Daily Mashriq

عہد کم ظرف کی من مانیاں‘ کرن اور جگنو

عہد کم ظرف کی من مانیاں‘ کرن اور جگنو

ابھی ہم اے پی سی کے حوالے سے اس مشہور روایتی لطیفے کے حوالے سے سوچ ہی رہے تھے یعنی کھایا پیا کچھ نہیں‘ گلاس توڑا ہے بارہ آنے کا۔۔ کہ صورتحال میں ایک اور ٹوسٹ (Twist) آگئی ہے اور اس ڈرامائی تبدیلی نے یہ کہنے پر مجبور کر دیا ہے کہ تری گٹھڑی کو لاگا چور اے‘ حالانکہ یہ کوئی انہونی بات نہیں ہے۔ ہماری سیاسی اقدار اس قسم کے شرمناک واقعات سے بھرے پڑے ہیں۔ یہی کارن ہے کہ سیاست میں بوٹا کریسی بھی پرانی روایت کے طور پر مستعمل ہے اور وہ جو غلام صمدانی مصحفیؔ نے کہا تھا کہ

مصحفیؔ ہم تو سمجھتے تھے کہ ہوگا کوئی زخم

ترے دل میں تو بہت کام رفو کا نکلا

یہ جو 25پنکچرز کے مقابلے میں 26پنکچرز بطور فارورڈ بلاک سامنے آیا ہے گویا نہلے پہ دہلا مارا گیا ہے۔ اس سے ملکی خصوصاً پنجاب کی سیاست میں ڈرامائی تبدیلی آئے گی اور میاں برادران کو ایک اور قاف لیگ کی طرز کے ’’پارٹی بغاوت‘‘ سے سابقہ پڑنے کے امکانات واضح اور روشن دکھائی دیں گے۔ ویسے خدا لگتی کہئے تو ملکی سطح پر اس قسم کی سیاسی بغاوت کو ہوئے بڑی مدت ہوئی تھی اور کوئی نہ کوئی نیا شوشا یا پھلجڑی پھوٹنے کی ’’ضرورت‘‘ بھی محسوس ہو رہی تھی۔ 2018ء کے انتخابات کے ہنگام جیپ سواروں کی ایک ’’ریلی‘‘ نکالنے اور من مرضی کے نتائج حاصل کرنے کے باوجود صورتحال بقول شخصے مقتدروں کی مرضی پوری طرح بروئے کار نہیں آرہی تھی اس لئے اگر سینیٹ کے چیئرمین کو ’’ٹھکانے‘‘ لگانے کے حوالے سے جواب آں غزل کے طور پر اس ’’بغاوت‘‘ کو دیکھا جائے تو اس میں عقل والوں کیلئے بہت سی نشانیاں پوشیدہ ملیں گی۔ ادھر آصف زرداری نے بھی خیبر پختونخوا میں اپنی جماعت کے ایک سینیٹر کے ’’پھسلنے‘‘ کی پیش گوئی کر دی ہے‘ گویا پیپلز پارٹی کو بھی ایک پنکچر کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ ویسے آصف زرداری ہے بڑا کائیاں جس نے دروازے کے باہر ’’کیلا‘‘ دیکھ کر اندازہ لگا لیا ہے کہ ’’ہائے او ربا‘ اج فیر پھسلنڑاں پوے گا؟‘‘ ویسے فی الحال وہ شکر کریں کہ ایک اور ’’پیٹریارٹ‘‘ گروپ کا سامنا نہیں ہے پیپلز پارٹی کو ماضی کی طرح ورنہ ممکن ہے انہیں منیر نیازی کے مشہور شعر کو حالات کے تقاضوں کے مطابق یوں تبدیل کرنا پڑتا کہ

