Daily Mashriq

شدید دھند میں مہنگائی بھی دکھائی نہیں دے رہی؟

شدید دھند میں مہنگائی بھی دکھائی نہیں دے رہی؟

وزیراعظم عمران خان نے حکم دیا ہے کہ ملک میں سخت سردی ہورہی ہے لہٰذہ بے گھر افراد کو جلد ازجلد شیلٹر ہاؤسز پہنچایا جائے اور وہاں اگر جگہ نہ ہو تو ان کیلئے کوئی اور مناسب بندوبست کیا جائے۔ پنجاب اور پختونخوا کے وزراء اعلیٰ کو خصوصی ہدایات دی گئی ہیں صوبائی حکومتوں نے اپنے تئیں کام شروع کیا کچھ لوگوں کو شیلٹر ہاؤس پہنچایا گیا اور کافی سارے لوگوں کو کمبل اور دیگر چیزیں مہیا کی گئی ہیں۔ اب یہ اللہ کو ہی پتہ ہوگا کہ ملک کے حاکم اعلی تک یہ خبر کیسے پہنچی اور انہوں نے آنن فانن حکم صادر کر دیا اور عمل ہونا شروع ہوگیا، وگرنہ یہاں یہ روایت رہی ہے کہ وزیراعظم ہاؤس تک اس طرح کی خبریں پہنچائی نہیں جاتیں کیونکہ اقتدار کے ایوانوں میں سب اچھا کی خبر دینے والوں نے پاکستان میں غریب آدمی کی زندگی اجیرن بننے کی خبر پہلے تو سنی ہی نہیں، انہیں تو جیسے پتا ہی نہیں کہ ملک میںچینی، آٹا، گیس اور بجلی نہ صرف تاریخ کے مہنگے ترین نرخ میں فروخت ہو رہا ہے بلکہ اکثر جگہوں میں تو سرے سے یہ سہولیات میسر ہی نہیں، یہی نہیں ان کیساتھ ساتھ دیگر اشیائے ضروریہ کا بھی حال پتلا ہے، یہ خبر دینے والے اپنے آقاؤں کو یہ علم ہی نہیں ہونے دیتے کہ رعایا پر کیا گزر رہی ہے، اسی طرح عوام کی رسائی ملک کی حکمرانوں تک ہوتی ہی نہیں تو ان کی شنوائی کیونکر ہوگی، سب اچھا کی رپورٹ دینے والے بتاتے ہیں کہ ملک میں آٹا یا کسی اور چیز کا کوئی بحران نہیں یہ صرف میڈیا کی اُڑائی ہوئی بات ہے، یہ لوگ تو ''بڑھا بھی دیتے ہیں کچھ زیب داستاں کیلئے'' کے مصداق اسے دوگنا چوگنا کرکے پیش کررہے ہیں، یہ دیکھیں سڑکیں سنسان پڑی ہیں کیونکہ اگر عوام کو تکلیف ہوتی، انہیں کسی قسم کے بحران کا سامنا ہوتا تو یہ سڑکوں پر نہ آتے، واویلا نہ کرتے کیونکہ اس قوم کا وطیرہ رہا ہے کہ یہ تو چھوٹی چھوٹی بات پر وہ واویلا کرتے ہیں وہ احتجاج کرتے ہیں کہ صدارتی محل ہل کر رہ جاتے ہیں۔ ماضی میں ایک حکمران نے اقتدار کے نشے میں جب کہا کہ ''تھوڑی سی پی لیتا ہوں حلوہ تو نہیں کھاتا'' تو قصبہ قصبہ، گلی گلی اور شہر شہر حلوے کی وہ دیگیں پکیں یوں اسے اپنے قول پر پچھتانا پڑا اور پھر ہم نے یہ بھی دیکھا کہ اسی وطن کی سرزمین پر ایک آنہ مہنگائی پر وردی والے صدر کی حکومت کو گھر جانے کے سوا کوئی چارہ دکھائی نہ دیا، لیکن سچ اور حقیقت یہ ہے مہنگائی تو اب بھی کچھ اسی قسم کی ہے اور عوام کو تکلیف بھی اسی طرح کی ہے۔ چترال سے فیصل آباد تک اور خیبر سے کراچی تک ہر شخص بحران کا شکار ہے لیکن اب عوام میں وہ دم خم نہیں نظر آرہا، دم کہاں سے ہوگا جب غریب کو ایندھن ہی نہیں مل رہا تو دم خم خاک ہوگا۔ مولانا فضل الرحمن نے عوام کو سڑکوں پر لانے کی سعی کی بلکہ شہراقتدار تک بھی پہنچایا اور دھرنا بھی دیا، عوام اس خوش فہمی میں تھے کہ اب مہنگائی کا جن قابو میں کرنے والے حرکت میں آئیں گے اور عوام کو سکون ملے گا مگر مولانا کا تو کچھ اور ہی مشن تھا اور ان کا مشن پورا ہونے پر وہ سب کچھ لپیٹ کر واپس چلے گئے۔

