Daily Mashriq


مشرقیات

مشرقیات

حضرت ابوہریرہ کہتے ہیں: ایک شخص کا واقعہ ہے کہ وہ ایک دن کہیں باہر سے اپنے گھر والوں کے پاس آیا تو اس نے گھر والوں پر محتاجی اور فقر وفاقہ کے آثار دیکھے۔ وہ یہ سب کچھ دیکھ کر اپنے اللہ کے حضور اپنی تمام حاجات پیش کرنے اور پوری یکسوئی کیساتھ اس کی بارگاہ میں عرض ومناجات کرنے کے بعد باہر نکلا تاکہ محنت ومزدوری کر کے کچھ مل جائے۔

ادھر اس کی بیوی نے جب یہ دیکھا کہ شوہر باہر سے کچھ کما کر لے آئے گا تو اس نے اس امید پر چکی کو صاف کیا کہ دانے وغیرہ پیس کر روٹی پکا لوں گی اور تنور کے پاس گئی اس کو گرم کیا۔ اس کے بعد اس نیک عورت نے بھی صدق دل سے اللہ تعالیٰ کے حضور یہ دعا کی الٰہی ہم تیرے محتاج ہیں، تیرے غیر سے ہم نے اپنی امید منقطع کر لی ہے، تو خیرالرازقین (بہتر روزی دینے والا) ہے، اپنے خزانہ غیب سے ہمیں رزق عطا فرما۔ پھر اس نے نظر اُٹھائی تو کیا دیکھتی ہے کہ چکی آٹے سے بھری ہوئی ہے (اللہ تعالیٰ کے ہاں تو کن کی دیر ہے)۔ پھر اس نے وہاں سے آٹا لے کر بسم اللہ الرحمن الرحیم پڑھ کر گوندا اور تنور کے پاس گئی تاکہ اس میں روٹیاں لگائے تو کیا دیکھتی ہے کہ تنور روٹیوں سے بھرا ہوا ہے۔ راوی کہتے ہیں کہ کچھ دیر کے بعد خاوند واپس گھر آیا،آٹا اور تنورکیساتھ روٹیاں بھی دیکھیں تو بیوی سے پوچھا کہ میرے جانے کے بعد کہیں سے کچھ غلہ وغیرہ مل گیا تھا کہ تم نے یہ روٹیاں تیار کر رکھی ہیں؟ بیوی نے کہا ہاں۔ یہ سب کچھ ہمیں بغیر اسباب کے اللہ تعالیٰ کی طرف سے ملا ہے۔ خاوند کو بہت تعجب ہوا اور وہ اُٹھ کر چکی کے پاس گیا اور اس کے پاس بہت سا آٹا دیکھا۔ پھر چکی کو اُٹھایا تاکہ اللہ تعالیٰ کے کرشمے کو دیکھے۔ اس کے بعد حضورۖ کی خدمت عالیہ میں حاضر ہوا اور سارا واقعہ عرض کیا۔

نبی کریمۖ نے فرمایا: سن لو۔ اس میں کوئی شک نہیں یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک غیبی امداد تھی۔ اگر تم اس چکی کو نہ اُٹھاتے تو وہ چکی مسلسل قیامت کے دن تک گردش میں رہتی اور اس سے آٹا اسی طرح نکلتا رہتا (یعنی چکی اُٹھانے سے پہلے میرے پاس آٹا تھا)۔

(بحوالہ مظاہر حق شرح مشکوة شریف جلد چہارم ص، 761)

مذکورہ واقعہ کی صورت میں خدا کی قدرت کا جو کرشمہ ظاہر ہوا وہ درحقیقت فقر وفاقہ پر صبر وشکر کرنے اور اللہ کی ذات اقدس پر کامل اعتماد اور توکل اور اس کی اطاعت کا نتیجہ تھا۔ یاد رہے کہ یہ واقعہ کسی پہلی امت کے کسی شخص کا نہیں بلکہ نبی کریمۖ کے مبارک زمانہ میں ہی پیش آیا تھا۔

اگر کسی کو اس طرح رزق ملے تو یہ اس کی کرامت ہے اور اللہ تعالیٰ تو ہر چیز پر قادر ہے جو چاہے کر سکتا ہے۔ مصیبت اور پریشانی میں صرف اللہ ہی سے مدد مانگنی چاہئے اور اس پر بھروسہ اور کامل یقین کرنا چاہئے کیونکہ وہی ذات اقدس سب چیزوں پر قادر ہے۔

متعلقہ خبریں