Daily Mashriq

سال گزشتہ کی کتاب اور ماضی کے دھندلکے

سال گزشتہ کی کتاب اور ماضی کے دھندلکے

دسمبر اب کے جاؤ تو مجھے ساتھ لے جانا

مجھے بھی شام ہونا ہے، مجھے گمنام ہونا ہے

بالآخر دسمبر بھی چلا گیا اور ساتھ ہی سال2019ء کو بھی ساتھ لے گیا، اب اس سال اور دسمبر کو تاریخ کے کوڑے دان میں ہی تلاش کیا جا سکے گا، گزرا سال ہمیں کیا دے گیا یا ہم سے کیا چھین کر لے گیا اس کا حساب آنے والے زمانوں میں مورخ ہی لگا سکیں گے، اب تو نئے سال کا آغاز ہوا ہے اور ہمیں یہ دیکھنا ہوگا کہ اس نئے سال سے اُمیدیں باندھی جائیں تو کتنی یا پھر نااُمیدی کے اندھیروں میں ٹامک ٹوئیاں مارنا ہی اپنا مقدر ٹھہرے گا، کیونکہ جہاں تک ملکی سیاست کا تعلق ہے اس پر تو یوٹرن کے سائے گہرے ہوتے جارہے ہیں، اُمیدوں کے دئیے روشن کر کے اچھے دنوں کی جو آس دلائی گئی تھی اس پر کہر کے حملے ہو رہے ہیں اور دھند اس قدر بڑھ چکی ہے کہ مستقبل کی شاہراہ اس گہرے اندھیرے میں ڈوبی نظر آرہی ہے، ایسے میں خوش گمانی کے سنگ میل کیسے عبور کئے جا سکتے ہیں؟ سیاست پر ذاتیات کے گہرے ہوتے سائے اب اس قدر گمبھیر ہو چکے ہیں کہ نفرت اور حقارت نے خوفناک دشمنوں کی کیفیت پیدا کر دی ہے، مخالفتیں پہلے بھی ہوا کرتی تھیں مگر ان کو ایک حد میں رکھا جاتا تھا اب تو نفرتوں نے اس قدر انت مچا رکھا ہے کہ حیرت بھی حیرت سے اس ساری کیفیت کو دیکھ کر انگشت بدنداں ہے، وہ جو پہلے حکومتوں کو گرانے کیلئے پس پردہ کوششیں کی جاتی تھیں اب وہ بھی کھلم کھلا ہو رہی ہیں اور گزشتہ روز پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے ایم کیو ایم کو پیشکش کی کہ اگر وہ خان حکومت کو گرانے کیلئے وفاقی حکومت سے لاتعلق ہو جائیں گے تو انہیں سندھ میں اتنی ہی وزارتیں دیدیں گے جتنی مرکز میں ان کے پاس ہیں، اس صورتحال کو موصوف نے ''پاکستان کو بچانا ہے تو نیا پاکستان ختم کرنا ہے'' سے تعبیر کیا ہے۔ تاہم ایم کیو ایم نے اس پیشکش کو ٹھکرا دیا ہے جبکہ پی ٹی آئی کے رہنماؤں نے اس پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ''بے بی زرداری کے اگلے ساڑھے تین سال بھی خواب میں گزریں گے''۔ اس صورتحال کو ڈاکٹر اظہار اللہ اظہار نے کیا خوب برتا ہے کہ

خواب رسوا ہوئے، سنگسار ہوئیں تعبیریں

روپ برہم ہوا، نادانیاں آباد رہیں

کیا بلاول بھٹو زرداری کی نااُمیدی اس قدر بڑھ چکی ہے کہ اب وہ کھلم کھلا موجودہ سیٹ اپ کو اپ سیٹ کرنے پر تل گئے ہیں؟ جہاں تک ایم کیو ایم کا تعلق ہے اس کے انکار کے حوالے سے پہلے ہی معلوم تھا، کیونکہ جب سے الطاف حسین کے ''چنگل'' سے یہ پارٹی آزاد ہوئی ہے، بلکہ مختلف دھڑوں میں تقسیم ہوئی ہے اور اس کے کئی رہنما بھاگ کر مختلف ملکوں میں ''پناہ'' لینے پر مجبور ہوئے ہیں، تب سے اس کی کیفیت ''یس سر'' والی ہوچکی ہے، کیونکہ بہرحال ان بے چاروں کو بھی اپنے وجود کا احساس دلانا ہے جو ایک انگریزی ٹی وی سیریز ''یس منسٹر'' کے کلیدی ڈائیلاگ سے عبارت ہے، اب ان میں اتنا دم خم نہیں کہ ''انکار'' میں سر ہلا سکیں اور جہاں تک پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم کے باہمی تعلقات کا تعلق ہے تو ماضی میں کچھ تلخ یادیں بھی دونوں کے تعلقات سے وابستہ ہیں، یعنی بقول شاعر

وابستہ مری یاد سے کچھ تلخیاں بھی تھیں

اچھا ہوا کہ تونے فراموش کر دیا

سو فراموش کردہ کو دوبارہ یاد کرنے کا جواز سمجھ سے بالاتر ہے اور جو ماضی میں ایک دوسرے کو سیاسی پٹخنیاں دیتے رہے ہیں، وہ کیسے دوبارہ ایک پیج پرآسکتے ہیں حالانکہ سیاست میں سب کچھ جائز ہے یعنی آج کے دوست کل کے دشمن اور آج کے مخالفین کل ایک ہی میز کے گرد بیٹھ کر ''دعوت شیراز'' کے مزے لے سکتے ہیں لیکن سیاست میں ان دنوں جو ''اشارے کنائے'' وقت کی کرنسی بن چکے ہوں ان کے بھی کچھ تقاضے ہوتے ہیں۔ گویا بقول شاعر

وہ جو خواب تھے مرے ذہن میں

نہ میں کہہ سکا نہ میں لکھ سکا

کہ زباں ملی تو کٹی ہوئی

کہ قلم ملا تو بکا ہوا

بات ہورہی تھی دسمبر کے گزرنے اور ساتھ ہی سال گزشتہ کو بھی ساتھ لے جانے کی تو یہ جو بلاول زرداری نے ایک نئی سیاسی درفنطنی چھوڑی ہے، اسے بھی سال2019ء اپنے ساتھ ہی ماضی کے دھندلکوں میں بالآخر گم کر دے گا، مگر اسے ایک سیاسی طعنے کے طور پر یاد ضرور رکھا جائے گا۔ جبکہ اس ''نئے سیاسی بیانئے'' پر ممکن ہے میدان سیاست میں کچھ دن تک بیان بازی جاری رہے، ایک دوسرے پر الزامات درالزامات لگائے جاتے رہیں کہیں اس بیانئے کے حق میں اور کہیں مخالفت میں تجزیوں کا بازار گرم رہے، تاہم سیاسی مخالفت کو اس سطح پر لانے کا کوئی جواز دکھائی نہیں دیتا، میدان سیاست اس بات کا متقاضی ہے کہ سیاسی داؤ پیچ سے کام لیا جائے بدقسمتی مگر یہ ہے کہ ہماری سیاست اونٹ کی مانند ہے جس کا کوئی کل سیدھا نہیں اس لئے اس کے بارے میں یہ پیشگوئی مشکل سے کی جا سکتی ہے کہ یہ کب کس کروٹ بیٹھے گا۔

کہاں تو ڈھونڈنے آیا گل اخلاص کی خوشبو

یہاں تو بغض اُگتا ہے محبت کی زمینوں میں

متعلقہ خبریں