Daily Mashriq

پشاور ہائی کورٹ نے ایف بی آر کو ٹیکسٹائل ملز کے خلاف کارروائی سے روک دیا

پشاور ہائی کورٹ نے ایف بی آر کو ٹیکسٹائل ملز کے خلاف کارروائی سے روک دیا

پشاور ہائی کورٹ کے ایک رکنی بینچ نے وفاقی بورڈ آف ریوینیو (ایف بی آر) کو 3 ٹیکسٹائل ملز کے خلاف کارروائی کرنے سے روک دیا۔

جسٹس احمد علی نے مذکورہ تین ٹیکسٹائ ملوں کی درخواست پر سماعت کی، جہاں وکیل نے عدالت سے اپنے موکل کو غیر ترمیم شدہ سیکشن 65 بی کے تحت ریٹرنز فائل کرنے کی اجازت دینے کی درخواست کی۔

بعد ازاں عدالت نے یہ ہدایت کی کہ انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کے سیکشن 65-بی کی غیر ترمیم شدہ دفعات کے تحت تینوں ٹیکسٹائل ملوں کو عبوری انتظام کے طور پر دستی طریقے یا ای پورٹل / کمپیوٹر سسٹم میں ایڈجسٹمنٹ کے ذریعہ اپنا ریٹرن جمع کرانے کی اجازت دی جائے۔

واضح رہے کہ جدون ٹیکسٹائل ملز لمیٹڈ اور دو دیگر ٹیکسٹائل ملز کی جانب سے مشترکہ طور پر دائر کی گئی درخواست میں انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کے سیکشن 65 بی میں فنانس ایکٹ 2019 کے تحت کی گئی اس ترمیم کو چیلنج کیا گیا تھا جس کے ذریعے ٹیکس سال 2019 کا قرضہ کم کرکے 5 فیصد کردیا گیا اور اس کا اطلاق درخواست گزاروں پر بھی ہوا تھا۔

درخواست گزاروں کے وکیل قاضی غلام دستگیر کا کہنا تھا کہ ٹیکس مراعات کی اسکیم انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 اور 2010 میں سیکشن 65-بی شامل کرنے کے بعد متعارف کرائی گئی تھیں جس میں وقتاً فوقتاً ترمیم کی گئی۔

ان کا کہنا تھا کہ سیکشن 65-بی میں 2 مراعات دی گئی تھیں۔

وکیل کا یہ بھی کہنا تھا کہ پہلی مراعات کے مطابق موجودہ صنعت میں سرمایہ کاری کا 10 فیصد ٹیکس قرضے کے طور پر دیا جانا تھا۔

دوران سماعت وکیل نے کہا کہ 'دی گئی مراعات کا مقصد موجودہ پلانٹس کو ٹیکس قرضوں کے تحت وسعت دینا تھا تاکہ صنعت اپنی مشینری کو بین الاقوامی معیار پر جدت سے آراستہ کرسکے'۔

وکیل کا کہنا تھا کہ ابتدائی طور اس سے فائدہ اس وقت مل رہا تھا جب پلانٹ اور مشینری 30 جون 2010 سے 30 جون 2015 تک قرضوں پر لے کر لگائی گئی ہوں۔

انہوں نے کہا کہ اس شق کو وقتاً فوقتاً فنانس ایکٹ 2018 کے تحت بڑھایا گیا اور اس سے فائدہ 30 جون 2021 تک اٹھایا جاسکتا تھا۔

وکیل کا کہنا تھا کہ فنانس ایکٹ 2019 کے تحت سیکشن 65 بی میں 2 اہم طریقوں سے ترمیم کی گئی، پہلے ٹیکس قرضوں کو 10 فیصد سے کم کرکے 5 فیصد کیا گیا اور دوسرا اس کی مدت کو کم کرکے 30 جون 2019 کردیا گیا۔

وکیل کا کہنا تھا کہ جہاں فنانس ایکٹ 2019 کا اطلاق یکم جون 2019 سے ہوا وہیں ان ترامیم کا بھی اطلاق ہوا۔

دوران سماعت ان کا کہنا تھا کہ سیکشن 65 بی کے تحت ٹیکس مراعات پر انحصار کرنے والے درخواست گزاروں نے یکم جولائی 2018 سے 30 جون 2019 کے درمیان متعدد پلانٹس اور مشینریز میں سرمایہ کاری کرتے ہوئے اپنی ٹیکسٹائل مل کو جدت اور وسعت سے آراستہ کیا تھا۔

انہوں نے کہا کہ سرمایہ کاری اب ان نئی مشینریز کے نصب کیے جانے کی تاریخ سے ٹیکس قرضوں سے فائدہ اٹھانے والوں میں آتی ہے۔

وکیل کا کہنا تھا کہ ایف بی آر سمیت فریقین ترمیم شدہ سیکشن 65-بی کی غلط تشریح کر رہے ہیں اور جو پلانٹ اور مشینریز 30 جون 2019 سے قبل لگائی گئی تھیں ان پر بھی کم کیے گئے 5 فیصد ٹیکس کا اطلاق چاہتے ہیں۔

متعلقہ خبریں