Daily Mashriq

کرکٹ بائی چانس

کرکٹ بائی چانس

پاکستان کی کرکٹ ٹیم کے حوالے سے کوئی پیشن گوئی کرنا ہمیشہ سے بڑا مشکل رہا ہے اس کے بارے میں کوئی حتمی رائے نہیں دی جاسکتی آپ اس سے اندازہ لگا سکتے ہیں کہ اس نے حالیہ ورلڈ کپ میں نیوزی لینڈ جیسی ٹیم کو شکست سے دوچار کر دیا جس نے ابھی تک اس ٹورنامنٹ میں کوئی میچ نہیں ہارا تھا اور پھر افغانستان جیسی ٹیم سے ہارتے ہارتے بچی جس نے اس ورلڈ کپ میں ابھی تک کوئی میچ نہیں جیتا۔ دراصل اس قسم کے تبصرے کرتے ہوئے ہم سے کچھ غلطیاں بھی سرزد ہوجاتی ہیں ہم کچھ ایسے نکات بھی نظرانداز کردیتے ہیں جن پر ضرور بات ہونی چاہئے۔ اب افغانستان کی ٹیم کی کارکردگی کے حوالے سے یہ تو کہا جاتا ہے کہ اس نے ابھی تک اس ورلڈکپ میں کوئی میچ نہیں جیتا اور یہ انتہائی کمزور ٹیم ہے لیکن اس پر غور کرنے کی زحمت گوارا نہیں کی کہ اس نے اپنے آخری تین میچوں میں شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے۔ وہ جیت کے قریب پہنچ کر ہارتی رہی ہے اس نے انڈیا جیسی ٹیم کو بڑی مشکل سے میچ جیتنے دیا اور پھر یہ بھی ذہن میں رکھنا چاہئے کہ جو بھی ٹیم ورلڈکپ کیلئے کوالیفائی کرتی ہے وہ کوئی معمولی ٹیم نہیں ہوتی اور پھر افغانستان کی کرکٹ ٹیم نے تو ساری کرکٹ پشاور ہی میں کھیلی ہے اور یہیں سے سیکھ کر آگے گئے ہیں! اگر ہم افغانستان کی ٹیم کو کم درجے کی ٹیم نہ سمجھیں تو کل کے میچ پر کئے گئے تبصرے بڑی حد تک تبدیل ہو سکتے ہیں یہ جو کہا جا رہا ہے کہ پاکستانی ٹیم ایک جیتے ہوئے میچ کو اپنے لئے مشکل ترین میچ میں تبدیل کردیتی ہے اور بسا اوقات ایک جیتا ہوا میچ ان کے ہاتھ سے نکل جاتا ہے۔ یقینا اس بات میں ایک جزوی صداقت تو بہرحال ضرور موجود ہے لیکن اگر ہم یہ مان لیں کہ افغانستان کے پاس دنیا کے بہترین سپنر اور بیٹسمین ہیں تو اس میں کوئی مبالغہ نہیں ہوگا، انہوں نے پاکستان کی اوپننگ جوڑی کو کامیاب نہیں ہونے دیا اور فخر زمان کو زیرو پر واپس پیویلین بھجوانے میں کامیاب رہی! اور یہ کوئی نئی بات بھی نہیں ہے کرکٹ کی تاریخ میں اس طرح کئی بار ہوا ہے کہ شروع کے بیٹسمین اچھی کارکردگی کا مظاہرہ نہ کرسکے تو بعد میں آنے والے بیٹسمینوں (ٹیل اینڈرز) نے بڑا سکور کرتے ہوئے اپنی ٹیم کو جیت سے ہمکنار کر دیا۔ پاکستان اور افغانستان کے اس میچ میں بھی یہی کچھ ہوا شروع کے بیٹسمین اچھی بیٹنگ نہ کر سکے تو آخر میں حماد وسیم وکٹ پر کھڑے ہوگئے اور اس طرح کھیل کی کایا ہی پلٹ دی۔ حماد وسیم کیساتھ دوسرے کھلاڑیوں نے بھی بھرپور ساتھ دیا خاص طور پر آپ وہاب ریاض کے قیمتی چھکے کو کسی طور بھی نظرانداز نہیں کرسکتے یہی وہ چھکا تھا جس نے ہماری ٹیم کو اپنے ہدف تک پہنچنے میں مدد دی! اسی طرح شاہین آفریدی نے بھی شاندار باؤلنگ کا مظاہرہ کرتے ہوئے افغانستان کے بہترین بلے بازوں کو آؤٹ کیا۔ اگر کھیل کو صرف کھیل تک محدود رکھا جائے تو اس سے صحیح طور پر لطف اندوز ہوا جاسکتا ہے، اب اس وقت جو بات ہمارے لئے سب سے اہم ہے وہ یہ ہے کہ پاکستان کا خواب ابھی تک نہیں ٹوٹا، افغانستان کو ایک سخت مقابلے کے بعد ہمارے کھلاڑیوں نے یقینا بہت کچھ سیکھا ہے۔ مثلاً اپنی مخالف ٹیم کو کبھی بھی کمزور نہیں سمجھنا چاہئے اور دل وجاں کی تمام توانائیوں کیساتھ کسی بھی ٹیم کا ڈٹ کر مقابلہ کرنا چاہئے۔ یہ جو کہا جاتا ہے کہ فٹ بال بائی پاور، ہاکی بائی ٹرک اور کرکٹ بائی چانس ہے تو یقینا اس مقولے میں بھی بڑا وزن ہے کرکٹ کی تاریخ اس قسم کے واقعات سے بھری پڑی ہے کہ بڑی اچھی ٹیم صرف ایک چانس نہ ملنے یا اسے کھو دینے کی وجہ سے اپنے سے کمزور ٹیم سے ہار جاتی ہے۔ کپتان کی حیثیت کسی بھی ٹیم میں اہم ہوتی ہے افغانستان کی ہار میں یقینا ان کے کپتان کا عمل دخل بہت زیادہ ہے وہ اپنے بہترین سپنرز سے کوئی کام نہ لے سکے جب بال سپن ہورہی ہے اور کھلاڑی آؤٹ بھی ہورہے ہیں تو پھر اپنے سپنرز کو زیادہ سے زیادہ اوورز دینے چاہئے تھے، افغانی ٹیم کے پانچ اوورز بچ گئے اگر یہ پانچ اوورز بھی سپنرز نے کئے ہوتے تو میچ کا پانسہ پلٹ سکتا تھا اس کے علاوہ کپتان کو آخری اوور خود نہیں کروانا چاہئے تھا! اس حقیقت کو سمجھنا چاہئے کہ وقت تیزی سے تبدیل ہوتا رہتا ہے اور اس کیساتھ ساتھ چیزیں بھی بدلتی چلی جاتی ہیں۔ ایک زمانہ تھا جب دنیائے کرکٹ پر ویسٹ انڈیز (جسے کالی آندھی کہا جاتا تھا) آسٹریلیا، پاکستان اور انڈیا کی حکمرانی تھی لیکن پھر وقت بدلتا چلا گیا اور ویسٹ انڈیز کی ٹیم کمزور سے کمزور تر ہوتی چلی گئی۔ اسی طرح عمران خان، جاوید میاں داد، ماجد خان، وسیم اکرم، وقار یونس، شاہد آفریدی، یونس خان، انضمام الحق، سعید انور، محمد یوسف اور دوسرے بہت سے اچھے کھلاڑیوں کی رخصتی کے بعد پاکستان بھی وہ پہلے والا پاکستان نہ رہا ہمیں آج کے تناظر میں ہر ٹیم کو دیکھنا ہوگا! اب اس وقت ہماری ٹیم کو ایک اور دریا کا سامنا ہے اور اس دریا کو دنیا بنگلہ دیش کے نام سے جانتی ہے۔ سرفراز اینڈ کمپنی کیلئے یہ بہت ضروری ہے کہ وہ اپنے آپ کو یاد دلاتے رہیں کہ بنگلہ دیش کی ٹیم اب وہ پہلے والی ٹیم نہیں رہی، پچھلے چند برسوں میں اپنی محنت اور ٹیم ورک کے بل بوتے پر وہ بڑی اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کر رہی ہے۔ پاکستانی ٹیم کو بنگلہ دیش کیخلاف اپنی بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرنا ہوگا اور اس میچ کو فائنل سمجھ کر کھیلنا ہوگا۔ اس میچ کی اہمیت اس حوالے سے بھی بڑی اہم ہے کہ اس میچ کو جیتنے کے بعد ہی پاکستان کی ٹیم سیمی فائنل کھیلنے کا اعزاز حاصل کرسکتی ہے!

متعلقہ خبریں