Daily Mashriq

وزیراعظم کا منی لانڈرنگ کیخلاف کریک ڈاؤن کا عندیہ

وزیراعظم کا منی لانڈرنگ کیخلاف کریک ڈاؤن کا عندیہ

قومی اسمبلی میں بجٹ منظوری کے مرحلے کے بعد اپوزیشن کے اعتراضات کا جواب دیتے ہوئے وزیراعظم نے قومی اسمبلی میں بجٹ سیشن سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ منی لانڈرنگ ملک کی سب سے بڑی لعنت ہے اور یہ معاشی خسارے کی بڑی وجہ بھی ہے۔ وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ ہمیں ملکی تاریخ کا سب سے بڑا خسارہ ملا جو ساڑھے 19ارب ڈالر تھا‘ جب ڈالر کی کمی ہوتی ہے تو اس کی قیمت اوپر چلی جاتی ہے‘ پاکستان کی برآمدات میں کمی کی اہم وجہ بھی منی لانڈرنگ ہی ہے۔ وزیراعظم نے برملا کہا کہ جب صاحب اقتدار پیسہ چوری کرکے باہر لے جاتے رہیں تو پھر آپ کسی کو نہیں روک سکتے، انہوں نے کہا کہ پاکستانیوںکے 10ارب ڈالر باہر پڑے ہوئے ہیں۔ وزیراعظم نے برطانیہ کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ جس رکن اسمبلی پر ٹیکس چوری کا دھبہ ہو وہ ایوان میں آ کر تقریر کا سوچ بھی نہیں سکتا‘ یہ ہماری فراخ دلی ہے کہ ہم نے مخالفین کو بھی اسمبلی میں آنے کی اجازت دی ہے۔ اپوزیشن کی جانب سے سلیکٹیڈ وزیراعظم کہنے سے متعلق عمران خان کا کہنا تھا کہ آج سلیکٹیڈ کی بات وہ کرتے ہیں جنہیں ڈکٹیٹرشپ کی نرسری میں بنایا گیا۔ وزیراعظم نے منی لانڈرنگ کی بات کرتے ہوئے کہا کہ منی لانڈرنگ پر پورا کریک ڈاؤن کریں گے اور منی لانڈرنگ کے طریقے بند کر دیں گے۔ وزیراعظم نے بلوچستان کے حوالے سے کہا کہ ہم نے بجٹ میں کوشش کی ہے کہ جو علاقے ترقی میں پیچھے رہ گئے ہیں ان پر توجہ دی جائے‘ اس میں بلوچستان اور فاٹا شامل ہیں۔ وزیراعظم نے آرمی چیف کا بطور خاص ذکر کرتے ہوئے کہا کہ آرمی چیف نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ جو پیسہ بچے وہ بلوچستان اور فاٹا پر خرچ ہو۔ وزیراعظم عمران خان نے قومی اسمبلی میں اپنے خطاب میں روپے کی قدر میں کمی کی اہم وجہ منی لانڈرنگ بتائی ہے۔ انہوں نے اس عزم کا بھی اظہار کیا ہے کہ وہ منی لانڈرنگ کیخلاف کریک ڈاؤن کرکے اس کا سدباب کریں گے۔ کیا وزیراعظم کی کوششیں کارگر ثابت ہوں گی‘ کیا وہ اپنے وعدے کو عملی جامہ پہنانے میں کامیاب ہو پائیں گے؟ پی ٹی آئی کی حکومت کو ایک سال کا عرصہ ہونے کو ہے‘ کیا اس عرصہ کے دوران وزیراعظم معیشت کی سمت درست کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں؟ وزیراعظم نے قومی اسمبلی کے فلور پر بتایا کہ پاکستانیوں کے 10ارب ڈالر باہر پڑے ہیں حالانکہ وزیراعظم بخوبی جانتے ہیں کہ باہر کے بینکوں سے پیسہ واپس لانا حکومت وقت کی ذمہ داری ہوتی ہے، حکومت اگر بیرونی بینکوں سے پاکستانی پیسہ واپس لانے میں کامیاب نہیں ہوئی تو کیا کوئی ایسا میکنزم بنانے میں کامیاب ہوئی ہے کہ جس کے ذریعے باہر کے بینکوں سے پیسہ واپس لانے میں آسانی ہو؟ منی لانڈرنگ کے سب سے مقبول طریقوں میں ہنڈی یا حوالے کے ذریعے بھاری رقم کی منتقلی ہے‘ جس میں بغیر کسی دستاویز کے پیسہ ایک جگہ سے دوسری جگہ پہنچایا جاتا ہے۔ حکومت اور مالیاتی اداروں کو اس منتقلی کا قطعی کوئی علم نہیں ہوتا‘ لیکن اندرون پاکستان کا معاملہ یکسر مختلف ہے کہ بے نامی اکاؤنٹس بینک منیجرز اور ڈائریکٹرز کی مرضی کے بغیر نہیںکھلتے‘ کروڑوں کی ٹرانزیکشن کا سٹیٹ بینک کو بھی علم ہوتا ہے‘ یوں ان معلومات سے فائدہ اٹھا کر کارروائی عمل میں لاکر منی لانڈرنگ کا سدِ باب کیا جا سکتا ہے۔ وزیراعظم نے قومی اسمبلی میں اپنے خطاب میں کہا کہ اس وقت ملک میں مشکل وقت ہے اور مشکل وقت کا بوجھ نچلے طبقے کو نہیں اُٹھانے دیں گے جبکہ دوسری طرف حکومت نے گیس وبجلی کی قیمتوں میں اضافے کا اعلان کردیا ہے‘ جس میں اگرچہ 300یونٹ والے صارفین‘ چھوٹے دکاندار‘ زرعی ٹیوب ویلوں کو مستثنیٰ قرار دیا گیا ہے لیکن تاریخ گواہ ہے کہ گیس وبجلی میں غریب طبقے کو شروع شروع میں تو رعایت دی جاتی ہے لیکن وقت گزرنے کیساتھ ساتھ تمام صارفین کیلئے یکساں نظام رائج کر دیا جاتا ہے‘ لہٰذا اس امر کو یقینی بنانے کی ضرورت ہے کہ 300یونٹ کے صارفین کو دی جانے والی رعایت وقتی اور عارضی نہ ہو۔ وزیراعظم کا سلیکٹیڈ کہنے پر مخالفین کو ڈکٹیٹر کی پیداوار قرار دینا اس بات کی عکاسی ہے کہ اپوزیشن کی جانب سے لفظ ’’سلیکٹیڈ‘‘ کا استعمال آنے والے دنوں میں نزاع کا باعث بن سکتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ دنیا بھر کے ایوانوں میں بحث کو مہذب رکھنے کیلئے غیرپارلیمانی جملوں اور الفاظ سے اجتناب کرنے کی ترغیب دی جاتی ہے‘ اگرچہ غیر پارلیمانی گفتگو کی کوئی ایک تعریف اور معیار نہیں مگر یہ اسمبلی کے اسپیکر کا استحقاق ہوتا ہے کہ وہ کسی لفظ کو غیرپارلیمانی قرار دیکر ایوان کی کارروائی سے حذف کر دے۔ تاہم غور طلب پہلو یہ ہے کہ ارباب اختیار مقدس ایوان میں ایک دوسرے کیلئے جو لب ولہجہ استعمال کر رہے ہیں کیا یہ محض حذف کر دینے سے یا اس لفظ کے استعمال پر پابندی عائد کر دینے سے ختم ہو جائے گا؟ ہم سمجھتے ہیں پی ٹی آئی کی حکومت اپوزیشن کو مطمئن کرنے کی بجائے ملک وقوم کے حقیقی مسائل کو سمجھے اور انہیں حل کرنے کی خلوص نیت کیساتھ کوشش کرے، یہی نجات کا ذریعہ ہے اور حکومت کے بقا کا راز بھی۔

متعلقہ خبریں