Daily Mashriq

روبہ زوال پاکستانی کرنسی

روبہ زوال پاکستانی کرنسی

حال ہی میں عمرہ کی سعا دت حا صل کرنے سعودی عرب گیا تووہاں میری ملاقات کئی مسلم ممالک کے لوگوں سے ہوئیں۔ جس میں بنگلہ دیش، افغانستان اور دیگر مسلم دنیا کے کئی ممالک کے مسلمان شامل تھے۔اگر ہم غور کریں تو ہمارے بنگلہ دیش، بھارت اور افغانستان کے مسلمان 40اور50ہزار روپے عمرہ کے لئے ادا کرتے ہیں جبکہ اسکے بر عکس پاکستان کے عوام ایک لاکھ10سے ایک لاکھ20ہزارروپے اداکرکے عمرہ کی سعادت حا صل کرتے ہیں۔ اگر پاکستان کی اقتصادی حالت پر غورکیا جائے تو پاکستان کی اقتصادی حالت اگر موجودہ دور میںجرمنی اور جنوبی کو ریا کے برابر نہیں تو کم از کم چین کے برابر ہونی چاہئے تھی۔ کیونکہ ما ضی میں یعنی60کی دہائی میں پاکستان اقتصادی طور پر بہتر ملک تھا اور جرمنی سمیت کئی ممالک کو پاکستان نے قرضہ دیا تھا مگر بد قسمتی سے ہمارے نا اہل حکمرانوں کے کر توت کی وجہ سے وطن عزیز جرمنی ، جنوبی کو ریا اور چین کیا ، کئی سماجی اقتصادی اعشاریوں میں افغانستان سے بھی نیچے جا رہا ہے۔کسی ملک کی ترقی میں بُہت سارے اقتصادی اور سماجی اعشاریوں کے ساتھ ساتھ وہاں کے زرمبادلہ کے ذخائر اور ڈالر کے مقابلے میں اُن ممالک کی کرنسی کی قدر کا اہم کردار ہو تا ہے۔زرمبادلہ کے ذ خائر جتنے زیادہ ہونگے تو اس ملک کی کرنسی مستحکم ہوگی اور اس سے آسانی سے اندازہ لگا یا جاسکتا ہے کہ اس ملک کی مالی اور اقتصادی حالت اچھی اور مُستحکم ہوگی۔مگر مُجھے انتہائی افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ پاکستان کے ساتھ نہ تو معقول زرمبادلہ کے ذ خائر ہیں اور نہ ڈالر کے مقابلے میں پاکستانی روپے کی قدر مستحکم ہے۔اگر ہم مزید تجزیہ کریں تو اس وقت چین کے پاس زرمبادلہ کے ذخائر3200ارب ڈالر اور جاپان کے ذخائر1200 ارب ڈالر ہیں۔مگر میں یہاں پاکستانی معیشت اور اقتصادیات کا موازنہ چین، امریکہ ، جاپان ، بر طانیہ اور دیگر ترقی یافتہ ممالک کے ساتھ نہیں کرنا چاہتا ، بلکہ میں نے پاکستانی زرمبادلہ کے ذ خائر اور اس کی کرنسی کا موازنہ اُن ممالک سے کردیا جو پاکستان کے ساتھ آزاد ہوئے یا پاکستان کے بعد آزاد ہوئے۔ مگر یہ انتہائی افسوس کا مقام ہے کہ موجودہ دور میں پاکستان سماجی اقتصادی اعشا ریوں کے لحاظ سے سب سے نیچے جا رہا ہے ۔1992میں ، ایک سٹڈی ٹور پر بنگلہ دیش کی اسلامی یونیورسٹی گیا تھا تو اُس وقت ایک ڈالر کی قیمت پاکستانی25 روپے تھی جبکہ بنگلہ دیشی کرنسی میں ڈالر کی قیمت38روپے تھی۔مگر اب حکمرانوں کی لوٹ کھسوٹ، کرپشن اور بد عنوانی کی وجہ سے پاکستان کی روپے کی قدر اتنی گر گئی کہ ایک ڈالر کی قیمت ۱۴۰ روپے ہوگئی۔ اگر ہم مزید غور کریں تو بھارت کے73روپے ایک ڈالر کے برابر ہیں جبکہ بھوٹان کے72روپے ایک امریکی ڈالر ، افغانستان کے83 افغانی ایک امریکی ڈالر جبکہ پاکستان کے 140 روپے ایک امریکی ڈالر کے بر ابر ہیں۔ ایک زمانہ تھا جب خیبر با زار میں افغانی کرنسی سے بھری ایک ہتھ گا ڑی بمشکل500روپے بنتے تھے مگر اب افغانی کرنسی کی قیمت پاکستانی روپے کے مقابلے میں دو چند بڑھ گئی ۔ اگر جنوبی ایشاء کے ممالک کے زرمبادلہ کے ذخائر پر نظر ڈالیں تو بھارت کے زرمبادلہ کے ذخائر 402ارب ڈالر، بنگلہ دیش جو پاکستان سے علیحدہ ہو کر1971میں وجود میں آیا انکے زرمبادلہ کے ذخائر33ارب ڈالر، نیپال کے10ارب ڈالر، سری لنکا کے8.6 ارب ڈالر اور پاکستان کے سب سے کم یعنی8.4ارب ڈالر ہیں اور افغانستان جو اب تک حالت جنگ میں ہے اس کے زرمبادلہ کے ذخائر 7.5ارب ڈالر ہیں۔ قارئین سوچتے ہونگے کہ پاکستان میں تباہی اور بر بادی کے ذمہ دار کون ہیں۔ تو یہاں عرض کرتا چلوں کہ پاکستان کی تباہی اور بر بادی کے ذمہ دار پاکستان کی آمرمطلق ، بیوروکریسی اور سیاست دان ہیں۔پاکستان پر آمروں نے35 سال اور سیاست دانوں نے 36 سال حکومت کی اور ان دونوں نے پاکستان اور پاکستانی عوام کو رسوا کرنے میں کو ئی کثر روا نہیں رکھی اور یہی وجہ ہے کہ پاکستان196ممالک کی فہرست میں اُن غریب ممالک کی صف میں کھڑا ہے جو بھوک اور افلاس کی وجہ سے ایک دوسرے کو کھا جاتے ہیں۔پاکستان صحت ، تعلیم ، متوقع زندگی اور روزگار میں جنوبی ایشیاء کے غریب ممالک میں بھی سب سے نیچے ہے۔پاکستان کی ا قتصادی شرح نمو4 فی صد ہے جبکہ بنگلہ دیش کی۷ فی صد، بھارت7.3فی صد، سری لنکا7.4فی صد اور مالدیپ کی6.8فی صد ہے۔ اگر ہم غور کریں تو پاکستانیوں کی متوقع زندگی 65سال ہے جبکہ اسکے بر عکس مالدیپ کی77سال، سری لنکا71 سال ، بنگلہ دیش69سال ، بھارت اور بھوٹان کی68 سال ہے۔پاکستان انسانی ترقی کی فہرست میں سب سے نیچے اور گئے گزرے یعنی 146 ویں نمبر پر،سری لنکا73 ویں، بھارت اور بھوٹان 135ویں نمبر پرہیں۔اگر ہم بے روز گاری پر نظر ڈالیں تو وہ بھی جنوبی ایشیا میں سب سے زیادہ یعنی7فی صد ، جبکہ نیپال میں بے روز گاری1.8فی صد ، بھارت میں2.8فی صد، اور بنگلہ دیش میں 4.3فی صد ہے۔علاوہ ازیں پاکستان میں2 ڈالر کے حساب سے77 فی صد لوگ غُربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ جنوبی ایشیاء میں پاکستان کی شرح خواندگی سب سے کم یعنی55 صد، جبکہ اسکے بر عکس مالدیپ میں شرح خواندگی99 فی صد ، سری لنکا میں98فی صد اور بھارت میں 75فی صد ہے۔

متعلقہ خبریں