Daily Mashriq

ایپل کی ملازمت چھوڑ کر نئی کمپنی بنانے والے نے ایپل کو ہی خریدار بنا دیا

ایپل کی ملازمت چھوڑ کر نئی کمپنی بنانے والے نے ایپل کو ہی خریدار بنا دیا

اسمارٹ موبائل اور کمپیوٹر آلات بنانے والی دنیا کی بڑی کمپنیوں میں شمار ہونے والی امریکی کمپنی ’ایپل‘ کے ملازم نے ملازمت چھوڑ کر نئی کمپنی بناتے ہی سب سے پہلے ایپل کو خریدار بنا دیا۔

جی ہاں، ایپل میں کم سے کم 27 سال تک ملازمت کرنے والے ڈزانئر سر جوناتھن پال جنہیں جونی ایو کے نام سے جانا جاتا ہے نے کمپنی سے علحیدگی اختیار کرلی۔

’ایپل‘ نے اپنے ایک بیان میں ڈزائنر جونی ایو کی علحیدگی کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ وہ رواں برس کے آخر تک کمپنی سے الگ ہوجائیں گے۔

جونی ایو کی ایپل سے علیحدگی کو امریکی کمپنی کے زوال کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ جونی ایو نے اگرچہ تاحال مکمل طور پر ایپل سے علیحدگی اختیار نہیں کی اور نہ ہی ابھی اپنی نئی ڈزائن کمپنی کا آغاز کیا ہے، تاہم پہلے ہی ایپل ان کی خریدار بن گئی ہے۔

ایپل نے اپنے بیان میں اس بات کی تصدیق کی کہ جونی ایو اگرچہ کمپنی سے الگ ہو رہے ہیں، تاہم ایپل ان کی نئی کمپنی کی سب سے پہلی اور بڑی خریدار بنے گی۔

ایپل کے سربراہ ٹم کک نے جونی ایو کی خدمات کو سراہتے ہوئے اس عزم کا اعادہ کیا کہ ان کی کمپنی ڈزائنر کی نئی کمپنی کے ساتھ مل کر کام کرے گی۔

جونی ایو نے بھی ایپل کا شکریہ ادا کیا، ساتھ ہی اپنی ٹیم کا بھی شکریہ ادا کیا اور اس بات پر اطمینان کا اظہار کیا کہ وہ کمپنی سے الگ ہوجانے کے باوجود ایپل کے ساتھ مل کر کام کریں گے۔

خیال رہے کہ جونی ایو نے 1992 میں اس وقت ایپل میں ہیڈ ڈیزائنر کے طور پر شرکت کی تھی جب کمپنی مالی خسارے کا شکار تھی اور کمپنی نے کئی ملازمین کو فارغ کردیا تھا۔

ازاں جونی ایو کی جانب سے 1998 میں ایپل کے پہلے آئی میک کا اچھوتا ڈیزائن تیار کرنے اور اسے فروخت کرنے کے لیے پیش کیے جانے کے بعد کمپنی کی کمائی میں اضافہ دیکھنے میں آیا۔

جونی ایو نے نہ صرف ایپل کا آئی میک بلکہ آئی پوڈ، آئی فون، آئی پیڈ، ایپل پارک اور ٹی وی اور واچ سمیت تقریبا ایپل کی تمام مشہور مصنوعات کے ڈیزائن تیار کیے یا ان کی نگرانی میں کام کرنے والی ٹیم نے ان کے ڈیزائن تیار کیے۔

جونی ایو نے خالصتا تنہا آئی میک، آئی پوڈ، آئی فون اور آئی پیڈ کے ڈیزائن تیار کیے اور ان ہی کے اچھوتے ڈیزائن کی وجہ سے ایپل کی کمائی میں کئی گنا اضافہ ہوا اور کمپنی دنیا کی بڑی کمپنیوں میں سے ایک بن گئی۔

ایپل کئی سال تک اسمارٹ فون بنانے والی دنیا کی پہلی کمپنی بھی رہی، تاہم بعد ازاں سام سنگ اسمارٹ فون بنانے میں اس سے بازی لی گئی۔

اب اگرچہ سام سنگ اسمارٹ فون تیار کرنے میں ایپل سے آگے ہے، تاہم ایپل کے آئی فون کا کوئی ثانی نہیں۔

ایپل اور سام سنگ کے مقابلے میں چینی کمپنی ہواوے ہے جو اس وقت دنیا کی تیسری بڑی کمپنی کا درجہ رکھتی ہے، تاہم گزشتہ کچھ عرصے سے ہواوے پر امریکی پابندیوں کی وجہ سے اسے کافی نقصان پہنچا ہے۔

متعلقہ خبریں