Daily Mashriq

پانی اور اہلِ سیاست

پانی اور اہلِ سیاست

عام انتخابات کی تیاریاں زوروں پر ہیں۔ بعض امیدواروں سے ان کے حلقوں کے عوام نے چبھتے ہوئے سوال بھی کیے ہیں۔ یہ بھی پوچھا ہے کہ پانچ سال کہاں تھے جو اب ووٹ مانگنے آئے ہو۔ ٹی وی پر ایک اشتہار بھی چلتا ہے جس میں کہا جا رہا ہے کہ اچھی تعلیم دو گے تو ووٹ لو گے۔ پیپلز پارٹی نے اپنا منشور پیش کر دیا ہے ' تحریک انصاف بھی سنا ہے کہ دو ایک روز میں منشور جاری کر دے گی۔ مسلم لیگ ن والے بھی کہہ رہے ہیں کہ وہ اپنی کارکردگی کی بنا پر ووٹروں کو راغب کریں گے۔ لیکن اتنا وقت کہاں بچا ہے کہ عوام مختلف سیاسی پارٹیوں کے منشوروں کا مطالعہ کریں ' ان پر بحث کریں اور کسی نتیجے پر پہنچیں۔ اگر ایسا ہوبھی تو پہلے وہ بنیاد واضح ہونی چاہیے جہاں سے آگے لے جانے کے لیے سیاسی پارٹیاں عوام کی حمایت طلب کررہی ہیں۔ یعنی پاکستان کے اہم مسائل کیا ہیں ' ان کی نوعیت کیا ہے اور سیاسی پارٹیاں اپنے اپنے طور پر ان کے کیا حل پیش کرتی ہیں۔ پہلے مسائل اور ان کی اہمیت کا جائزہ لیا جانا چاہیے اور پھر دیکھنا چاہیے کہ ان مسائل کے جو حل سیاسی پارٹیاں پیش کر رہی ہیں وہ قابلِ عمل ہیں یا نہیں۔ پاکستان ایک زرعی ملک ہے ۔ آج سے پچاس سال پہلے تک یہ ملک پانی متمول ملک ہوتاتھا ۔ لیکن یہی ملک آج پانی پیاسا ملک بن چکا ہے ۔ یہ ایک تو عام زندگی میں نظر آتا ہے جس میں پینے کا صاف پانی میسر نہیں ۔ شہروں میں جو پانی سپلائی ہوتا ہے وہ بظاہر بے رنگ ہوتا ہے لیکن ملک بھر کی لیبارٹریاں شہروں میں سپلائی ہونے والے پانی کو مضر صحت قرار دے چکی ہیں۔ تین دریا خشک ہو چکے ہیں ۔ وسیع پیمانے پر اراضی بنجر ہوچکی ہے ۔موسمیاتی تبدیلیوں اور بھارت کی پاکستان کے خلاف آبی جارحیت کے منصوبوں کی وجہ سے پاکستان ان ملکوں کی فہرست میں آ گیاہے جو پانی کی قلت کا شکار ہیں جب کہ پاکستان ایک زرعی ملک ہے۔ 80فیصد آبادی کا دارومدار زراعت یا اس سے منسلک شعبوں پر ہے۔ اقوام متحدہ کے مطالعات کے مطابق آئندہ 25 سال میں پاکستان میں پانی کی شدید قلت واقع ہو جائے گی۔ بھارت کے وزیر اعظم نریندر مودی کہہ چکے ہیں کہ وہ پاکستان کو پانی کی بوند بوند کے لیے ترسا دیں گے۔ اور کشن گنگا ڈیم مکمل کر کے انہوں نے اس طرح ایک اہم اقدام کر بھی دیا ہے۔ اس کے مقابلے میں پاکستان نے جو نیلم جہلم منصوبہ اس سے پہلے شروع کیا تھا وہ ابھی مکمل نہیں ہو سکا اور اگر مکمل ہو گا بھی تو کیااس کے لیے وافر پانی دستیاب ہو گا؟
