Daily Mashriq

سوات موٹروے کا خونی موڑ

سوات موٹروے کا خونی موڑ

سوات موٹروے پر ٹنل سے فوری بعد آنے والی شدید ترین اُترائی والی سڑک کے خطرناک موڑ پر ایک ہی دن میں دو حادثات اور اسی مقام پر آئے روز کے خوفناک اور بدترین حادثات ایسے واقعات نہیں جن کو حادثات قرار دیکر نظر انداز کیا جا سکے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ سوات موٹروے پر بننے والے مزید ٹنلز کی عدم تکمیل کے باعث پلئی کی طرف جو متبادل راستہ تعمیر کیا گیا ہے اس کی اُترائی اور تنگی آئے روز خوفناک حادثات کا باعث بن رہا ہے جس میں قیمتی جانوں کا ضیاع ہوتا ہے اور لوگ زخمی ہوکر زندگی بھر کیلئے معذور ہو جاتے ہیں۔ اگر سڑک کے تھوڑے سے حصے کا جائزہ لیا جائے تو یہ کسی طور بھی محفوظ نہیں، سڑک کا یہ حصہ اتنا تھوڑا اور کم فاصلے کا ہے کہ ایک دو دن میں اسے کشادہ اور محفوظ بنانا ناممکن نہیں۔ دیکھا جائے تو بار بار حادثے کا سبب بننے والی سڑک اس قدر دشوار اور ناممکن نہیں کہ اس کی مثال نہ ملتی ہو۔ سوات موٹروے کی تکمیل میں ابھی وقت لگے گا اور جب تک منصوبے کے مطابق سرنگوں کی تعمیر مکمل نہیں ہوتی تو اس سڑک پر گاڑیوں کی بھاری آمد ورفت رہے گی بعدازاں بھی یہ سڑک پلئی اور مضافاتی علاقوں کیلئے استعمال ہوتی رہے گی۔ بنا بریں اس سڑک کی فوری توسیع اور موڑ پر کلرکہار کے مقام پر موجود انتظامات کی طرز پر حفاظتی اقدامات کئے جائیں۔ چکدرہ کی طرف سے آنے والی گاڑیوں کے ڈرائیوروںکو اس موڑ کے حوالے سے آگاہ کیا جائے اور ان کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کا پابند بنایا جائے تو بھی ٹریفک حادثات کی روک تھام ممکن ہے۔ خاص طور پر اس سڑک پر پہلی مرتبہ سفر کرنے والوں کو تو باقاعدہ آگاہ کرنے کی ضرورت ہے۔ یہاں پر ٹریفک پولیس کی بھی باقاعدہ اور مستقل ڈیوٹی ہونی چاہئے جو گاڑیوں کی آمد ورفت اور ٹریفک قوانین ودرکار احتیاط کو یقینی بنائیں۔

