Daily Mashriq

کوئی ہماری طرح عمر بھر سفر میں رہا

کوئی ہماری طرح عمر بھر سفر میں رہا

جے سالک یاد آگئے ہیں ، خداجانے آج کل کہاں اور کس حالت میں ہیں اور سیاسی منظر سے غائب کیوں ہیں ؟ ان کے یاد آنے کا کارن وہ خبر ہے جو لیگ (ن) کے ایک رہنماء عارف خان سندھیلہ کے بارے میں اخبارات میں چھپی ہے ، سندھیلہ وہ شخص ہے جس نے میاں نواز شریف کی نااہلی کے فیصلے پر تادم مرگ بھوک ہڑتال کی تھی ، اور اب موصوف نے ٹکٹ نہ ملنے پر خود کو زنجیروں میں جکڑ کر پارٹی فیصلوں کے خلاف احتجاج کا ڈول ڈالا جبکہ ان کے ساتھ آنے والے لیگی کارکنوں نے میاں شہباز شریف کی رہائش گاہ کے باہر دھرنا بھی دیا اور نا انصافی نا منظور کے نعرے لگائے ، تاہم پارٹی قیادت کے حق میں بھی آوازیں بلند کرتے رہے ۔ پچھلی بار جب سندھیلہ نے نواز شریف کے حق میں بھوک ہڑتال کی تھی ان کی جان کو خطرہ پیش ہونے کے بعد ہسپتال منتقل کر کے ان کی جان بچالی گئی تھی ۔ تاہم اب کی بار جب انہوں نے خود کو زنجیروں میں جکڑ کر اپنی ہی جماعت کی مبینہ نا انصافی پر احتجاج کیا ۔ کچھ معلوم نہیں ہو سکا کہ ان کا احتجاج رنگ لایا بھی یا نہیں ۔ کیونکہ اب تو انتخابی قوانین کے تحت حتمی فہرست بھی مرتب ہو چکی ہے اور اب کوئی جماعت چاہے بھی تو نامزدگیوں میں کوئی ردوبدل نہیں کر سکتی البتہ اگر کسی نے پہلے ہی کاغذات نامزدگی جمع کرائے ہوں تو وہ آزاد امیدوار کے طور پر انتخابات میں حصہ لے سکتا ہے ۔ اور جیسا کہ عرض کر چکا ہوں کہ سندھیلہ کی اس حرکت سے جے سالک یاد آگئے ہیں ، وہ بھی پاکستانی سیاست میں ایسی ہی حرکتوں کیلئے خاصے مشہور رہے ہیں ۔ موصوف اقلیتوں کے کوٹے میں نہ صرف قومی اسمبلی کے ممبر بنے تھے بلکہ وزیر مملکت برائے اقلیتی امور کے طور پر بھی اقتدار کے مزے لوٹتے رہے ، تاہم اپنے مطالبات کی منظوری کے حوالے سے ایسی ہی بے سر وپا حرکتوں سے اس دور میں خبروں کا خاص موضوع بھی بنتے رہے ہمیں یاد ہے ایک بار جب گوہر ایوب خان قومی اسمبلی کے سپیکر تھے تو جے سالک اپنے جوتے اسمبلی فلور پر احتجاجاً چھوڑ آئے تھے ، اسی طرح ایک بار انہوں نے انوکھا طریقہ اختیار کرتے ہوئے خود کو زنجیروں میں جکڑ اور پنجرے میں قید کر کے اسلام آباد کے مشہور شاہراہ پر کئی روز تک احتجاج کیا تھا جبکہ اس دوران وہ اپنے سر میں خاک بھی ڈال کر اپنے احتجاج کو مہمیز دیتے رہے ۔ تاہم سندھیلہ نے صرف خود کو زنجیروں میں جکڑنے پر ہی اکتفا کیا اور اپنی لیڈر شپ کے خلاف کوئی نعرے بازی بھی نہیں کی بلکہ انہیں زندہ باد قرار دیا اس لئے امید کی جاسکتی ہے کہ ان کی پارٹی کے بعض لیڈروں نے جہاں جہاں سے دو دو حلقوں میں انتخاب لڑنے کا فیصلہ کیا ہے اگر یہ لوگ دونوں حلقوں سے کامیاب ہو گئے تو ضمنی انتخابات میں سندھیلہ کو ٹکٹ کی صورت گوہر مراد ہاتھ آسکتا ہے ۔ تب وہ ممکنہ طور پر ملنے والے پارٹی ٹکٹ کو دیکھ دیکھ کر بقول رسا چغتائی دل ہی دل میں کہنے پر مجبور ہوگا کہ
