Daily Mashriq


آدمی پھرتے ہیں سرکاری بہت

آدمی پھرتے ہیں سرکاری بہت

آنکھوں والو آنکھیں بڑی نعمت ہیں ،کبھی آپ نے کسی اندھے محتاج کی زبان سے ادا ہونے والے اس جملے پر غور کیا۔ لمحہ بھر کے لئے آپ اپنی آنکھوں کو بند کرلیں، آناً فاناً آپکے چہار سو گھپ اندھیرے چھا جائیں گے۔

دشت شب میں پتا ہی نہ چل سکا

اپنی آنکھیں گئیں یا ستارے گئے

بات آنکھوں اور اس کی بینائی سے شروع ہوکر اپنے انجام یا اختتام تک نہیں پہنچتی اگر انصاف کی نظر سے دیکھا جائے تو حضرت انسان کے وجود کا ہر حصہ اپنی جگہ مسلمہ حقیقت، اہمیت اور افادیت کاحامل ہے۔ ہاتھ کی ایک انگلی پر سجے ناخن سے لیکر آنکھ کی پتلی تک ، سانس کی ڈوری سے لیکر دل کی ہر دھڑکن تک خدا نخواستہ کوئی نقص یا سقم پیدا ہوجائے تو ہم تندرست و توانا نہیں رہتے۔ ہماری رگوں میں دوڑنے والے خون میں ذرہ بھر رکاوٹ پیدا ہوجائے یا ہمیں ایک سوئی برابر زخم کا سامنا کرنا پڑ جائے یا معمولی سا کانٹا بھی چبھ جا ئے تو ہم اف ہائے کرنا شروع کر دیتے ہیں۔ میڈیکل سائنس کی بدولت ہم اتنا جانتے ہیں کہ ہمارے وجود کا درجہ حرارت اٹھانوے ڈگری سنٹی گریڈ سے ایک درجہ بڑھنے گھٹنے سے ہم دگر گوں کیفیت کا شکار ہوجاتے ہیں۔

تنگدستی اگر نہ ہو سالک

تو تندرستی ہزار نعمت ہے

سالک نے جو کہنا تھا سو کہہ دیا لیکن ہمیں یہ بات ماننی پڑتی ہے کہ ہم تنگ دست ہوں یاو فراغ دست ، ہر صورت میں تندرستی ہمارے وجود کیلئے نعمت غیر مترقبہ کا درجہ رکھتی ہے اور آج ہم آپ کو یہ بتانا چاہتے ہیں کہ اچھی صحت یا تندرستی نہ صرف حضرت انسان کیلئے بنیادی اہمیت کی حامل ہے بلکہ اس نعمت ربانی کی ضرورت ہر جاندار اور بے جان مخلوق خدا وندی کو رہتی ہے۔ جاندار جسم و جان رکھنے والوں میں آپ اور آپ کے پالتو جانور مویشی یا ڈھور ڈنگر ہی نہیں آتے شجر حجر ننھے پودے، شاخیں، ٹہنیاں، کیڑے مکوڑے سبھی تو جاندار کہلاتے ہیں۔ میں نے شجر کا ذکر کرتے وقت حجر کا بھی ذکر کیا۔ یقین مانیں کہ پتھر یا اس قبیل کی دیگر اشیاء بھی جانداروں کی ذیل میں آتی ہیں۔ ان کے اندر بھی سالمے پائے جاتے ہیں جو شان خدا وندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے آپس میں مربوط رہتے ہیں۔

