Daily Mashriq

یہ مقام آسماں سے دور نہیں

یہ مقام آسماں سے دور نہیں

آج نئے سال کے پہلے مہینے کی پہلی تاریخ یکم جنوری 2019 ہے۔ نئے سال کا پہلا دن ہے آج وہ لوگ جو نئے سال کی آمد آمد کو زندگی کے خوش کن لمحات سے تعبیر کرتے ہیں وہ سال نو کی خوشیاں منانے کا سلسلہ بیتی رات کے بارہ بجے کے فوراً بعد ہی شروع کردیتے ہیں۔ کسی زمانے میں ملکوں ملکوں منائے جانے والے سال نو کے جشن کو جنگل میں مور ناچا کس نے دیکھا کے مصداق ہم دیکھ نہیں سکتے تھے لیکن آج ایسا ہر گز نہیں ہم الیکٹرانک میڈیاکی وساطت سے نئے سال کی خوشیوں میں ڈوبا جشن عین اس گھڑی براہ راست دیکھ رہے ہوتے ہیں جب نئے سال کی خوشیاں منانے والے آپے سے باہر ہوکر زمین اور آسمان کے قلابے ملانے لگتے ہیں۔ جشن آمد سال نو منانے والے آتش بازی کے مسحور کن مظاہروں کے علاوہ رقص و سرود کی محفلیں برپا کر کے بزعم خود اس جشن کے ہنگاموں کو دو آتشہ کرنے کے لئے کوئی کسر روا نہیں رکھتے ، شباب شراب اور کباب کا بھی اہتمام کیا جاتا ہے اور بقول شاعرخوشیاں منانے والے

کسی کے آنے سے ساقی کے ایسے ہوش اڑے

شراب سیخ پہ ڈالی کباب شیشے میں

کے منظر نامہ کا حصہ بن جاتے ہیں ، ہمارے ہاں اس قسم کے ہنگامے برپا کرنے کی کلی ممانعت ہے۔ اور نئے سال کی آمد سے پہلے ہی اس قسم کی ہنگامہ آرائی کو روکنے کے لئے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو چوکنا کردیا جاتا ہے۔ لیکن اس کے باوجود چھوٹی چھوٹی خوشیاں منانے والوں کو اگرشراب و کباب میسر نہ ہو تو وہ ہوائی فائرنگ کرکے اپنے دل کا غبار نکالنے لگتے ہیں۔ ہمارے ہاں ایسی عجیب وغریب اور اوٹ پٹانگ حرکتیں عید شب برات اور شادی بیاہ یا الیکشن جیتنے کی خوشی میں سر زد ہوتی ہیں اور بعض اوقات تو ہمیں ایسی حرکتوں کا خمیازہ بے گناہ قیمتی جانوں کے زیاں کی صورت بھگتنا بھی پڑتا ہے۔ خوشی منانے کے جوش میں ہوش کا دامن نہ تھامنا کوئی اچھی بات نہیں اور شاید یہی وجہ ہے کہ ہمارے ہاں ایک طبقہ ایسا بھی ہے جو اس قسم کی ہنگامہ آرائی کو بدعت یا گناہ کبیرہ سمجھتا ہے۔ اگر تم کسی کو برائی کرتے دیکھو تو اسے روک لو۔ اگر ایسا نہیں کرسکتے تو اسے دل ہی دل میں برا کہتے رہو۔ ہم نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر ایسے لوگوں کے بھی پیغامات وصول کئے جو بیتے برس کو الوداع کہنے اور نئے سال کی آمد کے جشن منانے والوں کو تنبیہہ کررہے تھے کہ ایسا کرنا جائز نہیں ۔ اندھا کیا جانے بسنت کی بہار، یا بسنت کے اندھے کو ہرا ہی ہرا نظر آتا ہے دو مستزادمعنی رکھنے والے محاورے یا ضرب الامثال ہیں جن کا اطلاق دو مختلف الخیال نظریوں کے حامل طبقات فکر کو جشن کی صورت میں ہم کو نظر آجاتا ہے۔ مبصرین کے اپنے اپنے انداز سے کی جانے والی اس ژرف نگاہی کو انگریزی دان پیرا ڈائم کے نام سے یا د کرتے ہیں ۔ راقم السطور زیر نظر سطور کو سپرد قلم کرنے سے پہلے کے کالم میں عرض کرچکا ہے کہ چپکے سے آکر گزر جانے والے وقت کو اس بات سے کوئی غرض نہیں کہ کون اس کے بارے میں کیا نظریہ رکھتا ہے ، اس کو الوداع کہنے یا اس کا استقبال کرنے میں کیسی کیسی حرکتیں کرتا ہے۔ وقت کا کام آنا اور آکر گزر جانا یا ماضی کے جھروکوں میں گم ہوجانا ہوتا ہے۔ لسانیات کے ماہر وقت کو ماضی حال اور مستقبل کی تین اکائیوں میں بانٹتے ہیں ۔ سال 2018ء ہم سے رخصت ہوکر ہمارے ماضی میں ڈھل چکا ہے ، اگر آج وہ ہمارا ماضی قریب ہے تو آنے والے کل ماضی بعید ہوجائے گا اور ہمارا حال اس ہی ماضی قریب و بعید پر استوارہوکر اپنے مستقبل کی طرف بڑھ رہا ہوگا۔ یہ سلسلہ کروڑہا سال پر محیط عرصہ سے جاری و ساری ہے حال ماضی کے جھروکوں میں گم ہوجاتاہے ، صدیوں کے سمندر میں جاڈوبتا ہے ، لیکن ہمارے لئے عبرت حاصل کرنے کے بہت سارے اسباق چھوڑجاتا ہے، جو لوگ ان اسباق سے کچھ سیکھ کر اپنے بہتر مستقبل کی طرف گامزن سفر ہوجاتے ہیں

