Daily Mashriq

2 اراکین اسمبلی کی وزیراعظم سے ملاقات کی تصدیق، مسلم لیگ (ن) کا انتباہ

2 اراکین اسمبلی کی وزیراعظم سے ملاقات کی تصدیق، مسلم لیگ (ن) کا انتباہ

لاہور: پاکستان مسلم لیگ (ن) کے 2 اراکین صوبائی اسمبلی کی جانب سے وزیراعظم عمران خان کے ساتھ ملاقات کی تصدیق کرنے کے بعد پارٹی نے خبردار کیا ہے کہ وفاداری تبدیل کرنے سے قبل ’غداروں‘ کو استعفیٰ دینا پڑے گا۔

دوسری جانب پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے وزرا کی جانب سے یہ دعویٰ سامنے آیا کہ مستقبل قریب میں مزید اراکین وفاداریاں تبدیل کریں گے۔

وزیراعظم کے معاون خصوصی نے سماجی روابط کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر ٹوئٹ کرتے ہوئے بتایا تھا کہ مسلم لیگ (ن)ٰ کے 15 اراکین نے وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کے ہمراہ وزیراعظم سے ان کی اسلام آباد میں موجود رہائش گاہ پر ملاقات کی۔

انہوں نے ان اراکین اسمبلی کے نام ظاہر نہیں کیے تاہم وابستگیاں تبدیل کرنے کے الزام میں کچھ افراد کے نام سوشل میڈیا پر ضرور گردش کررہے تھے۔

نعیم الحق کے مطابق ن لیگ کے اراکین نے وزیراعظم اور وزیراعلیٰ پنجاب پر مکمل اعتماد کا اظہار کیا اور اپنے حلقوں میں ترقیاتی کاموں کے حوالے سے گفتگو کی۔

دوسری جانب مسلم لیگ(ن) کے کچھ رہنماؤں نے پارٹی عہدیداروں میں 2018 میں ہونے والے سینیٹ انتخابات سے بھی پہلے سے منحرف گروہ موجود ہونے کی تصدیق کی۔

وزیراعظم سے ملاقات کے حوالے س جن اراکین کا نام لیا جارہا تھا انہوں نے اس کی تردید کی البتہ شیخوپورہ کے حلقہ 99-139 سے رکنِ صوبائی اسمبلی جلیل شرق پوری نے تصدیق کی کہ وہ اپنے حلقے کے مسائل کے حل کے لیے وزیراعظم سے ملے تھے۔

اسی طرح نارووال کے حلقہ پی پی -47 کے رکنِ صوبائی اسمبلی مولانا غیاث الدین نے بھی پی ٹی آئی کے بیان کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ ان کی اور جلیل شرق پوری کی وزیراعظم کے ساتھ ہونے والی ملاقات میں اور کوئی موجود نہیں تھا۔

اس ضمن میں وزیر ریلوے شیخ رشید احمد نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ مسلم لیگ (ن) سے تعلق رکھنے والے اراکینِ اسمبلی کا ایک گروہ اپنی وفاداریاں تبدیل کرنے کے لیے تیار ہے اور اس سلسلے میں جلد وزیراعظم سے ملاقات کرے گا۔

دوسری جانب مسلم لیگ (ن) نائب صدر مریم نواز نے ایک ویڈیو کے ہمراہ ٹوئٹ کرتے ہوئے کہا کہ یہ کوششیں حکومتی کیمپ میں ناکامیوں کو چھپانے کے لیے مایوسی اور گھبراہٹ کی غماز ہیں۔

اس حوالے سے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر مسلم لیگ (ن) کے ایک عہدیدار کا کہنا تھا کہ پارٹی میں 15 سے 20 اراکین کا منحرف گروہ پہلے سے ہی موجود ہے جنہوں نے مارچ 2018 میں سینیٹ کے انتخابات کے دوران پارٹی پالیسی کے خلاف گورنر پنجاب چوہدری سرور کو سینیٹر بنوانے کی راہ ہموار کرنے کے لیے ووٹ دیے تھے

متعلقہ خبریں