Daily Mashriq

مذہب' شہریت اور ہندوستانی سیکولرازم

مذہب' شہریت اور ہندوستانی سیکولرازم

قرآن مجید کی سورة التغابن کی دوسری آیت مبارکہ میں ارشاد باری تعالیٰ ہے ۔ ترجمہ: اور اُسی نے تمہیں پیدا کیا ہے اور تم میں سے بعض کافر ہیں اور بعض مومن۔ یہ دو قومی نظریہ جس کی بنیاد رنگ' نسل' علاقہ یا زبان نہیں بلکہ ایمان اور صرف ایمان ہے۔ ایک اللہ کی وحدانیت کو تسلیم کرنے والے اور محمدۖ کو اللہ کا آخری رسول ماننے والے اورکعبة اللہ کو اپنا قبلہ قرار دینے والے ایک قوم کے افراد ہیں جبکہ اس بنیادی حقیقت کا انکار کرنے والے خواہ وہ کسی بھی مذہب اور رنگ ونسل سے تعلق رکھتے ہوں وہ دوسری قوم کے افراد ہیں۔ حدیث مبارکہ ہے ''الکفر ملة واحدہ'' یعنی تمام کفر ایک ملت ہے۔ دو قومی نظرئیے کی بابت تفصیل سے سمجھنا مقصود ہو تو علامہ اقبال کی نثر اور اشعار سے رہنمائی کے بعد کسی اور شے کی حاجت نہیں رہتی کہ برصغیر میں جاری مباحثوں کے تناظر میں دوقومی نظرئیے کو جس طرح ہر زاوئیے سے آپ نے بیان فرمایا اس نے آپ کی تحریروں کو منفرد بنا دیا ہے۔ مسلم قومیت کے تناظر میں علامہ اقبال نے مسلمانوں کیلئے الگ وطن کا مقدمہ جس خوبصورتی سے پیش کیا وہ اپنی مثال آپ ہے۔قیام پاکستان مذہب کی بنیاد پر عمل میں آیا۔ گاندھی جی کہتے تھے مذہب کی بنیاد پر ایک ملک کی تقسیم کیسے کی جا سکتی ہے؟ آج کے ہندوستان نے مذہب کو شہریت کی بنیاد تسلیم کر کے گاندھی جی کے آدرشوں کو غلط ثابت کر دیا ہے۔ کوئی شک نہیں کہ ہندوستان کا سیکولرازم آخری ہچکیاں لے رہا ہے' کشمیر کی حیثیت کو تبدیل کرنے کیلئے آرٹیکل370 کا خاتمہ اور اب مذہب کی بنیاد پر شہریت کے قانون کے میں رد وبدل کے بعد ہندوستانی سیکولرازم کا تابوت تیار ہے۔ بانیان پاکستان نے دوقومی نظرئیے کی بنیاد پر مسلمانان ہند کیلئے الگ وطن کا مطالبہ کیا تو ہندو قیادت کے علاوہ مسلمانوں کے اندر سے بھی مولانا ابوالکلام آزاد جیسے قدآور مسلمان تھے جو سیکولرازم کے داعی بن گئے لیکن مسلمانوں کی اکثریت آل انڈیا مسلم لیگ کے جھنڈے تلے جمع ہو گئی اور پاکستان معرض وجود میں آ گیا۔ جمعیت علمائے ہند کی قیادت کا بھی اصرار تھا کہ مسلم پرسنل لاء کے سہارے کام چلایا جا سکتا ہے لیکن مسلمان اس فتوے بازی سے گمراہ نہ ہوئے اور الگ وطن کی صورت میں اپنی منزل پالی۔ جن لوگوں کو ہندوؤں کی رفاقت میں رہنے کا بڑا شوق تھا ان کی اولادوں نے بعدازاں ہندوستان کو اپنے لئے کسی جہنم سے کم نہ پایا۔ یہ لوگ ہر شعبے میں پیچھے رہ گئے' اس بے بس اور لاچار اقلیت کی حالت زار جاننے کیلئے اپنے پہلے دورحکومت میں وزیراعظم من موہن سنگھ نے اراکین پارلیمنٹ پر مشتمل کمیٹی تشکیل دی۔ پاکستان میں بیٹھے سیکولرازم کو چاہنے والے اور متحدہ ہندوستان کے حق میں دلیلیں دینے والے اپنی غلط فہمی کو دور کرنے کا اگر ارادہ رکھتے ہوں تو من موہن سنگھ کی تشکیل کردہ ''سچر کمیٹی'' کی رپورٹ پڑھ لیں۔ ان کی غلط فہمیوں کا ازالہ ہی نہیں ہوگا بلکہ دماغ کے چودہ طبق بھی روشن ہو جائیں گے کہ اہل پاکستان کے برابر آبادی والی مسلم اقلیت مکمل طور پر خوف کی نفسیات میں جیتی ہے۔ یہ خوف اُن کی رگوں میں کیسے رچ بس گیا ہے' اس کا اندازہ لگانا شاید مشکل ہوتا اگر میرے سامنے وہ مثال نہ ہوتی کہ برادرم سجاد کریم نے انڈین مسلمانوں اور پاکستانی مسلمانوں کی ملاقات میں میرے سامنے پیش کی تھی۔ میرے سوال پر کہ برطانیہ میں پاکستانی مسلمان ہندوستانی مسلمانوں کی نسبت بہت آگے ہیں کا جواب دیتے ہوئے یورپی پارلیمنٹ کے سابق مسلمان رکن سجاد کریم نے سینہ تان کر کہا ہمیں پاکستان کے وجود سے طاقت ملتی ہے' ہمیں لگتا ہے کہ پاکستان ہماری پشت پر کھڑا ہے جبکہ ہندوستانی مسلمان ہندوستان کے حوالے سے ایسا نہیں سوچتے، جو طاقت پاکستان کی وجہ سے ہمیں حاصل ہے وہ بے چارے اُس کا تصور بھی نہیںکر سکتے۔

