Daily Mashriq

برف میں آگ اور پہلی تاریخ

برف میں آگ اور پہلی تاریخ

خوش ہے زمانہ آج پہلی تاریخ ہے‘ یہ گانا ریڈیو سیلون سے نہ جانے کتنے برس تک ہر مہینے کی پہلی تاریخ کو صبح سات بجے کی نشریات میں شامل کیا جاتا رہا اور اس کی مقبولیت کا یہ عالم تھا کہ دنیا بھر میں جہاں جہاں لوگ ریڈیو سیلون کے پروگرام سننے کے عادی تھے بلکہ عادی سے بھی زیادہ یہ نشریات ایک نشے کی کیفیت لئے ہوئے تھے کہ مشہور براڈ کاسٹر امین سیانی اپنے مخصوص انداز میں جس طرح پروگرام پیش کرتے تھے وہ انفرادیت لئے ہوئے تھا۔بعد میں بھارت اور پاکستان میں امین سیانی کے انداز کی نقل اتارنے والے کئی لوگ سامنے آئے مگر وہ بات کہاں مولوی مدن کی سی والی کیفیت تھی اور کوئی بھی ڈی جے ریڈیو سیلون کے منفرد انداز میں پروگرام کی میزبانی کرنے والے امین سیانی کے انداز کو پانے میں کامیاب نہیں ہوسکا۔ خیر بات ہو رہی تھی ہر مہینے کی پہلی تاریخ کو نشر ہونے والے اس گانے کی جس کے بول تھے

خوش ہے زمانہ آج پہلی تاریخ ہے

آج بھی نہ صرف مہینے کی پہلی تاریخ ہے بلکہ نئے سال کا بھی پہلا دن ہے‘ مگر جس دور میں ریڈیو سیلون سے مدتوں تک یہ گانا سننے کو ملتا تھا اس دور میں دنیا میں حالات بھی ایسے نہیں تھے جیسے آج ہیں جب لوگ امن کو ترس رہے ہیں‘ ہر طرف دہشت گردی اور انتہا پسندی کے واقعات سے لوگ خوفزدہ ہیں اس لئے اگر آج وہی نغمہ کسی ریڈیو سٹیشن سے نشر کیا جائے تو یقینا لوگ حیرت سے ایک دوسرے کو تکنے لگیں گے۔ محولہ گانے میں مختلف طبقات کے لوگوں کی خوشی کی وجوہات کے بارے میں شاعری کی گئی تھی۔ ملازمین اس لئے خوش کہ انہیں تنخواہ ملنے کا دن ہوتا‘ گھر میں خواتین اس لئے خوش کہ ان کے گھر والے تنخواہ لا کر ان کے ہاتھ پر رکھنے والے ہوتے ہیں۔ دکاندار اس لئے خوش کہ قرض داروں سے قرض کی ادائیگی ہونے والی تھی جبکہ مہینے بھر کے لئے سودا سلف خریدنے سے ان کی دکانداری چمکنے اور منافع میں اضافہ ہونے کے امکانات روشن ہوتے تھے وغیرہ وغیرہ۔ غرض یہ گانا زندگی کے مختلف پہلوئوں کا احاطہ کرتا تھا اور لوگ بڑی دلچسپی اور شوق سے ہر ماہ کی پہلی تاریخ کو یہ گانا سننے کے انتظار میں رہتے تھے۔ پھر یوں ہوا کہ ریڈیو پاکستان کی ملازمت کے دوران اپنی پہلی ترقی پر میرا تبادلہ کوئٹہ سٹیشن پر ہوا۔ یہ جولائی 1979ء کا زمانہ تھا‘ وہاں میری ملاقات ارشاد رضا نامی کمپیئر سے ہوئی جو بالکل امین سیانی کے سٹائل میں ریڈیو پاکستان کوئٹہ سے بولان ہٹ پریڈ کے نام سے پروگرام کی میزبانی کرتا تھا اور وہاں کے سامعین میں بہت مقبول تھا۔ بلوچستان کے کونے کونے میں اس کا یہ پروگرام بہت شوق سے سنا جاتا تھا۔ قیام کوئٹہ کے دوران سال کی پہلی برف باری نے مجھے اتنا متاثر کیا کہ بے ساختہ ایک نظم تخلیق ہوئی جس کا عنوان میں نے ’’ برف میں آگ‘‘ تجویز کیا‘ ملاحظہ کیجئے۔

آج سال کی پہلی

برف کے خنک ذرے

تانک جھانک کرتے تھے

دور ان پہاڑوں کے

خوشنما جھروکوں سے

پھر یہ ریشمی گالے

شہر میں اتر آئے

ہر طرف بکھر آئے

تیرے گھر کے آنگن میں

میرے من کے مندر میں

درمیان رستے میں

سوچ نے مجھے گھیرا

برف کے حسیں ذرے

تیری میری چاہت کے

راستے کا پتھر ہیں

فرقتوں کا مظہر ہیں

دوریوں کا باعث ہیں

فرقتیں کٹیں کیسے؟

دوریاں مٹیںکیسے؟

ایسے تم کرو جاناں

میرے پیار کی حدت

جذب کرکے آنکھوں میں

میری بے قراری کے جنگلوں کے دامن میں

خود سے تم اتر آئو

تتلیوں کی صورت میں

رنگ رنگ بکھرائو

اور پھر شفق بن کر

میری صبحوں شاموں پر

پھیلتی چلی جائو

’’اتنے اچھے موسم میں‘‘

فرقتوں کا کیا مطلب؟

دوریوں کے کیا معنی؟

آج کی افراتفری اور پریشانیوں کو دیکھ کر دل میں ہوک سی اٹھتی ہے اور خواہش جاگ اٹھتی ہے کہ کاش وہ امن و سکون کے دن پھر لوٹ آئیں تو ہم بھی یکم تاریخ کو خوشی کا اظہار کرسکیں۔

متعلقہ خبریں