Daily Mashriq

بی آئی ایس پی، انٹرویو، مہنگائی اور آبنوشی

بی آئی ایس پی، انٹرویو، مہنگائی اور آبنوشی

بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے سات ماہ سے منقطع امدادی رقم ملنا شروع ہوگئی۔ امداد کے حصول کیلئے لوگوں کی تگ ودو بھی نظر آتی ہے اگرچہ یہ امدادی رقم اونٹ کے منہ میں زیرہ کے مصداق ہی ہے لیکن بہرحال نہ ہونے سے تو کچھ ہونا ہی بہتر ہے۔ اس پروگرام سے سرکاری ملازمین سے لیکر دیگر غیرمستحق افراد کا ناجائز فائدہ اُٹھانے کا انکشاف شرمناک صورتحال ہے۔ ان افراد کو بے نقاب کرنے کے بعد احتساب اور رقم واپس لینے کی احسن ذمہ داری بھی نبھائی جانی چاہئے۔ دوآبہ ضلع ہنگو سے شاہد خان نے شکایت کی ہے کہ ان کے علاقے میں ایک سیلولر کمپنی کی فرنچائز والے بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کی رقم کی ادائیگی کرتے ہوئے دوسو روپے کی کٹوتی کرتے ہیں۔ فرنچائز والوں کا کہنا ہے کہ ان کو اپنی کمپنی کو بائیومیٹرک مشین کیلئے لاکھ روپے دینے پڑتے ہیں۔ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کی رقم کی وصولی کیلئے کبھی بینکوں کے سامنے لمبی قطاریں لگتی تھیں اب شاید ان کی سہولت کیلئے سیلولر کمپنی سے بھی وصولیوں کا بندوبست کیا گیا ہے، بہرحال ان نادار افراد سے دوسو روپے فی کس سروس چارجز یا جو بھی نام دیا جائے کی وصولی ناانصافی ہے۔ کسی کارڈ ہولڈر کو رقم کی ادائیگی میں فرنچائز والوں کے دس منٹ ہی صرف ہوتے ہوں گے اسلئے ان کو فی کس دوسو روپے کی بجائے بیس تیس یا زیادہ سے زیادہ پچاس روپے تک وصول کرنا چاہئے اس کی بھی اگر گنجائش ہو وگرنہ یہ رقم بھی اس ادارے سے وصول ہونی چاہئے جہاں سے اس رقم کا اجراء ہوتا ہے۔ بہرحال اس شکایت کا سنجیدگی سے جائزہ لیا جانا چاہئے اور مستحقین کو جتنا ریلیف دیا جا سکے اسے یقینی بنانا چاہئے۔ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کی طرف سے متعلقہ کمپنی سے جو معاہدہ ہوا ہے اس کے مطابق ادائیگی ہونی چاہئے۔

غلام قادر صوابی سے سوال کرتے ہیں کہ مہنگائی اور بجلی وگیس اور ٹیلیفون کے بلوں میں آئے روز اضافے پر طاقتور میڈیا کیا کردار ادا کر رہی ہے۔ بھائی اس مہنگائی سے صرف عوام اور سرکاری ملازمین ہی متاثر نہیں میڈیا کے ادارے بھی تباہی کے دہانے پر کھڑے ہیں۔ کتنے اداروں کو ملازمین کی چھانٹی کا ناخوشگوار کام کرنا پڑا۔ میڈیا میںکام کرنے والے ہزاروں افراد بیروزگار ہوگئے، میڈیا تو خود بدترین طور پر متاثر ہے۔ جہاں تک میڈیا کے کردار ادا کرنے کا سوال ہے میڈیا کسی مسئلے کی طرف توجہ ہی دلا سکتا ہے اور مہنگائی کے معاملے پر تو میڈیا باقاعدہ چیخ رہا ہے کوئی سنے تو۔