بعض احباب نادانی میں یہ تھیوری پیش کرتے ہیں کہ ہندوستان (بھارت) پاکستان اور بنگلہ دیش کے مسلمان ملکر ہم ہندوؤںکے برابر ہوتے یا پھر ایک قابل ذکر بڑی اقلیت ہوتے تو ہندو مسلمانوں کا کچھ نہ بگاڑ سکتے تھے، یہ بات حقائق کے اعتبار سے غلط ہے۔ اکھنڈ بھارت کی ہندو ذہنیت کے تحت اہلیان پاکستان پر گزشتہ 72سالوں سے ہونے والے فکری یلغار بھی مختلف شکلوں میں حملہ آور ہوتی ہے جن میں ایک یہ ہے کہ ہندوستان کا بٹوارہ کانگریسی رہنماؤں کی غلطیوں کی وجہ سے ہوا ورنہ مسلمان قائدین تو اکٹھا رہنے کے حق میں تھے۔ مہاتما گاندھی کے پوتے راج موہن گاندھی کی کتاب ''ایٹ لائیوز'' کا مطالعہ کرلیجئے یا حال ہی میں شائع ہونے والی جسونت سنگھ کی کتاب ''جناح'' پڑھ لیجئے' دونوں کا فوکس اس بات پر ہے کہ پاکستان ایک ردِعمل کا نتیجہ ہے۔ ان جیسے بھارتی مصنفین کے مطابق اگر ہندو مسلم مسئلے کو درست طور پر ہینڈل کر لیا جاتا تو پاکستان کبھی نہ بنتا۔ اس قسم کی تحریروں کی پاکستان میں عمومی پذیرائی ہوتی ہے چونکہ تقسیم ہند کا الزام کانگریسی رہنماؤں کو دیا جاتا ہے لیکن درحقیت یہ تحریریں پاکستان کی نظریاتی بنیادوںکو ہلانے کی مذموم کوششوں کا حصہ ہیں۔ اگر ان دلائل میں دم خم ہوتا تو آج کے ہندوستان میں ہندو مسلم مسئلہ ختم ہو چکا ہوتا اور مسلمان ایک قابل رحم اور اقلیت کی صورت میں وہاں نہ رہ رہے ہوتے! وقت نے ثابت کر دیا ہے کہ مذہب کی بنیاد پر دوقومی نظرئیے کے تحت تقسیم ہند ایک درست فیصلہ تھا۔ پاکستان کے قیام نے مسلمانوں کی بڑی اکثریت کو لمبے عرصے کی ہندو غلامی سے نہ صرف بچا لیا بلکہ دنیا کے نقشے پر اسلام کے نام پر بننے والے وطن میں اسلامی تعلیمات کے مطابق ایک ماڈل معاشرہ تشکیل دینے کا موقع فراہم کیا۔

متعلقہ خبریں