Daily Mashriq

پریشان کن صورتحال

پریشان کن صورتحال


ہمارے نمائندہ خصوصی کے مطابق خیبرپختونخوا حکومت شدید مالی بحران کا شکار ہو گئی ترقیاتی منصوبوں کیلئے جاری کردہ اربوں روپے کا فنڈ محکمہ خزانہ نے رکوا دیا ہے جس کی وجہ سے بی آر ٹی سمیت صوبے کے سینکڑوں ترقیاتی منصوبے متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔ ذرائع کے مطابق اس وقت کئی سرکاری محکموں کو ان کے ترقیاتی منصوبوں کے لئے فنڈ نہ ملنے کا مسئلہ درپیش ہے۔ ذرائع کے مطابق صوبے میں مالی بحران سے سب سے زیادہ بی آر ٹی کا منصوبہ متاثر ہو رہا ہے۔ ٹرانسپورٹ ڈیپارٹمنٹ نے فنانس ڈیپارٹمنٹ سے بی آر ٹی منصوبے کیلئے 2 ارب روپے فنڈ جاری کرنے کی استدعا کی ہے لیکن مالی بحران کی وجہ سے تاحال مذکورہ پراجیکٹ کے لئے فنڈ جاری نہ ہوسکا جس کی وجہ سے بی آر ٹی منصوبے پر منفی اثرات پڑنے کا خدشہ پیدا ہواہے جبکہ یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ آج 30 جون کو بی آر ٹی کے کنٹریکٹرز کے کنٹریکٹ کی مدت ختم ہو رہی ہے لیکن تاحال صوبائی حکومت نے نہ تو ان کے کنٹریکٹ میں توسیع کی ہے اور نہ ہی اس حوالے سے اقدامات نظر آرہے ہیں۔خیبر پختونخوا کی حالیہ'گزشتہ اور گزشتہ سے پیوستہ حکومتوں کاصوبے کو قرضوں کے بوجھ تلے دے کر چلے جانا وہ المیہ ہے جس سے نکلنے میں شاید ہی صوبے کو کامیابی ملے۔ گزشتہ و پیوستہ حکومتوں کے برعکس تحریک انصاف کی رخصت شدہ حکومت نے صوبے کے عوام اور خزانہ ہی کو زیر بار نہیں کیا بلکہ ابھی ان کے فیصلوں کے مزیداثرات سامنے آنا باقی ہے جس کی ایک جھلک محولہ رپورٹ میں ملتی ہے۔ اے جی آفس سوائے تنخواہوں اور بینک سے نیک رقوم کی منتقلی کے علاوہ ہر قسم کے سرکاری واجبات کی ادائیگی بند ہوچکی ہے اور سرکاری اداروں میں معاملات ٹھپ ہوگئے ہیں۔ اس ضمن میں ماہرین ہی بہتر طور پر بتا سکیں گے کہ اس کے اثرات آئندہ حکومت پرکیا پڑیں گے۔ اس کے اثرات کے منفی ہونے میں کسی شک و شبہ کی بہر حال گنجائش نہیں۔ بی آر ٹی کامنصوبہ ایک اچھا منصوبہ ضرور ہے لیکن اس کی جو قیمت بصورت تاخیر اور بصورت بھاری قرضے اور سرکاری خزانے ہی کو نہیں بلکہ بعض نیم خود مختار اداروں سے بھی وسائل چھین کر اس منصوبے کی نذر تو سابق حکومت کرگئی مگر اب بھی اس کی تکمیل کے لئے بہت سا وقت اور وسائل کی ضرورت باقی ہے۔ سب سے تکلیف دہ امر یہ ہے کہ اب کنٹریکٹر کی مدت پوری ہوچکی صوبائی حکومت کے پاس وسائل باقی نہیں بچے نگران حکومت ہاتھ پائوں تو مار رہی ہے مگر اس منصوبے کی تکمیل اور اس کے لئے وسائل کی فراہمی نہ تو آسان کام ہے اور نہ ہی نگران حکومت کے لئے یہ ممکن ہے کہ وہ ایسا کرسکے۔ انتخابات کے بعد کس قسم کی حکومت کا قیام عمل میں آتاہے اور اس کی ترجیحات کیا ہوں گی اس سے قطع نظر پریشانی اس بات کی ہے کہ کہیں یہ بھاری پتھر نو منتخب حکومت کے سر نہ آن گرے اور بہتر ٹرانسپورٹ کی سہولتوں کا عوام کاخواب چکنا چور نہ ہوجائے۔

اداریہ