Daily Mashriq


الیکشن کمیشن کو سخت اقدام کرلینا چاہئے

الیکشن کمیشن کو سخت اقدام کرلینا چاہئے

الیکشن کمیشن نے مقررہ وقت میں اثاثوں کے گوشوارے جمع نہ کرانے پر خیبر پختو نخوا کی نگران کابینہ کو نوٹسز ارسال کرتے ہوئے نگران صوبائی وزراء کو کام سے روک دینے کی دھمکی دی ہے۔ الیکشن کمیشن نے واضح کیا ہے کہ نگران کابینہ نے حلف اٹھانے کے بعد تین دنوں کے اندر اندر الیکشن کمیشن کے پاس اثاثوں کے گوشوارے جمع کرانا تھے تاہم خیبرپختونخوا کے10صوبائی وزراء میں سے کسی نے بھی اثاثوں کی تفصیلات جمع نہیں کرائیں ۔ الیکشن کمیشن نے تمام نگران وزراء کو نوٹسز جاری کرتے ہوئے متنبہ کیا ہے کہ الیکشن کمیشن نے تمام نگران وزراء کو حلف اٹھانے کے بعد تین دنوں کے اندر اندر اثاثوں کے گوشوارے جمع کرانے کا پابند بنایا تھا تاہم کسی بھی نگران وزیر نے تاحال اثاثوں کی تفصیلات جمع نہیں کرائی جاری نوٹسزمیںو اضح کیا گیا ہے کہ اگر فوری طور پر اثاثوں کی تفصیلات جمع نہیں کرائی گئی تو ان وزراء کو کام سے روک دیا جائے گا۔بعض وفاقی وزراء کوبھی گوشوارے جمع نہ کرانے پرنوٹس جاری کئے گئے ہیں تاہم نگران وزیراعظم نے اپنے گوشوارے جمع کرادیئے ہیں اورحتمی نوٹس ملنے پروزراء نے بھی تیاری شروع کردی ہے۔حکومتی عہدوں کے حصول کی تگ و دو تو کسی سے پوشیدہ امر نہیں مگر عہدے کے حصول کے بعد نگرانوں کا اثاثوں کے گوشوارے جمع کرانے میں لیت و لعل کی اس کے علاوہ کوئی وجہ نظر نہیں آتی کہ یا تو ان کو اس ضرورت کا پاس ہی نہیں اور وہ اس آئینی و قانونی شرط کو خاطر میں لانا ضروری نہیں سمجھتے یا پھر ان کے گوشواروں میں ایسی پیچیدگیاں ہیں جن کو ظاہر کرنے کو وہ اپنے حق میں اچھا نہیں سمجھتے یا پھر وہ دستاویزی ثبوت اور شواہد رکھنے کے عادی ہی نہیں۔ بہر حال اس ضمن میں قیاس اور کسی حد تک بد گمانی کاشکار ہونے کے مواقع موجود ہیں لیکن یہ مناسب نہیں۔ سوال یہ ہے کہ آخر نگران وزراء کب گوشوارے جمع کرائیں گے ان کی تقرری کو تقریباً ایک ماہ کا عرصہ گزر گیا اور آج سے ٹھیک پچیس روز بعد ملک میں عام انتخابات کے انعقاد کے بعد ان کی واپسی کی تاریخ طے ہوگی۔ نگران وزیر کے عہدوں پر آنے والے ان افراد کو الیکشن کمیشن کی جانب سے تنبیہہ جاری کرنے کی ضرورت کیوں پڑ گئی اگر یہ افراد اس قدر لا پرواہ اور غیر ذمہ دار تھے تو پھر یاتو ان کو وزارت کا عہدہ نہیں لینا چاہئے تھا یا پھر ان کا تقرر کرنے والوں کو ان کا انتخاب کرنے کی ضرورت نہ تھی۔ ان کی اس لا پرواہی سے ان کے مقرر کرنے والوں کے لئے بھی کوئی نیک شگون نہیں۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ ہر بار نگران حکومت میں شامل افراد کے کوائف سے میڈیا اور عوام کو آگاہی دی جاتی تھی مگر جس طرح ان کے گوشوارے ہنوز جمع ہونے سے رہ گئے ہیں اسی طرح ان وزراء کو وائف کا اجراء بھی نہیں ہوسکا ہے جس سے یہ اندازہ لگایا جاسکے کہ ان کے انتخاب کا معیار کیا تھا اور یہ کس پس منظر کے حامل افراد ہیں۔ نگران دور کے حاکموں کی اپنی اہمیت ہے اولاً یہ کہ یہ بھی باقاعدہ طور پر اپنے اپنے محکموں کے نگران ہوتے ہیں اور سرکاری کاموں کی انجام دہی میں ان کا پورا کردار ہوتا ہے۔ اس سے بھی بڑھ کر یہ کہ ان کی زیر سرپرستی حکومتی مشینری عام انتخابات کرانے کی اہم ذمہ داری نبھا رہی ہوتی ہے مگر ان کی سنجیدگی کا عالم یہ ہے کہ ان کو الیکشن کمیشن کی طرف سے کام سے روک دینے کی تنبیہہ مل رہی ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ اس طرح کی صورتحال خیبر پختونخوا کے نگران وزیر اعلیٰ جو حال ہی میں سپریم کورٹ آف پاکستان کے جسٹس کی حیثیت سے ریٹائر ہوئے ہیں ان کی حیثیت مقام و مرتبہ کا یہ ہر گز تقاضہ نہ تھا کہ ان کی کابینہ کے اراکین بار بار کی یاد دہانی کے باوجود ایک آئینی و قانونی ضرورت پوری کرنے سے ہچکچا رہی ہے۔ مگر انہوں نے اس کا نوٹس لیا اور نہ ہی ان کو اس امر کا پابند بنایا کہ ہ جلد سے جلد الیکشن کمیشن آف پاکستان کی شرط پوری کریں۔ تساہلی کاہلی غفلت اور سنگین غفلت کاارتکاب ہمارا وہ قومی کردار بن چکاہے جس سے ہم بطور قوم آگے بڑھنے کی بجائے پیچھے کی جانب گامزن ہیں۔ یہاں پر عہدوں کے حصول کی دوڑ میں جس سرگرمی کامظاہرہ کیا جاتا ہے عہدہ پالینے کے بعد اس کے سراسر الٹ کردار کا مظاہرہ کیا جاتا ہے۔ گو کہ نگران حکومت کا دور مختصر ہوتا ہے مگر اصول' قانون اور ضابطہ سے کوئی بھی مبرا نہیں۔ الیکشن کمیشن کے نوٹس اور انتباہ کی ضرورت پیش نہیں آنی چاہئے تھی۔ اراکین کابینہ کو مالیاتی گوشواروں اور اثاثے ظاہر کرنے میں تاخیر کامظاہرہ نہیں کرنا چاہئے تھا۔ بہر حال اب جبکہ ان کو کام سے روکنے کا باقاعدہ انتباہ جاری کردیاگیا ہے تو اس میں اب مزید تاخیر کی گنجائش نہیں اور اگر جلد سے جلد ایسا نہ کیاگیا تو پھر الیکشن کمیشن کو مزید انتظار اور نوٹس کے بغیر گوشوارے جمع نہ کرنے والے وزراء کو کام سے روکنے کا نوٹیفیکیشن جاری کردینا چاہئے۔ اس طرح کی صورتحال میں کیسے یہ یقین کرلیا جائے کہ نگران کابینہ صوبے کے معاملات احسن طریقے سے نمٹا پائے گی اور انتخابی عمل کی تکمیل میں حقیقی معاونت ممکن ہوپائے گی۔توقع کی جانی چاہئے کہ نگران کابینہ کے اراکین الیکشن کمیشن کو ناگوار اقدام اٹھانے کا موقع دئیے بغیر گوشوارے جمع کرائیں گے۔

متعلقہ خبریں