ایسے میں کئی عشرے پہلے پاکستان میں کالا باغ ڈیم منصوبے پر جو بحث شروع کی گئی تھی وہ یاد آتی ہے کہ اس منصوبے کی مخالفت اہلِ سیاست نے کی تھی جس کی وجہ سے اس پر کام نہ ہو سکااور آج اہلِ سیاست ایک بار پھر ووٹ مانگنے عوام کے پاس جا رہے ہیں۔ کالا باغ ڈیم ایک بنا بنایا ذخیرہ آب ہے جس کے تین اطراف ایسے پہاڑ ہیں جن پر کسی تعمیراتی کام کی ضرورت نہیں ہے۔ اس طرح اس پر لاگت بہت کم آئے گی۔ اس پر اعتراض کیے گئے کہ اس کی تعمیر سے نوشہرہ ڈوب جائے گا۔ دوسرا اعتراض سندھ سے آیا کہ دریائے سندھ میں پانی کم ہو جائے گا اور یہ کہ ڈیم کے منتظمین جب چاہیں گے سندھ کا پانی روک دیں گے۔ یہ بحث جنرل مشرف نے میڈیا میں شروع کرائی تھی۔ اس میں اہل سیاست کے علاوہ ملک کے نامور انجینئروں نے بھی شرکت کی تھی۔ شمس الملک خیبر پختونخوا کے مایہ ناز انجینئر ہیں ۔ واپڈا کے سابق چیئرمین بھی ہیں وہ اس ڈیم کے بہت بڑے حامی تھے۔ آج بھی ان کا کہنا ہے کہ اس ڈیم کے نہ بننے کے باعث ملک کو 196ارب روپے سالانہ کا نقصان ہو رہا ہے ۔ ایک سینئر افسر افتخار الدین خٹک مرحوم تھے جنہوں نے کئی مضامین اس ڈیم کی تعمیر کے حق میں لکھے 'اور بھی متعدد اہلِ علم تھے جنہوں نے اس ڈیم کو پاکستان کی اہم ترین ضرورت قرار دیا ۔ ماہرین نے یہ بھی بتایا کہ نوشہرہ دریائے سندھ کی سطح سے بہت بلندی پر واقع ہے ' اس کے ڈوبنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ یہ خالص ٹیکنیکل سوال تھا اس بحث میں انجینئروں کو شامل کیا جانا چاہیے تھا لیکن عام بحث کے باعث سیاستدانوں نے اس منصوبے کو سیاسی مسئلہ بنا لیا اور یہ منصوبہ بھلادیا گیا۔ اس کے باوجود بھلا دیا گیا کہ کسی نے یہ نہیں کہا کہ پاکستان میں پانی ذخیرہ کرنے کی ضرورت نہیں ہے اور پن بجلی بنانے کی ضرورت نہیں ہے۔ اب ایک بار پھر اس منصوبے پر گفتگو شروع ہوئی ہے ۔ اہل سیاست کی طرف سے نہیں بلکہ ایک طرف سپریم کورٹ کے چیف جسٹس نے پاکستان کی قحط سالی کے پیش نظر ڈیم تعمیر کرنے کی ضرورت پر زور دیا ہے ، دوسری طرف وفاق ایوان ہائے صنعت و تجارت نے کالا باغ دیم کی افادیت کی بات کی ہے۔ اہل سیاست جنہوں نے اس منصوبے کو صوبائی حقوق کا مسئلہ بنادیا تھا ،اب بھی پانی کی قلت اور قحط سالی کے موضوع پر کم ہی متوجہ نظر آتے ہیں۔ اس وقت سے آج تک مارشل کی حکومت بھی رہی ' پیپلز پارٹی کی حکومت بھی اور مسلم لیگ ن کی بھی لیکن کسی نے پاکستان میں پانی کی قلت کی طرف دھیان نہ دیا۔ کہا گیا کہ کالا باغ ڈیم کی بجائے دیامر بھاشا ڈیم بنایا جائے گا لیکن آج تک یہ کہا جاتا ہے کہ اس ڈیم کے لیے زمین کی خریداری پر غور ہورہا ہے۔ پاکستان میں پانی کی قلت کی وجہ اگر موسمیاتی تبدیلی ہے ' بھارت کی پاکستان دشمنی ہے تو ہمارے اہل سیاست کی عدم توجہی کی ذمہ داری اس سے کہیں زیادہ ہے کہ انہیں اس مسئلے سے عہدہ برآء ہونے کے لیے فعال تر ہونا چاہیے تھا۔ لیکن اس بارے میں لاپرواہی صاف نظر آتی ہے۔ کیا اہل سیاست آج پاکستان میں پانی کی دستیابی کی صورت حال سے واقف ہیں؟ پانی بنیادی ضرورت ہے ' اہلِ سیاست کو اس بارے میں اپنی آگاہی کا ثبوت فراہم کرنا چاہیے اور اگر ان کے پاس کوئی منصوبے ہیں تو ان سے عوام کو آگاہ کرنا چاہیے ۔ سبھی اہل ِ سیاست کو اپنی پانی پالیسی وضاحت کے ساتھ بیان کرنا چاہیے۔

اداریہ