اک اور جتھے کا سامنا تھا منیرؔ مجھ کو

میں ایک گروپ سے بچ کے نکلا تو میں نے دیکھا

ہمیں تو میاں برادران کی فکر کھائے جا رہی ہے جن کی ’’پگ‘‘ کو اچک لیا گیا ہے اور ساتھ ہی یہ خبر بھی ہے کہ جن لوگوں نے مبینہ طور پر میاں صاحبان کے ’’رویہ‘‘ سے تنگ آکر بغاوت کا علم بلند کیا ہے وہ تحریک انصاف میں شمولیت کیلئے پرتول رہے ہیں‘ حالانکہ آئینی طور پر ایسا ممکن ہے ہی نہیں کیونکہ اگر وہ لیگ (ن) کو چھوڑ کر کسی بھی دوسری جماعت میں جائیں گے تو انہیں اپنی نشستوں سے ہاتھ دھونا پڑے گا اور اراکین اسمبلی( خصوصاً پنجاب کے سیاسی) اتنا بڑا جوا کھیلنے کی ہمت یا غلطی جو بھی آپ سمجھ لیں نہیں کرسکتے یا ان میں اتنا حوصلہ نہیں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جنرل مشرف نے بھی ’’ضرورت ایجاد کی ماں‘‘ کے مقولے کے تحت پاکستان پیپلز پارٹی کے اندر سے پیٹریارٹ گروپ برآمد کرکے کام چلایا تھا اور لیگ (ن) کو قاف لیگ کا پیوند لگا کر میاں برادران کو بھی ٹھکانے لگایا تھا۔ اس لئے یا تو ایک بار پھر تاریخ اپنے آپ کو دہراتے ہوئے لیگ (ن) کے بطن سے ایک پیٹریاٹ طرز کے گروپ کی تخلیق کی جائے گی یا پھر فارورڈ بلاک کے نام سے فی الحال کام چلایا جائے گا اور مفادات کے کھیت میں نیا پاکستان کی حب الوطنی کے بیج بو کر مقاصد کی فصل حاصل کی جائے گی۔ اس ساری صورتحال کو ڈاکٹر اظہار اللہ اظہار کے شعری آئینے میں یوں دیکھا جاسکتا ہے کہ

شہر نابینا کی ہر راہ گزر پر اظہارؔ

عہد کم ظرف کی من مانیاں آباد رہیں

بات اے پی سی کے حوالے سے شروع کرتے ہوئے ہم نے مشہور روایتی لطیفے کا تذکرہ کیا تھا کہ کھایا پیا کچھ نہیں‘ گلاس توڑا ہے بارہ آنے کا‘ اور دیکھا جائے تو یہ گلاس جس میں پانی ’’بھی‘‘ پیا جاتا ہے اور انگریزی میں جسے (Tumbler) کہتے ہیں‘ توڑنے میں ’’مولانا‘‘ صاحب کا ہاتھ نظر آتا ہے جو اے پی سی کے انعقاد پر بضد نہ ہوتے تو شاید لیگ (ن) کی بظاہر مضبوط دیوار میں شگاف ڈالنے کی نوبت نہ آتی۔ اس لئے اب میاں صاحبان کو اس شگاف کو کیسے پر کرنا ہے یہ سوچنے کی بات ہے اور مسئلہ یہ ہے کہ اب وہ کئی برس پہلے کے اس نعرے کے سیمنٹ‘ سریا‘ ریت‘ بجری کے مسالے کو استعمال کرکے یہ فریاد بھی نہیں کرسکتے کہ ’’جاگ پنجابی جاگ‘ تری پگ نوں لگ گئی آگ‘‘ کہ پگ بھی پنجاب کی‘ آگ لگانے والے بھی پنجاب کے وزیراعلیٰ یعنی اس سارے معاملے کا کھرا عثمان بزدار کی طرف جاتا دکھائی دے رہا ہے۔ اب میاں صاحبان سیاست کے نئے سفر پر گامزن ہونے کے بارے میں ضرور سوچ رہے ہوں گے اور مولانا صاحب کی سیاسی فراست کس حد تک کام آئے گی یہ بھی ایک ملین ڈالر سوال ہے کہ اب تو اس سفر میں آگے اندھیروں کی حکمرانی دکھائی دیتی ہے تو پھر میاں برادران‘ مقبول عامر مرحوم کے اس شعر سے استفادہ کرتے نظر آئیں گے کہ

سفر پہ نکلیں مگر سمت کی خبر تو ملے

کوئی کرن‘ کوئی جگنو دکھائی دے تو چلیں

متعلقہ خبریں