Daily Mashriq

ہم ایک قوم نہ بن سکے!

ہم ایک قوم نہ بن سکے!

نبیؐ کی بعثت سے قبل دنیا میں انسان خون، نسل ، جغرافیہ، زبان اوررنگ کے علاوہ کئی ایک دیگر ،امتیازات تقسیم درتقسیم تھے۔ خود عرب دنیا ایک زبان اورصحرائی زندگی کی مشترک تہذیب وثقافت کے باوجود سینکڑوں قبائل میں تقسیم تھی۔ ان قبائل کے درمیان نسلی تفاخر اور مفادات کی خون ریزجنگیں بپا رہتی تھیں۔ لیکن خاتم النبیینؐ نے نہ صرف عرب قبائلی نظام کے اندر سے اسلامی اخوت کی بنیاد پر ایک مسلم قومیت کی مضبوط بنیادیں استوار کیں بلکہ ساری انسانیت کو حرم پاک کے طواف اور میدان عرفات میںجمع ہونے کی دعوت دی تو رنگ ونسل، زبان ولباس اور فکروخیال کے سارے اختلافات مٹاتے ہوئے،اعلان فرمایااے انسانو! اور اللہ تعالیٰ کے فرمان’’اے لوگو! ہم نے تمہیں ایک ہی مرد اور عورت (آدمؑ اور حواؑ) سے پیدا فرمایا‘‘ کو بآواز بلند سنایا، اسی فرمان کا اثر تھا کہ عجم وعرب کی تفریق مٹ گئی،سلمان فارسیؓ نے اپنا شجرہ نسب اپنے ایرانی آبا وجداد کے نام بتانے کی جگہ مسلمان ابن اسلام ابن اسلام بیان کیا۔ اس پیغام مبارک کی تکمیل کے بعد دنیا میںانسانوں کی ایک ہی پہچان رہ گئی۔ اللہ تعالیٰ اور خاتم النبیینؐ پر ایمان رکھنے والے اور دوسری نہ رکھنے والے۔ اور اس میں کوئی جبرواکراہ نہیں ۔ ہرآدمی عقل وشعور کے سبب آزاد اور خود مختار ہے کہ وہ کافر(ایمان نہ لانے والا) بنے یا شکر ادا کرنے والا(ایمان لانے والا)بنے ۔بعثت خاتم النبیینؐ کے دورمبارک سے قیامت تک اب انسانوں کے درمیان پہچان کایہی ایک ہی قرینہ رہے گا۔ اس کو باالفاظ دگر’’ دو قومی نظریہ‘‘ کہتے ہیں۔اسی نظریہ کے تحت ہندوستان کے اندر پہلے غیر مسلم کے ایمان لانے میں دوقومی نظریہ شروع ہوا جوہندوستان پرمسلمانوں کی حکومت قائم ہونے کے بعد اوج کمال پرپہنچا۔ اور پھر جب وقت گزرنے کے ساتھ حالات تبدیل ہوئے اور مسلمانوں کا اقتدار ختم ہوا اور برطانوی راج قائم ہوا تو ڈیڑھ صدی کی غلامی کے دوران بتدریخ ایسے حالات پیدا ہوتے چلے گئے کہ مسلمانان ہند کو اپنے مسلم تشخص کی فکر پڑ گئی۔ اس کی حفاظت کے لئے ہندوستان کے مسلمانوں کا سواد اعظم اس بات پر متفق ہوا کہ ہندوستان کے اندر اب اسلامی تشخص کے ساتھ رہ کر زندگی گزارنا محال ہورہا ہے لہٰذا اسی عقیدہ ونظریہ کی بنیاد پر الگ ملک کا حصول لازمی ہوگیا ہے۔اس اہم ہدف کے حصول کیلئے خیبر سے راس کماری تک ہندوستان کے سارے مسلمان مسلم قومیت کی بنیاد پر اپنی فروعی پہچان وشناخت کو بھول کر محمد علیؒجناح کی ولولہ انگیز قیادت کے تحت ایک قوم بن گئی۔ تحریک پاکستان کے دنوں میں اور قیام پاکستان کے ابتدائی برسوں کے مشاہدات رکھنے والے بزرگ جواب خال خال ہی رہ گئے ہیں اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ ہم کس طرح ایک قوم بن گئے تھے۔