اے جذبہ دل گر میں چاہوں ہر چیز مقابل آجائے

منزل کی طرف دوگام چلوں تو سامنے منزل آجائے

کے مصداق منزل خود ان کی قدم بوسی کے لئے ان کی جانب بڑھنے لگتی ہے ، سال نو کی صبح نور ہمیں مغرب والوں کے ساتھ مل کر نئے سال کی خوشیاں منانے کی قطعا ً اجازت نہیں دیتی ، اس لئے کہ ابھی ہم اپنے جس ماضی کی بنیادوں پر مستقبل کی عمارت تعمیر کرنے لگے ہیں اس کا انگ انگ زخموں سے چور ہے ، ابھی ہم شاخ نازک پر اپنا آشیانہ بنانے کا سوچ رہے ہیں ، بقول دانائے راز اللہ نہ کرے

تمہاری تہذیب اپنے خنجر سے آپ ہی خود کشی کرے گی

جو شاخ نازک پہ آشیانہ بنے گا ، ناپائیدار ہوگا

جس شاخ پہ بیٹھے تھے اسی شاخ کو کاٹا ہم نے ، جس کشتی میں سوار تھے اسی کو چھید ڈالا ہم نے ، ہم نے خو د کئے تھے وہ ڈاکو ، وہ لٹیرے ، وہ حریص لوگ اپنے اوپر مسلط جنہوں نے اپنے چہروں پر رہنماؤں کے ماسک چڑھارکھے تھے ، دونوں ہاتھوں سے لوٹ رہے تھے وہ ہم کو اور ہم ان کی ہر ادا پر تالیاں بجانے کے عادی تھے ۔پھٹے ہوئے ڈھول جو تھے ، عقل کے اندھے جو تھے ، جبھی تو ہمیں بہرے اور گونگے ہونے کے خطابات ملنے لگے ،کوئی حق نہیں پہنچتا ہمیںسال 2019ء کے جشن منانے کا، سچ پوچھئے تو ہماری صبح نو تو اس دن طلوع ہوگی جب ہم اپنے ماضی سے سبق سیکھ کر اپنی منزل کا تعین کرکے اس کی جانب کشاں کشاں بڑھتے ہوئے شاعر مشرق کی آواز میں آواز ملا کر کہنے لگیں

فضا تیری مہ و پرویں سے ہے ذرا آگے

قدم اٹھا یہ مقام آسماں سے دور نہیں

متعلقہ خبریں