Daily Mashriq

نئے سال کی خوشیاں

نئے سال کی خوشیاں

آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) نے جنوری 2020کیلئے مختلف درآمدی پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 1.8فیصد سے 3.2فیصد تک اضافے کی تجویز دی ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق وزارت خزانہ کی جانب سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کو سالِ نو کے موقع پر برقرار رکھنے یا صارفین کیلئے قیمتوں میں اضافے سے متعلق حتمی فیصلہ جلد ہو جائے گا۔ اوگرا نے پیٹرول کی قیمت میں 2روپے 61پیسے یا 2.3فیصد اضافے کی تجویز دی ہے، اگر حکومت یہ اضافہ منظور کرلیتی ہے تو پیٹرول کی قیمت موجودہ 103.99 روپے فی لیٹر سے بڑھ کر116.60روپے تک پہنچ جائے۔ اکثر گاڑیاں خاص طور پر مسافر بردار گاڑیاں پیٹرول کو بطور ایندھن استعمال کررہی ہیں، لہٰذا پیٹرول کی قیمت میں اضافے سے ملک بھر میں ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں اضافہ ہوجائے گا، ادھرکمپریسڈ نیچرل گیس (سی این جی) کی دستیابی میں شدید کمی کے بعد پیٹرول کے بطور ایندھن استعمال میں اضافہ ہوا۔ علاوہ ازیں اوگرا نے ہائی اسپیڈ ڈیزل (ایچ ایس ڈی) کی قیمت میں 2روپے25پیسے یا 1.8فیصد اضافے کی تجویز دی ہے جو ٹرانسپورٹ اور زرعی شعبوں میں استعمال ہوتا ہے، اس اضافے کے بعد ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت موجودہ 125.01روپے سے بڑھ کر 127.26 روپے تک پہنچنے کا امکان ہے۔ مذکورہ اضافے سے زرعی مصنوعات کی قیمتوں کیساتھ ساتھ گڈز ٹرانسپورٹس کے کرایوں میں اضافہ ہوگا۔ خیال رہے کہ حکومت پہلے ہی بلوچستان میں زرعی مقاصد کیلئے استعمال ہونے والے ٹیوب ویلز پر کم ٹیرف پر سبسڈی فراہم کررہی ہے۔ اوگرا نے جنوری2020 کیلئے مٹی کے تیل کی قیمت میں 3.10روپے یا 3.2فیصد اضافے کی تجویز دی ہے۔ اگر حکومت یہ مجوزہ اضافہ منظور کردیتی ہے تو مٹی کے تیل کی قیمت موجودہ 96.35 سے بڑھ کر 99.45 فی لیٹر تک پہنچ جائے گی۔ اوگرا نے لائٹ ڈیزل آئل (ایل ڈی او) کی قیمت میں2.08 یا2.5فیصد اضافے کی تجویز بھی دی ہے جس کی منظوری کی صورت میں لائٹ ڈیزل آئل کی قیمت موجودہ82.43 سے بڑھ کر84.43 فی لیٹر ہو جائے گی۔ یہاں یہ بھی واضح رہے کہ لائٹ ڈیزل آئل عام طور پر صنعتوں میں استعمال کیا جاتا ہے۔ اب چلتے ہیں خوشخبری کی طرف وہ یہ ہے کہ وزارتِ خزانہ نے آئی ایم ایف کی حالیہ جائزہ رپورٹ پر اپنے اعلامیہ میں خوشخبری سنائی ہے کہ حکومتی اقدامات کے نتیجے میں رواں مالی سال کے دوران مہنگائی کی سطح گر کر پانچ فیصد پر آجائے گی جو گزشتہ پانچ ماہ کے دوران کم ہو کر 10.8فیصد رہی ہے۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ آئی ایم ایف نے پاکستان کی رواں سال مہنگائی کی شرح 13فیصد سے کم ہوکر 11.8پر آنے کا تخمینہ لگایا ہے۔ وزارتِ خزانہ کا خیال ہے کہ ہمارا تخمینہ آئی ایم ایف کے اندازے سے بہتر رہے گا۔ آئی ایم ایف نے اپنی رپورٹ میں اپنے دئیے گئے اصلاحات پروگرام پر عمل درآمد کو سراہتے ہوئے پاکستان کے اقتصادی منظرنامے کے بہتری کی طرف گامزن ہونے کی نوید دی ہے۔ دوسری طرف انتہائی تشویشناک بات یہ سامنے آئی ہے کہ حکومت آئی ایم ایف سے وعدے کے مطابق جنوری2020 میں پاور اور گیس ٹیرف میں اضافہ کرنے جا رہی ہے جس کے نتیجے میں اگلے چند ماہ میں مہنگائی مزید بڑھے گی۔ زمینی حقائق بتاتے ہیں کہ مہنگائی اپنی اب تک کی بلند ترین سطح پر ہے، عوام الناس روزمرہ کھانے پینے کی اشیا کی قیمتیں آسمان تک پہنچنے سے انتہائی پریشان ہیں، حقیقت یہ ہے کہ مہنگائی کی چکی میں پسے عوام کے پاس اتنی طاقت نہیں رہی کہ وہ کسی دوسری طرف دیکھ سکیں۔ ان حالات میں عموماً جملہ ضروریات ثانوی حیثیت اختیار کر لیتی ہیں، وزارتِ خزانہ کو حقائق کی طرف آنا چاہئے اور مہنگائی کنٹرول کرنے میں مزید سوچ بچار سے کام لینا چاہئے۔ محض خوش کن پریس ریلیز سے عوام کو لبھایا نہیں جا سکتا، زمینی حقائق کو تسلیم کرنا چاہئے اور زمینی حقائق سے منہ نہیں موڑنا چاہئے ورنہ زمینی حقائق خودبخود منہ چڑانے لگتے ہیں جو ملک کے استحکام بلکہ برسراقتدار طبقے کیلئے بھی دھم دھڑکا کر دیتے ہیں، آج بھی اس بات کو تسلیم کیا جا تا ہے کہ سابق صدر ایوب خان کے دور میں پاکستان میں اقتصادی خاص کر صنعتی ترقی مثالی ہوئی ہے جس کی نظیر بعد کے ادوار میں نہیں ملتی لیکن اسی مہنگائی کے رجحان نے صدر ایوب کی مثالی ترقی کو ظلمات میں گم کر دیا تھا، یہ تو درست ہے کہ لوریوں سے بچہ سو تو جاتا ہے مگر کسی وقت بھی آنکھ کھل جانے کا امکان باقی رہتا ہے چنانچہ ماں آہٹ پیدا نہ ہونے کے امکان کو ختم کرنے پر توجہ دیتی ہے، وہ زمانہ لدھ گیا جب گندم مہنگی ہوتی تھی تو ملک میں مہنگائی کی شرح بھی بڑھ جاتی تھی آج کا سہوکار بڑا چالاک ہوگیا ہے۔ اب وہ کرنسی کی قدر گرنے یا پیٹرول کی قیمت چڑھنے یا پھر گندم کی فصل کی قیمت میں اُتار چڑھاؤ کو نہیں دیکھتا بلکہ وہ اپنے داؤ ہر بہانے کھیلتا ہے چنانچہ آئی ایم ایف ہو یا امریکی معیشت دان یا ایسا کوئی عالمی ادارہ ہو اب وہ یہ جان گئے ہیں کہ پاکستان کی معیشت کے بارے میں گمراہ کن اعداد وشمار بیچ کر کسی من پسند حکومت کی پذیرائی نہیں کی جا سکتی۔ پیٹرول، بجلی اور گیس کی قیمتیں آئی ایم ایف جس انداز میں بڑھا رہی ہے اس کا لامحالہ اثرات ملکی معیشت کیساتھ ساتھ براہ راست عوام کی جیبوں پر بھی بھاری پڑیں گے، حالت یہ ہے کہ موجودہ حکومت نے روپیہ نہ صرف قرضے کی شکل میں آئی ایم ایف سے بلکہ کئی دوست ممالک سے بھی لیا ہے، اس کیساتھ ساتھ عوام سے بھی پیسہ اُٹھایا ہے، مختلف صورتوں میں کہیں بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کی فہرست کو سکڑکر تو کہیں پانچ مرلہ مکان پر ٹیکس کی چھوٹ کو ختم کر دینے کی تجویز پر کوشش ہورہی ہے، تو کہیں گرانی میں اضافہ کر کے روپیہ جمع ہو رہا ہے مگر عوام بھی ٹک ٹکی باندھے حسرت ویاس کی تصویر بنے بیٹھے ہیں کہ اتنے پیسوں سے ابھی تک کسی بھی شعبے میں اس کا مصرف نظر نہیں آرہا، کوئی ترقی سمجھ میں نہیں آپا رہی ہے، بس ایک شعبہ ہے جس میں خوب ترقی ہو رہی ہے وہ گرانی ہے، جس پر وہ گھبرانا نہیں کے نعرے پر مسکرا دیتے ہیں۔

متعلقہ خبریں