نورجمال شاہ زریںکلے شنوہ گڈی خیل کرک سے ایک مرتبہ پھر علاقے کے لوگوں نے سرفہرست اور سنگیں وشدید ترین مسئلہ آبنوشی کی طرف توجہ دلائی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ علاقے کے بے شمار مسائل ہیں لیکن اگر حکومت پینے کے پانی کے مسئلے پر خصوصی توجہ دے تو بہتر ہوگا۔ کرک میں پینے کے پانی کے مسئلے کے حوالے سے مختلف گاؤں اور علاقوں سے بار بار شکایات مل رہی ہیں حکومت کو اس کا بخوبی علم بھی ہے لیکن عملی اقدامات کیوں نہیں اُٹھائے جاتے اس کی بازپرس اپنے علاقے کے نمائندوں سے کیجئے اور ان کیخلاف احتجاج کیا جائے۔ لگتا ہے کہ جب تک کرک کے سارے عوام کوئی بڑا احتجاج نہیں کرتے حکام اس مسئلے کے حل کیلئے سنجیدہ کوششیں نہیں کریں گے۔

پرنسپل کے وہاب مروت کو شکایت ہے کہ کالم میں شمالی خیبر پختونخوا کے عوامی مسائل اُجاگر نہیں کئے جاتے۔ میرے خیال میں ان کا اعتراض اسلئے بے جا ہے کہ اولاً ملنے والے برقی پیغامات میں ہر علاقے کے عوام اپنے مسائل کی طرف توجہ دلاتے ہیں۔ آج ہی کے کالم میں سب سے زیادہ جگہ شمالی خیبر پختونخوا کے قارئین کے برقی پیغامات کو دی گئی ہے۔ مسائل بہت ہوتے ہیں نشاندہی کے بغیر اجتماعی نفی کا تاثر درست رویہ نہیں اپنی شکایت بھیجئے بلاامتیاز جگہ ملے گی۔

یونیورسٹی آف پشاور کے بی ایس کیمسٹری کے طالب علم جس کا تعلق لکی مروت سے ہے ان کے والد خصوصی فرد ہیں جو طالب علم کی سمسٹر فیس کی ادائیگی نہیں کرسکتے۔ پشاور یونیورسٹی میں فیس معافی یا فیس رعایت کا کوئی طریقہ کار نہ ہونا افسوسناک ہے۔ اس پر رئیس الجامعہ کو توجہ دینی چاہئے اور حقیقی ضرورتمند طلبہ کو فیس میں رعایت ضرور ملنی چاہئے، اسی طرح امداد کی اپیل سراج برکی کی ہے کہ وہ گومل یونیورسٹی میں بچی کا داخلہ وسائل نہ ہونے کے سبب نہیں کر سکتے۔ گومل یونیورسٹی کے وائس چانسلر اگر مدد فرمائیں تو اس بچی کا داخلہ ممکن ہو سکتا ہے۔بنوں سے ایک قاری نے نام کے اخفاء کی گزارش کیساتھ اس امر کی طرف توجہ دلائی ہے کہ دسمبر2018ء میں اکرم خان درانی کالج بنوں میں کنزیومرز کورٹ بیلف اور پروسس سرور کی آسامیوں کیلئے ٹیسٹ ہوئے تھے مگر سال سے زیادہ عرصہ گزرنے کے باوجود انٹرویو کیلئے نہیں بلایا گیا۔ واقعی تاخیر ہوگئی ہے سرکاری معاملات میں تاخیر کی کئی وجوہات ہوتی ہیں لیکن اتنی بھی تاخیر کی گنجائش نہیں کہ سال گزر جائے اور انٹرویو کیلئے امیدواروں کو نہ بلایا جائے۔ تاخیر کی معلوم وجہ کا اظہار بدگمانی کے زمرے میں آئے گا اور مناسب بھی نہیں کہ بغیر تصدیق کوئی رائے دی جائے۔ جتنا جلد ہوسکے ان اسامیوں کیلئے انٹرویو کے شرط کی تکمیل کر کے تقرریاں کی جائیں اور نوجوانوں کو مزید انتظار کرا کے ان کا وقت ضائع نہ کیا جائے۔

قارئین اپنی شکایات اور مسائل اس نمبر 03379750639 پر میسج کرسکتے ہیں۔

متعلقہ خبریں