Daily Mashriq


انتخابی سیاست کے چند قصے اور مہربانیوں کی پھرتیاں

انتخابی سیاست کے چند قصے اور مہربانیوں کی پھرتیاں

انتخابی سیاست کے ہنگام جاری ہیں۔ تحریک انصاف میں ٹکٹوں کا عطا تبدیلی اور عطا کا سلسلہ جاری ہے۔ فواد چودھری اور خاقان عباسی ابتدائی نا اہلی کو ختم کروا کے پھر میدان میں ہیں۔ اسلام آباد میں متحدہ مجلس عمل اور نون لیگ کے درمیان باہمی تعاون پر غور ہو رہا ہے۔ اطلاع یہ ہے کہ نون لیگ اپنے خلاف چند مذہبی گروہوں اور تحریک انصاف کی طرف سے کھیلے جانے والے کارڈ کا جواب دینے کے لئے متحدہ مجلس عمل سے انتخابی رشتہ بنائے گی تاکہ ''لوہے کو لوہا'' کاٹ سکے۔ دستیاب معلومات کے مطابق اس حوالے سے جناب نواز شریف اور مولانا فضل الرحمن کے درمیان واسطوں اور موبائل فون کے ذریعے رابطے ہوئے ہیں۔ ہمارے محبوب کامریڈ چنگ چی نواز شریف گویرا کے ''ترقی پسند'' بیانئے پر یہ وقت بھی آنا تھا۔ مرشد امتیاز عالم گیلانی کو اطلاع ہو کہ نون لیگ اپنے اصل کی طرف پلٹنے والی ہے۔پلٹ گئی تو پھر ہمارے پنجابی لبرلز اور کمرشل لبرلز کا کیا ہوگا؟ فقیر راحموں کچھ بتانے سمجھانے کی کوشش کر رہے ہیں لیکن پچھلی شب ہم نے فیصلہ کیا کہ 25جولائی تک اس سے دور ہی رہیں گے۔ وجہ نہ پوچھئے گا۔ اس ہمزاد نے بڑے کڑے دن دکھائے ہیں۔ ویسے بھی سنا ہے کہ برسات کے موسم میں پرانے زخموں اور چوٹوں میں درد جاگ اٹھتا ہے ایسے میں نئے زخم اور چوٹیں کون برداشت کرے۔ عوامی نیشنل پارٹی کے بعد پیپلز پارٹی بھی انتخابی منشور پیش کرچکی۔ انتخابی سیاست کے ہنگام میں بہت زیادہ لوگوں نے ان دونوں پارٹیوں کے منشورین پر توجہ نہیں دی۔ چلئے کوئی بات نہیں ہاں خوشی بہر طور ہے کہ دونوں جماعتوں نے منافرتوں اور انتہا پسندی کو سماجی ارتقا کے لئے زہر قاتل قرار دیا۔ نجی لشکروں کو امن' علم' مساوات'ترقی اور انصاف کا قاتل۔ البتہ اے این پی اور پیپلز پارٹی کو نجی لشکروں نے اصلی لو پرستوں بارے بھی رائے دینی چاہئے تھی۔ سندھ سے موصولہ اطلاعات کے مطابق لاڑکانہ اور نوابشاہ سے 27 ایسے افراد کو ہراست میں لیاگیا ہے جو ان اضلاع کے ان حلقوں میں معتبر سمجھے جاتے تھے جن میں بلاول اور آصف زرداری امیدوار ہیں۔ وفاقی ادارے سندھ میں جی ڈی اے کاکھیل کیوں کھیل رہے ہیں اس کا جواب نہ صرف دیا جانا چاہئے بلکہ اس امر کو بھی یقینی بنانے کی ضرورت ہے کہ انتخابی عمل شفاف انداز میں مکمل ہو۔ نوابشاہ میں آصف علی زرداری کے ایک دیرینہ ساتھی کی اچانک گرفتاری اور اس سے برآمد ہونے والے اسلحہ کی تفصیل پڑھ کر نجانے کراچی میں پانی کی ٹینکوں اور پرانی قبروں سے برآمد ہونے والے اسلحوں کی کھیپ کیوں یاد آگئی۔ کیا نگران حکومت اور اداروں میں ہمت ہے کہ وہ جی ٹی اے کے بعض رہنمائوں کی منہ زوری اور دھندوں پر ہاتھ ڈال سکیں؟۔ معاملہ فقط سندھ کا نہیں جمعہ کے روز خیبر پختونخوا کے ضلع ڈیرہ اسماعیل خان میں ہمارے دوست اور قومی اسمبلی کے سابق ڈپٹی سپیکر فیصل کریم کنڈی نے بعض اداروں کے انتخابی دفاتر اور ان دفاتر کی سیاسی گرمیوں کے حوالے سے جن خیالات کا اظہار کیا ان سے صرف نظر دانش مندی ہر گز نہیں ہوگی۔ آبپارہ کی حکمت عملی کے تحت تخلیق ہوئی ایم ڈبلیو ایم کو ڈیرہ اسماعیل خان اور پھر اس سے ملحقہ صوبہ پنجاب کے سرائیکی بولنے والے ضلع بکھر میں تحریک انصاف کے ساتھ اتحاد و تعاون پر کس نے آمادہ کیا یہ ایسا راز ہر گز نہیں کہ الہ دین کا چراغ جلانے پر اندھیرا ختم ہو اور لوگ دیکھ سکیں۔ ایم ڈبلیو ایم سے تو پروفیسر ڈاکٹر طاہر القادری ہی باہمت نکلے کہ انہوں نے انتخابی عمل میں تحریک انصاف کے پلڑے میں وزن ڈالنے سے انکار کیا اور بائیکاٹ کردیا۔ عرض کرنے کا مقصد یہ ہے کہ ڈیرہ اسماعیل خان میں جس ہستی نے ایم ڈبلیو ایم اور تحریک انصاف کے درمیان باہمی نہیں یکطرفہ تعاون و قربانی کا پاکیزہ میثاق منظور کروایا کیا یہ ان کے فرائض کاحصہ تھا؟۔ مہربانوں کو سوچنا ہوگا کہ انتخابی عمل میں ان کے کچھ لوگوں کی مداخلت اور جذباتی اقدامات سے بد اعتمادی کی خلیج مزید گہری ہوگی۔ ایسا ہوا تو بہت نقصان ہوگا۔ ہم نیک و بد حضور کو سمجھائے دیتے ہیں۔ برسات کے باوجود انتخابی رونقیں عروج پر ہیں درمیان میں چند مزے دار قصے لطیفے اور معاملات بھی ہیں۔ اخباری دنیا کے ایک بڑے کی ٹیلیفونک کال سے برپا ہوا ہنگامہ تھما ہی نہیں تھا کہ تحریک انصاف کے اعظم سواتی کی منظر عام پر آنے والی ایک ٹیلیفون کال نے مزہ دو آتشہ کردیا۔ اپنی جماعت کی ایک خاتون رہنما سے اعظم سواتی نے جو گفتگو فرمائی اور زبان استعمال کی وہ پشتون سماجی روایات کے منافی تو ہے لیکن امت بنی گالہ شریف کی مقدس زبان یہی ہے۔ دوسری طرف عمران خان اور ان کی تیسری اہلیہ کی پاکپتن میں دربار حضرت بابا فرید شکر گنج پر حاضری کے حوالے سے وائرل ہوئی ویڈیو ایک ہنگامہ برپا کئے ہوئے ہے۔ فتوے جواب فتوے سے جو تماشے لگے ہیں ان پر افسوس ہی کیا جاسکتا ہے۔ دعویداران دہلیز کے بوسے کو سجدہ التعظیمی قرار دے کر ہنگامہ اٹھائے ہوئے ہیں۔ عمران خان کہتے ہیں انہوں نے خانقاہ کی دہلیز کو عقیدت سے بوسہ دیا۔ میری دانست میں ان کی بات مانی جانی چاہئے۔ بد قسمتی یہ ہے کہ ہمارے سوشل میڈیائی مجاہدین (وہ کسی بھی جماعت اور فرقے کے ہوں) فریق مخالف کی بھد اڑانے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتے۔اور تو اور ہمارے محبوب تحریر نویس خورشید احمد ندیم نے اس موضوع پر پورا کالم لکھ مارا۔ بہت ادب سے ان کی خدمت میں عرض ہے کہ نیتوں کاحال جاننے کا اختیار سنبھالنے کی بجائے اپنے کامریڈ نواز شریف کی مدح فرماتے رہیں۔ عقیدہ انسان کا خالص ذاتی معاملہ ہے۔ ستم یہ ہے کہ جیالے بھی اس معاملے میں کسی سے پیچھے نہیں۔ عرض فقط یہ کرنا مقصود ہے کہ کیا ہم سب اپنے اپنے گریبانوں میں جھانکنے کاحوصلہ کرسکتے ہیں؟۔

متعلقہ خبریں