Daily Mashriq


مفتی قوی کا سیاسی فتویٰ

مفتی قوی کا سیاسی فتویٰ

تحریک انصاف کے رہنما مفتی عبدالقوی نے کہا ہے کہ تحریک انصاف میں ٹکٹوں کی تقسیم پر احتجاج غلط ہے۔نجی ٹی وی کے مطابق مفتی عبدالقوی نے تحریک انصاف کے کارکنوں کے احتجاج کو شرعی طور پر غلط قرار دیتے ہوئے اسے بغاوت سے تشبیہہ دی ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ تحریک انصاف میں ٹکٹوں کی تقسیم پراحتجاج شرعی طورپرغلط اور بغاوت کی طرح ہے، شرعی طور پر بغاوت کی سزا بہت سخت ہے اس لئے کارکنوں کو قیادت کے فیصلوں کو تسلیم کرنا چاہیے۔تحریک انصاف یا کسی اور جماعت سے وابستگی مفتی قوی کا بنیادی حق ہے دین سے رہنمائی کے لئے عوام کا علمائے کرام سے رجوع اور ان کی رائے پر انحصار مسلمہ امر ہے لیکن علمائے کرام کو اس قسم کی از خود فتویٰ بازی زیب نہیں دیتی کہ وہ اپنی رائے کو فتویٰ کا رنگ دے کر پیش کریں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ تحریک انصاف کے ٹکٹوں کی تقسیم کا جھگڑا ہو یا مسلم لیگ(ن) کے رہنمائوں کے خلاف عدالتی فیصلے یا ریٹرننگ افسران کی جانب سے امیدواروں کے کاغذات مسترد یا منظور کرنا یہ وہ سیاسی اور دنیاوی معاملات ہیں جن کا شرعی تقاضوں سے کوئی علاقہ اور واسطہ نہیں۔ شرعی طور پر تو موجودہ سیاست اور نظام کی بھی شاید ہی گنجائش ہو کجا کہ ایک سیاسی جماعت کے آپس کے جھگڑے کو دین اور شرع مبین کی روشنی میں درست یا غیر شرعی قرار دیا جائے۔ مفتی قوی کا شرعی طور پر تحریک انصاف کے معاملات کاجائزہ لینا اس وقت احسن ہوتا جب دیگر سارے معاملات میں بھی وہ اپنی شرعی رائے دے دیتے یا پھر ان کی قیادت ان سے رائے مانگتی۔ علمائے کرام کو اپنے مقام و مرتبہ کا لحاظ نہیں تو کم از کم دین کو تو اس قسم کے معاملات کے لئے استعمال کرنے سے اجتناب کریں۔ یہ اس قسم کے کردار و عمل کا مظاہرہ اور دین کے نام پر سیاست ہی ہے جس کے باعث سیاسی علماء سے عوام کا اعتماد اٹھ گیا ہے اور وہ شریعت اور اسلام کے نام پر سیاست کرنے والوں پر اعتماد نہیں کرتے۔ اگر ان پر عوام کا اعتماد ہوتا تو شریعت اور اسلامی نظام کے نفاذ کے حقیقی حامیوں کی اس ملک اور خاص طور پر خیبر پختونخوا میں کمی نہیں۔

متعلقہ خبریں