چیف جسٹس کی پہلی معطلی سے پہلے پاکستان میں پراسرار سا سکوت چل رہا تھا، سیاستدانوں نے اپنا سا زور لگایا کہ عوام سڑکوں پر آئیں مگر کوئی ٹس سے مس نہ ہوا، دوتہائی اکثریت والوں کی حکومت چلی گئی، ایک اور منتخب وزیراعظم کو برطرف کرکے پابند سلاسل کیا اور پھر بعد میں ملک بدر کر دیا گیا، نیم مارشل لاء لگا، ایمرجنسی لگی، سارے جج معطل ہوگئے، صرف پی سی او والے ججوں نے حلف اُٹھایا، انہی میں سے ایک جج نے بغاوت کردی جی ہاں! ایسے ہی جیسے ذولفقار علی بھٹو نے جنرل ضیاء الحق کو مولوی سمجھ کر آرمی چیف بنایا اسی طرح آرمی چیف کے بنائے ہوئے چیف جسٹس نے ہر حکم ماننے سے انکار کر دیا تو پھر ایمرجنسی پلس لگی۔ درجنوں ججوں کو اس بار گھر نہیں بھیجا گیا بلکہ معطل کرکے گھروں میں ہی قید کر دیا اورکافی دیر وہ گھروں میں ہی بند رہے، کسی نے عید نہیں منائی تو کوئی اپنی لیڈر کے میت کو کاندھا نہیں دے سکا، ججوں کیساتھ ساتھ سیاستدانوں کو بھی مختلف شہروں سے علاقہ بدر کر دیا گیا مگر یہ عوام ٹس سے مس نہ ہوئے، اس سکوت میں تھوڑی سی تبدیلی تب دیکھنے میں آئی جب لوگ کم ازکم سڑکوں پر آئے، پہلے چیف جسٹس کیلئے پھر جمہوریت کی دیوی بینظیر بھٹو کے استقبال کیلئے نکلے کہ شاید غریب عوام کی زندگی میں کچھ تبدیلی آسکے لیکن عوام کی خوشی تو کچھ لوگوں کو گوارا ہی نہیں۔ چیف جسٹس کو دوبارہ برطرف اور جمہوریت کی دیوی کو شہید کر دیا گیا۔

اب بھی دور دور تک کچھ نظر نہیں آرہا کہ کوئی نجات دہندہ ہے یا آئے گا۔ مہنگائی دن بہ دن بڑھتی چلی جارہی ہے، بجلی اور گیس کے بلوں سے عوام بلبلا رہی ہے اور اوپر سے طرہ یہ کہ بجلی اور گیس کی شدید لوڈشیڈنگ بھی چل رہی ہے، اکادکا لوگ احتجاج کررہے ہیں درجن بھر لوگ بڑے اور چھوٹے شہروں میں سڑکوں پر نکل آتے ہیں لیکن ابھی اتنی تعداد نہیں کہ اقتدار کے ایوان کے کانوں پر جوں تک رینگ جائے۔ ملک میں سخت سردی ہے اور ملک کے بیشتر حصے دھند کی لپیٹ میں ہیں، حدنظر صفر ہے یوں ایوان اقتدار والوں کو مہنگائی بھی نظر نہیں آرہی، ایوان میں سب اچھا کی بین بج رہی ہے۔ جج، وکیل، ڈاکٹر، عدالتیں، ہسپتال اور تو اور سیاستدان سب کچھ ہونے کے باوجود خاموش ہیں بلکہ ان کیلئے یہ معمول کی بات ہے اور اگر سچ پوچھیں تو انہوں نے کچھ کرنا بھی نہیں ہے اگر کرنا ہے تو عوام نے کرنا ہے اپنے لئے اور اپنوں کیلئے۔

متعلقہ خبریں