ڈاکٹرانجینئر اور سائنس دان کارخانہ قدرت کا عمیق مطالعہ کرنے کے بعد اپنی پیشہ ورانہ منصب پر فائز ہوتے ہیں۔ ہمارے ٹیکنیشن یا زندگی کے کسی بھی پیشے میں کسب کمال حاصل کرنے والے کم حیثیت کے حامل نہیں ہوتے، ایک فیکٹری کی مشینری جام ہوچکی تھی ، فیکٹری کا مالک بڑا رنجور تھا ، اس کا لاکھوں کا نقصان ہورہا تھا بھلاوہ خوش کیسے رہتا ، ارے کچھ کرو ، اگر مشینری یوں ہی بند رہی تو لاکھوں کا نقصان کروڑوں تک پہنچ جائے گا، اس کی فریاد جب ایک مشین مین تک پہنچی تو وہ کندھے پر ہتھوڑا اٹھا ئے نمودار ہو ا ، اور اس نے فیکٹری کی مشین کے کسی ایک پرزے کو ہتھوڑے کی ضرب دی اور یوں دیکھتے ہی دیکھتے ساری فیکٹری کی مشینیں گرر گرر کرکے چلنے لگیں ، واہ بھئی تم نے توکمال کر دیا ، ہتھوڑے کی ایک ضرب سے تم نے ساری فیکٹری چلا دی، بتاؤ تمہیں کیا انعام دیا جائے، فیکٹری کے مالک نے ہتھوڑا رسید کرکے مشینوں کو چلتا کرنیوالے سے پوچھا ، دس لاکھ دس روپے، ہتھوڑا مارنے والے نے جواب دیا، ارے یہ تو کیا کہہ رہا ہے ایک ہتھوڑا مارنے کے اتنے پیسے مانگ رہا ہے ، فیکٹری کے مالک نے تنقیدی لہجے میں بات کرتے ہوئے کہا، صرف دس روپے مانگ رہا ہوں، ہتھوڑا مارنے کا، اور دس لاکھ طلب کر رہا ہوں فیکٹری کی تین دن سے بند مشینری کو چلانے کے ، ہتھوڑا مار کر مشینری سٹارٹ کرنے والے مزدور ، محنت کش یا فیکٹری کی مشینوں کے نبض آزما کاریگر نے جواب دیا، کہتے ہیں نہ صرف صوبہ خیبر پختونخوا بلکہ ملک کے دیگر صوبوں کے سرکاری ہسپتالوں میں کروڑوں روپے مالیت کی مشینری ناکارہ ہوکر اپنے اور ہماری قوم کے برے نصیبوں کو رو رہی ہے۔بھئی انسانی صحت کی طرح جاندار یا بے جان چیزوں کو تندرست و توانا رکھنے کیلئے ان کے نبض آشنا کاریگروں کی ضرورت رہتی ہے اور گاہے بگاہے ان کی صحت بحال رکھنے کیلئے ان کے علاج معالجے دیکھ بھال یا مرمت کا بھی خیال رکھنا پڑتا ہے، لیکن ایسا ہر گز نہیں ہورہا، اس کی وجہ جاننی چاہی تو کہنے وا لوں نے یہاں تک کہہ ڈالا کہ مشینری کا ناکارہ ہونا ایک بہانہ ہے اصل مقصد مریضوں یا ان کے لواحقین کو مختلف ٹیسٹ لکھ کر دے دئیے جاتے ہیں اور ساتھ ہی یہ بھی کہا جاتا ہے کہ یہ ٹیسٹ فلاں پرائیویٹ لیبارٹری سے کروانا اور یوں وہ بے چارے قہر درویش بر جان درویش کے مصداق اپنی یا اپنے مریض کی صحت کی بحالی کی قیمت ادا کرنے پرائیویٹ لیبارٹریز کی جانب تجویز شدہ ٹیسٹوں کی پرچی لیکر دوڑ پڑ تے ہیں اور سرکاری ہسپتالوں میں بے کار پڑی مشینری خراب سے خراب تر ہوتی رہتی ہے۔ جب کہ غیر سرکاری ، پرائیویٹ اور مہنگے ہسپتالوں میں ایسا ہر گز نہیں ہوتا کیونکہ وہاں انسانی جان بچانے یا ان کے علاج معالجے میں استعمال ہونے والی اس مشینری پر کئے جانے والے جملہ ٹیسٹوں کی فیس الگ سے وصول کی جاتی ہے جب کہ سرکاری تیل کسی گل چراغ کو روشن کرنے کی بجائے جوتیاں چمکانے کے کام آتا ہے ۔ آہ

چار جانب دیکھ کر سچ بولئے

آدمی پھرتے ہیں سرکاری بہت

متعلقہ خبریں