Daily Mashriq

پھلوں کے بادشاہ کو خوش ’’آم‘‘ دید

پھلوں کے بادشاہ کو خوش ’’آم‘‘ دید

جیسے ہی گرمی کا مہینہ شروع ہوتا ہے پھلوں کے بادشاہ آم کا موسم شروع ہوجاتا ہے۔ پھلوں کے دلدادہ لوگوں کیلئے ایک دلچسپ اضافہ ہے۔ پھر کیا ہے ہر شخص‘ بچہ‘ بوڑھا‘ مرد وعورت اس موسم میں خوب آم کھاتے ہیں۔ ہمارے وطن میں آم کی سینکڑوں اقسام پائی جاتی ہیں ان میں مشہور لنگڑا‘ انور راٹھور‘ سندھڑی اور چونسا وغیرہ شامل ہیں۔ اکثریت آموں کا رنگ پیلا ہوتا ہے جس کی اپنی ہی کشش ہے لیکن لنگڑا آم وغیرہ کا رنگ سبز ہی ہوتا ہے کھانے سے پتہ لگتا ہے کہ یہ کتنا پکا ہوا اور مزیدار ہے۔ آموں کے اسی مزیدار ہونے کے بارے میں چچا غالب نے کہا تھا ’’آم ہوں مگر عام ہوں‘‘ یعنی بہت زیادہ آم ہوں کیونکہ کھل کے آم کھانے کا مزہ ہی کچھ اور ہے۔ آموں کے موسم میں نہ صرف لوگ خود آم کھاتے ہیں بلکہ اپنے دوست احباب کو تحفتہً دیتے بھی ہیں۔ عام آدمی بھی اپنے رشتہ داروں کو اوردوستوں کو بلا کر آم پارٹی کا اہتمام کرتے ہیں۔ لیکن بڑے لوگ یا خاص آدمی بھی آموں کی پارٹی کرتے ہیں۔ اس مینگو پارٹی (Mango Party) کے باقاعدہ دعوت نامے جاری کئے جاتے ہیں۔ موسم کی مناسبت سے کوریئر کمپنیاں بھی خاص پیکج کا اعلان کرتی ہیں کہ آپ اپنے پیاروں کو اس موسم میں سب سے بہترین اور میٹھا تحفہ دیکر ہمیشہ کیلئے دوستی یا رشتہ داری کو مضبوط کرسکتے ہیں۔ اس موسم کو ہمارے حکمران اور سیاستدان بھی پورا پورا انجوائے کرتے ہیں۔ کچھ بڑے لوگ آموں سے بھری پیٹیوں کی پیٹیاںاپنے دوست احباب کو بھیجتے ہیں۔ اسی طرح کا ایک تحفہ پاکستان کے ایک آمر کو C130 طیارہ میں سوار ہونے سے پہلے بھی دیا گیا تھا اور وہ آم اس خاص آدمی کیساتھ ہوا میں غائب ہوگئے۔ یہ تو اﷲ ہی جانتا ہے کہ یہ آموں پر الزام ہے یا حقیقت۔ آموں بارے اور بھی بہت سے مہاورے مشہور ہیں جیسے ’’ آم کے آم گٹھلیوں کے دام‘‘ اور ’’آپ آم کھائیں پیڑ مت گنیں‘‘ وغیرہ۔ اسی طرح ایک اور اچھی بات بھی مشہور ہے کہ پاکستان میں آم کی پیداوار سب سے زیادہ ہے اور سب سے مشہور بھی ہے۔عام تاثر یہ ہے کہ آم صرف میٹھا اور مزیدار پھل ہے اور بس جبکہ اس کی غذائیت کے بارے کبھی زیادہ لکھا اور کہا نہیں گیا۔ آج ہم آپ کو بتاتے ہیں کہ آم میں کتنی خوبیاں ہیں اور آپ یہ جان کر حیران ہو جائیں گے کہ آم سیب سے زیادہ فائدہ مند ہے۔ آم میں سیب سے زیادہ کیلوریز (طاقت) ہوتی ہے۔ اس میں وٹامن اے بی اور سی پایا جاتا ہے۔ آم کو کئی طریقوں سے استعمال کیا جا سکتا ہے، یہی وجہ ہے کہ آم ہر عمر کے لوگوں میں یکساں مقبول ہے۔ آم کو دودھ کیساتھ ملا کر یعنی ملک شیک بنا کر بھی استعمال کیا جاتا ہے اور کئی گھروں میں مائیں تو آم کی پڈنگ بھی بناکر بچوں کو دیتی ہیں۔ آم کا جوس، آم کو روٹی کیساتھ بھی کھایا جاتا ہے اور پڑھے لکھے لوگ اسے بریڈ میں رکھ کا صبح کے ناشتے میں کھاتے ہیں۔ اسے آئس کریم میں استعمال کرسکتے ہیں، مزے مزے کے کیک اور پیسٹریاں بنائی جاسکتی ہیں۔ کچے آموں کا اچار بھی ڈالاجاتا ہے اور سارا سال خوب مزے لے لیکر کھایا جاتا ہے۔ کھانے کے علاوہ آموں کی نمائشیں بھی ہوتی ہیں اور کسان ملک بھر سے آموں کے نمونے لاکر مختلف شہروں میں نمائش کرواتے ہیں۔ یہ نمائش حکومتی سطح پر بھی ہوتی ہے اور نجی سطح پر بھی۔ کسان اسے اُگاتے ہوئے بھی خوش ہوتے ہیں اور اسے بیجتے وقت بھی کیونکہ یہ ٹنوں کے حساب سے بکتا ہے۔ پاکستانی عام کی مٹھاس اور خوشبو اب بھی دنیا بھر کو بھاتی ہیں۔پھلوں کے بادشاہ کے مارکیٹ میں آنے کے بعد بھی یہ بات ہم اتنے وثوق سے نہیں کہہ سکتے کہ کسان کو اس میٹھی محنت کا پھل پورا ملے گا۔ پاکستان میں آم کی بہت سی اقسام ہیں اور ان میں کئی بہت اچھی ہیں لیکن یہاں بھی عوامی تاثر کے برعکس کہانی ہے۔ ہر پاکستانی یہ گردانتا ہے کہ ہمارا آم دنیا کا بہترین آم ہے مگر اس کی پیداوار‘ پروسیسنگ اور تجارت کے موجودہ طریقہ کار کی وجہ سے حقیقت اس سے کافی مختلف ہے۔ آم پاکستان کے صوبوں پنجاب اور سندھ میں پایا جاتا ہے اور مئی سے ستمبر کے مہینوں میں بکثرت ملتا ہے اس کی سالانہ مجموعی پیداوار ایک کروڑ پچاسی لاکھ ٹن ہے۔ لیکن فصلوں کی تباہی کا تناسب چالیس فیصد ہونے کے باعث کافی نقصان ہو جاتا ہے۔ حیرانی کی بات ہے کہ ان اچھے آموں میں سے کل پیداوار کا صرف پانچ فیصد برآمد کیا جاسکتا ہے کیونکہ آم کی زیادہ تر قسمیں بہت جلد خراب ہوجاتی ہیں یا یوں کہا جائے کہ اسے ایکسپورٹ کرنے کیلئے جتنا وقت درکار ہے اتنے وقت تک یہ پھل خراب ہو جاتا ہے۔آم بنیادی طور پر انڈوپاک کا پھل ہے لیکن صدی سے زائد عرصہ قبل یہ دنیا بھر میں چلا گیا اور اب تقریباً تمام براعظموں میں اُگایا جاتا ہے۔ دنیا کے 90ممالک میں آم کی فصل ہوتی ہے لیکن دنیا میں دو تہائی آم ایشیا ہی میں پیدا ہوتا ہے تاہم اب بھی پاکستان کے آم کا اپنا ہی مزہ ہے اسی لئے ہر سال بھاری مقدار میں برآمد کیا جاتا ہے۔ پاکستان کو سالانہ آم کی برآمد سے پانچ کروڑ ڈالر کا زرمبادلہ ملتا ہے۔ پاکستان کے آم کی مانگ کو بڑھانے کیلئے اٹلی نے کئی اقدامات کئے اور 2008ء میں اٹلی کے شہر روم اور ملتان کو ’’سسٹر سٹی‘‘ قرار دیا گیا۔ اٹلی اور آسٹریلیا کے علاوہ امریکہ نے بھی ہمارے آم کی پیداواری صلاحیت بڑھانے کیلئے کئی اقدامات کئے ہیں۔

متعلقہ خبریں