Daily Mashriq

یہ کیا ہوا؟؟

یہ کیا ہوا؟؟

عمران خان نے اچھا نہیں کیا ۔عقیدت کے ایسے رنگوں کا اظہار لوگوں کے لیے پریشان کن ثابت ہو سکتا ہے ۔ ایک پڑھا لکھا سمجھدار اور قدرے ماڈرن ووٹر بدک سکتا ہے ۔ دین کی سمجھ رکھنے والے بیزار ہو سکتے ہیں اور محض اس بنا پر عمران خان کی قیادت ماننے سے انکار کر سکتے ہیں کہ انہیں تو دین کی اتنی بھی سمجھ نہیں کہ قبروں کو سجدہ نہیں کیا جاتا ۔ عمران خان شاید اپنی تیسری شادی سے بہت خوش ہیں ۔ اسی خوشی میں انہیں یہ بھی سمجھ نہیں آیا کہ علامہ اقبال نے جس سجدے کا ذکر کیا تھا ، وہ قطعی یہ سجدہ نہیں تھا ۔ عمران خان کے اندر یہ تبدیلی یقیناپڑھے لکھے روشن خیال مذہبی سوجھ بوجھ رکھنے والے طبقے کو ان سے انتہائی متنفر کر چکی ہے۔ بزرگوں اور اولیاء سے عقیدت ، ان کی تعلیمات کی روشنی میں درست راہ کا تعین کرنا ایک بالکل مختلف بات ہے لیکن یوں چوکھٹ پر سجدے انتہائی نامناسب اور نا پسندیدہ فعل ہیں ۔کئی لوگ اس بات کا مجرم ان کی نئی اہلیہ کو قرار دے رہے ہیں اور ان کے بارے میں ان کے سابقہ خاوند کے بارے میں ، ان کے ماضی کے حوالے سے کئی باتیں کر رہے ہیں ۔ ان باتوں سے ہمیں کوئی سروکار نہیںہوناچاہیئے ۔ یہ شادی کیسے اور کن حالات میں ہوئی اور کسی کا بھی کیا ماضی رہا ،میرے خیال میں یہ ان کا ذاتی فعل ہے اور ہمیں محض اس لیے اس پر اعتراض کرنے کا کوئی حق نہیں کیونکہ اب خاتون کی شادی عمران خان سے ہوگئی ہے اور عمران خان ایک پبلک فگر ہیں ۔ عمران خان کی پسند نا پسند کے حوالے سے بھی بات چیت کرنا یا اس سارے تعلق کو موضوع سخن بنانا بھی درست نہیں کیونکہ بہر حال یہ ان کا ذاتی معاملہ ہے ۔ وہ کس سے شادی کرتے ہیں اور اس خاتون کا ماضی کیا تھا ۔ یہ باتیں صرف عمران خان کے سوچنے کی ہیں ۔ ہاں ایک عام آدمی کی پریشانی وہاں سے شروع ہوتی ہے جب ایک ایسا شخص جو اس ملک کا وزیراعظم بننے کا مستحق ہے ۔ لوگوںکے سامنے ، کھلم کھلا ایک ایسے جرم کا مرتکب ہوتا ہے جسے لوگ شرک پرمحمول بھی کر سکتے ہیں ۔ اب وہ اپنے اس اقدام کی کوئی بھی تاویل پیش کریں ، ان کی حرکت کی گمبھیرتا کسی طور کم نہیں ہوتی ۔ لوگ نالاں ہورہے ہیں ۔ اور کئی حمایتی اس سب کا ذمہ دار ان کی اہلیہ کو بھی ٹھہرا رہے ہیں ۔ لیکن اس بات کو بھی ذہن میں رکھنا چاہیئے کہ عمران خان ایک عاقل بالغ جہاندیدہ آدمی ہیں ۔ خاصے پڑے لکھے بھی ہیں ۔ دین کو بھی انہوں نے خاصا پڑھ رکھا ہے ۔ ان کو یہ سب کرنا زیب نہیں دیتا تھا ۔ ان کی اہلکہ کے خیالات کچھ بھی ہوتے ، ان پر اس طور اثر اندازنہیں ہونے چاہیئے تھے کہ وہ اپنے ووٹروں کو اس اذیت میں مبتلا کر دیتے ۔ میں بے شمار ایسے لوگوں کو جانتی ہوں جو پی ٹی آئی کے پکے سپورٹر تھے لیکن اب اس حرکت کے بعد اس قدر ناراض ہیں کہ وہ اب عمران خان کے نامزد کسی آدمی کو ووٹ نہیں دینا چاہتے ۔ جمال شاہ کا تعلق سوات سے ہے اور وہ ایک بہت سلجھا ہوا ذہین لڑکا ہے چند دن پہلے ہی میں اس کی خوبصورت مہمان نوازی سے فیضیاب ہوئی ہوں ۔ عام حالات میں جمال ایک ہنستا مسکراتا ، مثبت سوچ کا مالک نوجوان ہے ۔ اپنے خاندان کے جماعت اسلامی سے وابستہ ہونے کے باوجود اس کا ارادہ پاکستان تحریک انصاف کو ووٹ ڈالنے کا تھا لیکن اس نے جب یہ ویڈدیکھی تو اس کے چہرے کا غصہ اور افسوس میں شاید بھول نہیں سکتی ۔ اس نے میرے سامنے پڑی کرسی سے ایک جھٹکے سے اٹھتے ہوئے کہا ، اب میں انہیں ووٹ نہیں دونگا ۔ یہ تو میں برداشت ہی نہیں کرسکتا ۔ جمال شاہ کے اس ردعمل اور غصے میں مجھے کئی نوجوانوں کا ردعمل دکھائی دے رہاتھا ۔ اور میں دیکھ سکتی ہوں کہ انتخابات کے نتائج میںیہ اثر پذیری ہمیں باقاعدہ نظر آئے گی ۔
عمران خان کی اس فاش غلطی کو لوگ اتنی جلدی فراموش بھی نہیں کر سکیں گے انتخابات سر پر ہیں اور لوگوں کے فہم میں بہت اضافہ ہوچکا ہے ۔ اب لوگ اتنی جلدی باتیں فراموش بھی نہیں کر تے ۔ جس طرح لوگ یہ نہیں بھولیں گے کہ شریف برادران نے انہیں کس طرح مسلسل بے وقوف بنایا ہے ۔ اسی طرح عمران خان کا بے سمجھ ہونا ، یا دین کے معاملات میں احتیاط نہ برتنا کبھی بھول نہ سکیں گے ۔ پھر ایک پڑھا لکھا طبقہ جو اس وقت صرف معاملات کو سمجھ کر فیصلہ کرنے کی کوشش کررہا ہے اس کے لیے عمران خان کے بارے میں مثبت جذبات ذہن میں رکھنا ممکن ہی نہ رہے گا ۔
یہ منظر نامہ بہت ہی پیچیدہ ہے ۔ سیاست دان اپنے اپنے حصے کی غلطیاں کر رہے ہیں ۔ اگر چہ عمران خان کے اس سجدے کیگمبھیرتا ، شہباز شریف کے ''پان اور کرانچی'' والے بیان سے کہیں زیادہ ہے لیکن ہمارے لوگوں کے ذہنوں میں ایسے ہی تقابل کے منظر تخلیق پاتے ہیں۔ میں سوچتی ہوں جانے یہ سیاست دان کیا کر رہے ہیں اور ہم سے کیا چاہتے ہیں ، شاید وہ ہمیں کسی قابل ہی نہیں سمجھتے تبھی تو احتیاط نہیں برتتے کیونکہ جن ملکوں میں عوام کو اپنی طاقت کا اندازہ ہو ، وہاں سیاست دان بہت محتاط ہو ا کرتے ہیں ۔

اداریہ