اور پھر اس قومیت کا ایک شاندار مظہر1965ء میں بھی سامنے آیا تھا لیکن افسوس صد افسوس کہ اس کے بعد بہت جلد ہم مختلف پہچان رکھنے والی اکائیوں کی طرف متوجہ ہونے لگے۔ کہا جاتا ہے کہ اس کا پہلا مظاہرہ قیام پاکستان کے چوبیس برس بعد بنگالی بھائیوں کی طرف سے ہونے لگاتھا۔ حالانکہ یہ وہ لوگ تھے جو تحریک پاکستان میںہر اول دستے کا کردار ادا کر چکے تھے ۔قیام بنگلہ دیش کے بعد چاہیئے تو یہ تھا کہ باقی ماندہ پاکستان میں جذبہ اخوت وپاکستانیت سر چڑھ کر بولنے لگتا کہ 1971ء کا داغ اور صدمہ بہت گہرا اور جانکاہ تھا۔ لیکن وائے ناکامی! کہ سیاست نے پاکستانیوں کو کبھی ایک قوم نہیں ہونے دیا۔ حالانکہ سیاست کا مطلب ہے قوم کی تہذیب وتمدن کی آرائش وتنظیم کرنا، لیکن سیاست کایہ مفہوم اور عمل اُن لوگوں کے ہاں ہوتا ہے جہاں تعلیم وتعلم کا بول بالا ہو۔ جہاں کے سیاسی رہنما دانشور ہوں۔پڑھے لکھے ، منجھے ہوئے اور جہاندیدہ ہوں ۔ قوم وملک کے ساتھ مخلص ہوں ۔ عوام کے ووٹوں کے تقدس کا خیال رکھنے والے ہوں۔ انا اور اپنے دنیاوی مفادات کو عوام اور ملک پر ترجیح نہ دیتے ہوں۔ لیکن جس ملک میں سیاست نام ہی عہدہ کا حصول اور اس کے ذریعے مفادات دنیاوی پر جائز وناجائز کے امتیاز کے بغیر قبضہ ہو ۔ وہاں جب کبھی ایسے سیاستدانوں کے ان ذاتی مفادات کو گزند پہنچنے کا خطرہ ہوگا وہاں اُن کو ملک وقوم کے مفادات کی کوئی فکر لاحق نہیں ہو سکتی ۔اس کے لئے صوبائی، لسانی، گروہی اور دیگر ہر قسم کے تعصبات سے کام لینے کو جائز سمجھتے ہوئے ہر حربہ استعمال کرنے سے گریز نہیں کیا جاتا۔ایوب خان کے مارشل لاء کے دوران بنگالیوں کی احساس محرومی نے صوبائی تعصب کو آگے بڑھانے کے مواقع پیدا کئے ۔ بنگلہ دیش کے قیام کے بعد پاکستان کے باقی ماندہ چارصوبوں میں وقتاً فوقتاً مختلف سیاستدان صوبائی ونسلی تعصبات کے استعمال سے گریز تو کیا کرتے اس کو بعض اوقات ترپ کے پتے کے طور پر بھی استعمال کرتے رہے ہیں۔گزشتہ ستر برسوں میں پاکستان کے ایک ادارے ’’پاک فوج‘‘ کے علاوہ کہ وہ صرف اور صرف پاکستان کا دم بھرتے ہیں اورپاکستان ہی کے لیئے جیتے اور مرتے ہیں، باقی ہم جتنے بھی ہیں، ہمیں پاکستان سے اُس وقت تک لگا ئو ہے جب تک ہمارے جی میں آئے کسی بھی خواہش کی تکمیل میں کوئی مزاحم نہ ہوتا ہو ۔۔۔اور اگر کوئی ہمیں غلط اور ناجائز اور قانون کے خلاف امور سے منع کرتا ہے یا اُس پر محاسبہ کرنے کی کوشش میں ہوتا ہے تو ہم اُس وقت پاکستانی کے بجائے کچھ اور بن جاتے ہیں۔ ہم سب کو یاد رکھنا چاہیئے کہ ملک کی مثال بحری جہاز کی سی ہوتی ہے ۔ اگر کوئی ایک اس میں کہیں سوراخ کرنے کی کوشش کرتا ہے تو وہ ہاتھ ہمیں روکنا بلکہ توڑ نا چاہیئے۔ اور اُن کے ساتھ کسی صورت اس مسموم ومذموم کام میں ساتھ دینے یا تعاون کرنے کو گناہ کبیرہ ہی سمجھنا ہوگا، تب جا کر پاکستان پائندہ باد کی تکمیل ہوگی۔

متعلقہ خبریں