ترے آنے کا انتظار رہا
عمر بھر موسم بہار رہا
بالآخر وہی ہوا جس کا انتظار تھا (خدشہ ، ڈریا دوسرا کوئی منفی لفظ جان بوجھ کر نہیں لکھا) اور شاہ رخ خان کی کزن محترمہ نورجہان نے اے این پی کے امیدوار کے حق میں دستبردار ہونے کافیصلہ کر ہی لیا ، نورجہان پشاور کے ایک بہت ہی اہم سیاسی خاندان سے تعلق رکھتی ہیں ، ان کے بزرگوں میں جہاں بھارتی فلم انڈسٹری کے بے تاج بادشاہ ، کنگ خان کے نام سے مشہور شاہ رخ خان کے والد گرامی تاج محمد خان کا نام آتا ہے وہیں پشاور کی مقامی سیاست پر اپنے انمٹ نقوش چھوڑنے والے غلام محمد گاما جو گاما بانساںوالا کے نام سے مشہور تھے ۔ بھی شامل ہیں ۔ غلام محمد گاما متحدہ ہندوستان ہی کے دور سے سر خپوش رہنما ء خان عبدالغفار خان عرف باچا خان کے شانہ بہ شانہ آزادی کی جنگ لڑتے رہے بلکہ بعد میں انہوں نے شہر کے مسائل کے حوالے سے غریب عوام پارٹی کے نام سے سیاسی جماعت قائم کی اور چوک یاد گار پر مقامی مسائل پر ہندکو زبان میں اپنے مخصوص انداز میں خطابات کے دوران شرکاء جلسہ کو قہقہے لگانے پر مجبور کر دیتے تھے اور مزاح ہی مزاح میں اصل مسئلہ انتظامیہ تک پہنچا دیتے تھے ، موصوف نے بعد میں ڈاکٹر خان صاحب کی ری پبلکن پارٹی کے تحت سابقہ مغربی پاکستان (موجودہ پاکستان) وزیراعلیٰ کے منصب پر متمکن ہونے کے دوران سابق مشرقی پاکستان ( موجودہ بنگلہ دیش) سے بانسوں کی تجارت کا لائسنس حاصل کر کے ڈھاکہ کا رخ کیا، مگر 1971ء میں مشرقی پاکستان کی علیحدگی کے بعد جنگی قیدیوں کے قافلے میں شامل ہو کر بھارت میں پی او ڈبلیوز کے کیمپوں میں قید بھی گزاری ۔ اب ان کی صاحبزادی کو اگرچہ اصولی طور پر اے این پی کا ٹکٹ ملنا چاہیئے تھا مگر پارٹی نے نہ صرف انہیں ٹکٹ سے محروم رکھا بلکہ اب اپنے امیدوار کے حق میں دستبردار ہونے پر بھی آمادہ کر لیا ۔ ایک خاتون ہونے کے ناتے چونکہ وہ پارٹی کے ٹکٹ نہ دینے کے فیصلے پر سندھیلہ اور جے سالک کی طرح خود کو زنجیروں میں جکڑ نہیں سکتیں اس لئے ان کی آواز نحیف ونزار ہونے کے نتائج سے دوچار رہی بقول احمد فراز
کسی کو گھر سے نکلتے ہی مل گئی منزل
کوئی ہماری طرح عمر بھر سفر میں رہا
گزشتہ روز کے کالم کا عنوان جو شعر کا ایک مصرعہ تھا کمپوزنگ کی غلطی سے معنی و مفہوم کے لحاظ سے بالکل الٹ ہوگیا درست مصرعہ یہ ہے ۔
بہ صد سامان رسوائی سربازار می رقصم

اداریہ