Daily Mashriq

قانون سازی اور نفاذ دونوں اہم ہیں

قانون سازی اور نفاذ دونوں اہم ہیں

خیبر پختونخوا کے اراکین اسمبلی کے جذبات واحساسات اور قانون سازی سے متعلق ان کی کاوشوں سے انکار کی گنجائش نہیں۔ یہ ایک ایسا سنگین مسئلہ ہے جس پر پورے ایوان کا بالاتفاق ردعمل، اظہارخیال اور سخت سے سخت قانون سازی پر اتفاق فطری امر ہے۔ اگر دیکھا جائے تو اس سنجیدگی اور سخت ردعمل کے باوجود قانون سازوں اور سرکاری مشینری اور معاشرے کے اقدامات سطحی اور وقتی اُبال ہیں۔ ہر واقعے کے بعد اس قسم کی صورتحال دیکھنے میں آتی ہے اور پھر جذبات کا تلاطم جب باقی نہیں رہتا تو اگلے کسی واقعے تک معاملے کو بھلا دیا جاتا ہے، کتنے واقعات خیبر پختونخوا میں پیش آئے کس قدر احتجاج کیا گیا، حکمرانوں سے لیکر سیاستدانوں عوامی اور سول سوسائٹی کے نمائندوں تک سبھی حلقوں اور طبقوں میں تشویش کا اظہار کیا گیا اور اس مسئلے کے تدارک کیلئے سخت قانون سازی اور اقدامات پر زور دیا گیا لیکن سب وقتی ثابت ہوا۔ معاشرے اور والدین کی ذمہ داریوں اور احتیاط سے قطع نظر اور قانون سازی سے بھی صرف نظر کرتے ہوئے اگر اس قسم کے کسی واقعے پر سرکاری مشینری انتظامیہ اور پولیس کا ردعمل اور کردار دیکھا جائے تو جو صورتحال سامنے آتی ہے اگر اسے اس قسم کے واقعات کے تدارک میں سب سے بڑی رکاوٹ قرار دیا جائے تو خلاف حقیقت نہ ہوگا، کسی ایک واقع پر موقوف نہیں اس قسم کے واقعات میں عمومی طور پر اختیارکردہ رویہ اس قسم کے واقعے کو دبانا اور اس پر مٹی ڈالنے کا ہوتا ہے۔ مظلوم بچہ یا بچی تو اس وقت ایک ایسے حالات کا شکار ہوتے ہیں کہ نہ تو وہ اپنے ساتھ ہونے والے واقعے کو پوری طرح سامنے لانے کی ہمت رکھتے ہیں اور نہ ہی ان کی ذہنی اور دماغی صلاحیت اتنی ہوتی ہے کہ وہ اس واقعے کو اس طرح سے بیان کرسکیں کہ پولیس اور تحقیقاتی اداروں کو کوئی ٹھوس رہنمائی اور تحقیق وتفتیش میں مدد ملے۔ یہ فطری کیفیت اپنی جگہ لیکن اگر دیکھا جائے تو والدین عزیز واقارب محلہ، قبیلہ، معاشرہ اور پولیس وانتظامیہ سبھی مل کر اس واقعے کے ذمہ داروں کا بالواسطہ دفاع کر رہے ہوتے ہیں۔ سبھی کی تقریباً یہی کوشش ہوتی ہے کہ صرف نظر کی جائے اس کے بعد بھی تفتیش وچالان اور یہاں تک کہ عدالتی معاملات میں بھی قانون ومعاشرہ اور استغاثہ دانستہ ونادانستہ ملزم ہی کی اعانت کر رہے ہوتے ہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ جب تک یہ رویہ رہے گا سخت سے سخت قانون سازی اور سخت سے سخت سزا کی خواہش کا حصول لاحاصل نہیں تو غیرمؤثر اور ادھورا ہی رہے گا۔ ہمارے تئیں اس ایوان کو سخت سے سخت سزا کا قانون بنانے کا حق حاصل ہے اور اس کی ضرورت بھی ہے قانون سازی میں شواہد اور ثبوتوں کے حوالے سے پیچیدگیوں کا جائزہ لینے اور سائنسی شہادتوں کے بناء پر مقدمے کا فیصلہ کرنے اور ملزم کو سزا دینے کا بھی طریقہ کار سوچ سمجھ کر طے کیا جائے۔ قانون میں کوئی ایسی خامی کی گنجائش نہ رہے کہ جس سے ملزم کو فائدہ مل سکے۔ کسی خاص واقعے پر واویلا اور بہت سارے واقعات پر خاموشی اور لاتعلقی کا رویہ نہیں اپنانا چاہئے، ملزم کا کوئی مذہبی وسیاسی پس منظر ہو یا کچھ اور ہو ملزم کو اس کے پس منظر اور تعلق ونسبت کی بنیاد پر نہیں اس کے جرم کی بنیاد پر سلوک وسزاء کا مستحق گردانا جائے اور ملزم کیساتھ کوئی ایسی نسبت کی ہی نہ جائے کہ اس سے کسی امتیاز اور منافرت کی کیفیت پیدا ہو۔ ملزم کو فقط اس کے جرم کا مرتکب اور سزاوار گردانا جائے اور ان پر ان کا الزام شواہد اور ثبوتوں کیساتھ ثابت کیا جائے تبھی عدالت سے اسے سزا ہوسکے گی اور اسی چیز پر توجہ مرکوز کرنے کی ضرورت ہے تاکہ ملزم کو قرار واقعی سزا ملے اور مظلوم کو انصاف ملے۔ جب تک کم سے کم مدت میں کسی ملزم کو سخت سزا ملنے کی مثالیں سامنے نہیں آتیں تو قانون سازی خواہ کتنی بھی سخت اور سنجیدہ کی جائے تو معاشرے پر اس کے اثرات سامنے نہیں آئیں گے۔ قانون سازی کی یقیناً بڑی ضرورت ہے مگر اس سے بھی بڑا اور اہم کام ملزم کو کیفرکردار تک پہنچانا اور سزا کو یقینی بنانا ہے۔ جب تک سخت قوانین پر عملدرآمد اور ملزمان کو سزاؤں کا یقین نہیں آئے گا تب تک اس طرح کے واقعات میں کمی ممکن نہیں۔

متعلقہ خبریں