Daily Mashriq

افغان شائقین کا پاکستانی فینز پر دھاوا

افغان شائقین کا پاکستانی فینز پر دھاوا

پاک افغان سنسنی خیر میچ کے بعد افغانستان کی شکست کے بعد افغان تماشائیوں کی جانب سے فتح کا جشن منانے والے پاکستانیوں پر تشدد قابلِ مذمت ہے۔ اس واقعہ کے ضمن میں بظاہر یہ عذر پیش کیا جا رہا ہے کہ افغان تماشائی اپنی ٹیم کی شکست دیکھ کر طیش میں آگئے تھے لیکن حالات وواقعات سے بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ یہ سب ایک طے شدہ پلان کے تحت انجام دیا گیا۔ میچ شروع ہونے سے قبل بھی ایک نہتے پاکستانی پر متعدد افغانی پل پڑے تھے جسے سیکورٹی اہلکاروں اور دیگر لوگوں نے بمشکل بچایا تھا۔ یہ اس بات کا بین ثبوت ہے کہ پاک افغان میچ کے دوران تماشائیوں کے دوران ہاتھا پائی کوئی اتفاقی واقعہ نہیں تھا۔ کھیل تفریح کا اہم ذریعہ ہے جس سے لاکھوں شائقین محظوظ ہوتے ہیں لیکن ہمارے ہاں اس کھیل کو بھی میدان جنگ بنا دیا گیا ہے۔ پاک افغان کرکٹ میچ کے دوران شرپسندی کوئی معمولی واقعہ نہیں ہے۔ دونوں ممالک کے ارباب اختیار کیلئے غور کا مقام ہے کہ آخر وہ کیا وجوہات ہیں جن کی بنا پر تماشائی میچ سے لطف اندوز ہونے کی بجائے مرنے مارنے پر آمادہ ہوگئے۔ اگر واقعہ کے پس پردہ کوئی لوگ کارفرما تھے تو اُن عوامل کو بے نقاب کرنا بھی دونوں ممالک کی قیادتوں کا کام ہے۔ پاک افغان میچ کے دوران تماشائیوں کی ہنگامہ آرائی کیخلاف آئی سی سی نے نوٹس لے لیا ہے‘ یقیناً یہ خوش آئند امر ہے اور آئی سی سی کی کارروائی کے بعد میچ کے دوران اس طرح کی ہلڑ بازی کو روکا جا سکتا ہے۔ افغان قیادت کی یہ ذمہ داری بھی بنتی ہے کہ وہ اپنے شہریوں کو بتائے کہ افغانستان پر جب بھی کڑا وقت آیا اور اس کے شہری ہجرت پر مجبور ہوئے تو پاکستان نے نہ صرف یہ کہ اپنی سرحدوں کے دروازے کھول دئیے بلکہ دل وجان سے افغان شہریوں کو قبول کر کے اُن کی میزبانی کے فرائض بھی انجام دئیے۔ یاد رکھیں اگر اس نفرت کا سدِباب نہ کیا گیا تو آئندہ آنے والے وقتوں میں اس کے بھیانک نتائج سامنے آسکتے ہیں۔

اے این پی کے سرتاج خان کا اندوہناک قتل

پشاور میںگلبہار پولیس اسٹیشن کے قریب دن دیہاڑے اے این پی کے پشاور سٹی کے صدر سرتاج خان کو دو موٹر سائیکل سواروں نے فائرنگ کر کے موت کے گھاٹ اُتار دیا‘ مقتول سرتاج خان اے این پی کے دیرینہ کارکن تھے۔ وزیراعلیٰ محمود خان نے سرتاج خان کے قتل کا نوٹس لیتے ہوئے متعلقہ حکام کو ہدایت کی ہے کہ قتل میں ملوث افراد کو گرفتار کر کے قانون کے کٹہرے میں لایا جائے۔ حقیقت یہ ہے کہ پشاور ایسا شہر ہے جو سب سے زیادہ دہشتگردی سے متاثر ہوا ہے۔ ایک وقت ایسا بھی آیا جب پشاور دہشتگردوں کے نرغے میں تھا اور آئے روز بم دھماکے ہوتے تھے۔ نیشنل ایکشن پلان کے بعد اور سیکورٹی اداروں کی قربانیوں سے امن کی بحالی ہوئی تو ارباب حل وعقد نے کہنا شروع کر دیا کہ ’’ہم نے امن قائم کر دیا ہے‘‘ لیکن حکمرانوں کے قیام امن کے دعوؤں کے باوجود شہر میں دہشتگردی کے واقعات رونما ہو رہے ہیں‘ جس میں عام شہریوں سے لیکر اعلیٰ سیاسی قیادت کو نشانہ بنایا جاتا ہے۔ شہر میں ہونے والے قتل وغارت گردی کے پے درپے واقعات حکمرانوں کے قیام امن کے دعوؤں کی قلعی کھول رہے ہیں‘ یہ واقعات چیخ چیخ کر بتا رہے ہیں کہ امن کے سلسلے میں بہت سے اقدامات ایسے ہیں جو اُٹھانا باقی ہیں۔ ضروری معلوم ہوتا ہے کہ مقتول سرتاج خان کے قتل کی روایتی مذمت کے بجائے ٹھوس پیمانوں پر اقدامات اُٹھائے جائیں اور شہریوںکو تحفظ فراہم کرنے میں کوئی کسر اُٹھا نہ رکھی جائے‘ کیونکہ قیام امن سے ہی شہر کی حقیقی خوشیاں اور رونقیں بحال کی جا سکتی ہیں۔

مِڈٹرم الیکشن مسائل کا حل نہیں

مسائل حل کرنا اس حکومت کے بس کی بات نہیں‘ معیشت کو جو بیماری لگ چکی ہے اس کا علاج مڈٹرم انتخابات ہیں۔ یہ کہنا تھا قائد حزب اختلاف شہباز شریف کا۔ پی ٹی آئی نے جب سے حکومت سنبھالی ہے مسائل سنبھالنے کا نام نہیں لے رہے‘ بالخصوص معیشت کی صورتحال انتہائی ناگفتہ بہ ہے۔ ڈالر کی قیمت میں اضافے اور روپے کی قیمت میں کمی کی وجہ سے مہنگائی میں ہوش ربا اضافہ ہو چکا ہے۔ حکومت کو حالات میں سدھار اور بہتری کیلئے کم ازکم دو سال کا ٹائم چاہئے‘ اس تناظر میں اپوزیشن ہی عوام کی توجہ کا مرکز ہوتی ہے کہ وہ عوام کے حق میں کیا مؤقف اختیار کرتی ہے۔ اپوزیشن نے بھی حکومت کی طرح عوام کو مایوس کیا ہے۔ پہلے اے پی سی کے نام پر جس میں عوامی فلاح کے کوئی فیصلے نہیں کئے گئے اور اب مڈٹرم انتخابات کے نام پر۔ کیا مڈٹرم انتخابات مسئلے کا ٹھوس حل ہے؟

متعلقہ خبریں