسے کوئی چبا نہ سکتا تھا۔ خواجہ سعد رفیق نے تو یونہی ترنگ میں کہہ دیا تھا کہ ہم لوہے کے چنے ہیں ‘ کسی قوم کو لوہے کے چنے بننے کے لیے جس مرحلے سے گزرنا پڑتا ہے وہ خواجہ صاحب اور ان کی قیادت کیا جانے‘ پاکستان کی اشرافیہ خواہ وہ سیاسی ہو ‘ فوجی ہو‘ کاروباری ہو یا اعلیٰ عدالتوں کے ججوں اور بیوروکریسی کی شکل میں موجود ہو اُس کے ذمے اس ملک کی تباہی و بربادی کا قرض ہے۔ کسی ایک طبقے کو بھی بُرے حالات کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں کیا جا سکتا۔ سب سے بڑا ہاتھ سیاسی اشرافیہ کا ہے۔ اہل سیاست ٹھیک ہو جاتے تو باقی سب طبقات کو ٹھیک ہونا پڑتا۔ یہ اس حد تک ٹھیک ہوئے کہ آپس میں ایکا کر لیا تاکہ اقتدار ان سے نہ چھینا جا سکے۔ میثاق جمہوریت میں ان کے سیاسی تجربات کا نچوڑ محض یہ تھا کہ آپس کی نااتفاقی سے غیر جمہوری قوتیں فائدہ اٹھاتی ہیں۔ لہٰذا باریاں لگا لو اور ایک دوسرے کی حکومت گرانے کی کوشش نہ کرو۔ 90ء کی دہائی کی سیاست ذہن میں رکھیں تو یہ انڈرسٹینڈنگ درست تھی مگر فقط یوں کام نہ چل سکتا تھا‘خود کو بدلنا ضروری تھا جو انہوں نے ضروری نہ سمجھا۔ نتیجہ یہ ہے کہ ملک تباہی کے دہانے پر ہے اور ان دونوں جماعتوں کے قائدین اپنی اپنی باری لے کر جا چکے ہیں۔ زرداری کی پیپلز پارٹی کا وتیرہ ہے کہ یہ آج اور صرف آج کی سوچتے ہیں ‘ نواز شریف نے بھی اس بار قوم کے ساتھ یہ زیادتی کی ہے کہ انہوں نے ’’ڈنگ ٹپاؤ‘‘ پالیسی اختیار کی اور یہ نہیں سوچا کہ وطن عزیز کو درست بنیادوںپر کیسے استوار کرنا ہے۔ انہوںنے اپنا وقت گزارا اور چل دیے۔ ان کی شکست نے ان کی خوش گمانی دور کر دی ہے اور آج پس دیوارِ زنداں وہ سوچ رہیں ہوں گے کہ انہوں نے بہت غلط کھیلا۔ آج وہ احتساب کے عمل کو تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں لیکن انہوں نے پاکستان میں احتساب کے نظام کی درستگی کے لیے خود کیا کارنامہ سرانجام دیا ہے۔ آصف زرداری کی طرح ان کا اقتدار بھی معاشرے کی تطہیر جیسے اہم کام سے لاتعلق رہا۔ جلاوطنی کے بعد ان کو ملنے والا اقتدار اپنی مثال آپ ہونا چاہیے تھا لیکن انہوں نے عام لوگوں کی طرح اپنی ذات اور اپنے خاندان کو مقدم رکھا اور عمومی سطح سے اوپر نہ اُٹھے۔ آصف علی زرداری نے تو خیر یہی کرنا تھا مگر نواز شریف بھی مثال نہ بنے۔ جب قدرت کی بے آواز لاٹھی چلنا شروع ہوئی تو بجائے اس کے کہ وہ ہوش کے ناخن لیتے انہوںنے اپنی کوتاہیاں اور خرابیاں چھپانے کے لیے فوج کو مورد الزام ٹھہرانے کا روایتی ہتھکنڈہ استعمال کیا۔ سول بالادستی کا بیانیہ عوام نے مسترد کر دیا ہے ‘ چنانچہ سیاسی اشرافیہ کو اپنے کردار پر نظر ثانی کی جتنی ضرورت آج ہے اتنی شاید کبھی نہ تھی۔ وزیر اعظم عمران خان کو یہ کریڈٹ جاتا ہے کہ انہوں نے مسائل سے چشم پوشی اختیار نہیں کی اور نہ اس بات سے خوفزدہ ہو رہے ہیں کہ ایک وقت میں تمام محاذ کھولنے سے ان کی حکومت کو خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔ پاکستان کی تاریخ میں مدتوں بعد ایک ایسے وزیر اعظم کا انتخاب ہوا ہے جس کا اوڑھنا بچھونا پاکستان ہے۔ جس کے کاروباری مفادات ہیں اور نہ ہی بیرون ملک اثاثوں کی وجہ سے اُسے بیرونی طاقتوں کی کوئی پرواہ ہے۔ وہ ہر دم پاکستان کی بہتری کے بارے میں سوچتا ہے اور شبانہ روز اصلاح احوال کے لیے سرگرم عمل ہے۔ معاشرتی تطہیر جیسے اہم کام کو سرانجام دینے میں اُسے کوئی گھبراہٹ نہیں ہے۔ اپنی ذات کو اُس نے سب سے پہلے مثال بنایا ہے۔ سادگی کی مثال سے اُس نے اپنے جس سفر کا آغاز کیا ہے اس میں کامیابی اس لحاظ سے یقینی ہے کہ وہ نیک نیتی سے آگے بڑھ رہا ہے۔ سیاسی اشرافیہ کے ذمے پاکستان کی تباہی کا جو قرض ہے وہ اُسے اُتارنے کی پوری کوشش کر رہا ہے۔ یہ ہو نہیں سکتا کہ سیاسی اشرافیہ اپنا قبلہ درست کر لے اور دیگر طبقات بے راہ روی پر قائم رہیں۔ سب کو بالآخر اپنا آپ درست کرنا پڑے گا۔ سب سے پہلے وزیر اعظم نے اپنے ہی قبیلے کے لوگوں پر ہاتھ ڈالا ہے تاکہ باقی لوگ عبرت پکڑیں۔ جعلی اکاؤنٹس کے مقدمے میں وزیر اعظم عمران خان نے جو عزم دکھایا ہے اُس کے بعد بلیک کا کاروبار کرنے والوں کو انشاء اللہ ٹھنڈے پسینے آ گئے ہوں گے۔ اب اربوں ڈالروں کی منی لانڈرنگ بھی رُکے گی اور بلیک منی والے اپنا سرمایہ ٹیکس نیٹ پر لانے پر مجبور ہوں گے۔ کون نہیںجانتا کہ پاکستان میں اکانومی کا ایک بڑا حصہ بلیک اکانومی کا ہے‘ نان ڈاکومنٹڈ اکانوی ہماری قومی بیماریوں میں سے ایک بڑی بیماری ہے۔ وقتی طور پرکاروبار کامندا ضرور ہو گا لیکن چھ آٹھ مہینوں میں سب ٹھیک ہو جائے گا۔ اس مرتبہ ٹیکس فائلرز کی تعداد بڑھی ہے جو آنے والے دنوں میںمزید بڑھے گی ۔ معیشت اب غیر ملکی قرضوں کے سہارے نہیں بلکہ اپنے زور بازو پر کھڑی ہو گی کیونکہ تمام ادارے اپنی کارکردگی دکھائیں گے‘مصنوعی مہنگائی کا خاتمہ ہو گا اور برسوں سے زنجیروں میں جکڑی ہوئی پاکستانی قوم کو صحیح معنوںمیں آزادی کا احساس ہو گا اور سچی خوشیاں نصیب ہوں گی کیوں کہ آج کی اشرافیہ یہ سب کر گزرنے کا عہد کر بیٹھی ہے۔

متعلقہ خبریں