روٹی مہنگی کرنے کی دھمکی

آٹا کی قیمتوں میں آئے روز اضافہ اور گیس کی لوڈشیڈنگ کیساتھ ساتھ اس کی گرانی کے باعث نانبائیوں نے ایک مرتبہ پھر روٹی مہنگی کرنے کی دھمکی دے دی ہے۔ پشاور کی ضلعی انتظامیہ نے تو بہت عرصہ قبل نانبائیوں سے روٹی پندرہ روپے کرنے کا معاملہ طے کر دیا تھا جسے عدالت طلبی پر جواب دہی کا بارہلکا کر کے دوبارہ دس روپے اور وزن میں کمی کی گئی۔ اس وقت سے نانبائی احتجاج کر رہے ہیں، نانبائیوں کو گیس کی نرخوں میں سبسڈی کا جو خواب دکھایا گیا تھا وہ بھی پورا نہیں ہوا ان سارے عوامل کے باعث نانبائی اکثر روٹی مہنگی کرنے کی دھمکی دیتے آئے ہیں۔ پختونخوا نانبائیان ایسوسی ایشن ضلع پشاور نے ایک بار پھر صوبائی حکومت سے کہا ہے کہ آٹا کے نرخ انتہائی بڑھ گئے ہیں اور گیس کی قلت کے باعث نانبائیان اپنے تندور سلینڈر سے چلا رہے ہیں۔ اس صورتحال میں موجودہ ریٹ یعنی10روپے میں روٹی بیچنا بالکل بھی ممکن نہیں لہٰذا حکومت ایک ہفتہ کے اندر اندر150گرام روٹی کا نرخ15روپے مقرر کرے ورنہ پھر خود سے روٹی پندرہ روپے میں بیچنا شروع کردیں گے۔ جس صورتحال سے نانبائی دوچار ہیں اس میں ان کے مطالبے پر غورکرنے اور ان سے مذاکرات کی ضرورت ہے۔ نانبائیوں کو اس امر کا بخوبی علم ہے کہ ان کی ہڑتال انتظامیہ پہلے کی طرح ایک دن بھی برداشت نہیں کر سکے گی۔ حکومت اگر نانبائیوں کو گیس کی فراہمی اور نرخوں میں رعایت کا وعدہ پورا کر سکے گی تبھی مذاکرات کے قابل ہوگی۔ حکومت اگر اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے میں ناکام رہے گی تو انتظامیہ کیلئے نانبائیوں کو روٹی کے نرخوں میں اضافہ نہ کرنے دینا مشکل ہو جائے گا۔ یہ ایک ایسا عوامی مسئلہ ہے جس سے عوام کا حکومت کیخلاف جذبات کا بھڑکاؤ فطری امر ہوگا بہتر ہے کہ نانبائیوں کی مشکلات کا ازالہ کر کے روٹی کی قیمت میں اضافہ نہ ہونے دیا جائے۔

شہریوں کو اپنی مدد آپ پر بھی توجہ دینی چاہئے

خیبر پختونخوا میں سردی کے شکستہ ریکارڈ نے جہاں گیس اور ایندھن کے انتظام کے ذمہ دار سرکاری اداروں کی کارکردگی کی قلعی کھول دی ہے وہاں پر شہریوں کی مشکلات سے اپنی مدد آپ کے تحت نمٹنے کے اسباب اختیار نہ کرنے کو بھی طشت ازبام کر دیا ہے۔ حکومت کی ناقص منصوبہ بندی اور ناکامیاں اپنی جگہ مسلمہ حقیقت ہے لیکن شہریوں کا بھی اپنے آپ کو ہر قدم پر حکومت ہی کے اداروں پر انحصار کرنے کا رویہ قابل قبول امر نہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ شہری گیس پریشر کی کمی اور گیس بالکل نہ آنے کے باعث جن مشکلات سے دوچار ہورہے ہیں اس کا تقاضا ہے کہ شہری بھی حالات کیلئے خود کو تیار رکھیں تاکہ اس صورتحال میں اپنی مدد آپ کے قابل ہوں۔ شہر کے گھروں میں سیلنڈر کا استعمال ہی ممکن ہے، شہر ی اگر سیلنڈر بھروا کر رکھیں تو بوقت ضرورت کام آسکتا ہے۔ جن شہریوں کو صحن یا چھت کی سہولت میسر ہے وہ کوئلہ سے اپنی ضرورت پوری کر سکتے ہیں، شہری پانی گرم کرنے کیلئے گیزر کے استعمال کی بجائے دیگچی میں پانی گرم کر کے وضو کر سکتے ہیں۔ ہیٹر کے بغیر شہری گزارہ کرنے پر تیار ہوں تو مشکل نہیں۔ جو شہری انورٹرز کو بطور ہیٹر استعمال کررہے ہیں وہ اس کا استعمال ترک کریں تو دوسرے شہریوں کو بجلی میسر آسکتی ہے جو شہری کمپریسر لگا کر ہیٹر لگارہے ہیں وہ اگر ایسا نہ کریں تو دوسرے شہریوں کو کھانا پکانے کیلئے گیس کی سہولت میسر آسکتی ہے۔ شہری اگر ایک دوسرے کیلئے رواداری اور ایثار کے جذبات کا مظاہرہ کریں اور ایندھن بقدر ضرورت ہی استعمال میں لائیں تو دوسروں کی مشکلات میں کمی آسکتی ہے۔

متعلقہ خبریں