Daily Mashriq

صدر مملکت نے فنانس بل 20-2019 پر دستخط کردیے

صدر مملکت نے فنانس بل 20-2019 پر دستخط کردیے

نئے مالی سال کا آغاز آج سے ہوگیا اور صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے فنانس بل 20-2019 پر دستخط کردیے۔

ریڈیو پاکستان کی رپورٹ کے مطابق قومی اسمبلی سے منظوری کے بعد فنانس بل کو ایوان صدر بھیجا گیا، جہاں صدر نے اس کی منظوری دی۔

صدر مملکت کے اس دستخط کے بعد فنانس بل 2019 کا اطلاق ہوگیا۔

دوسری جانب ڈان نیوز ٹی وی نے رپورٹ کیا کہ ملک میں نئے مالی سال کے دوران 1100 ارب روپے کے اضافی ٹیکسز نافذ ہوں گے۔

نئے مالی سال میں فائلر اور نان فائلر کا فرق ختم ہوگیا جبکہ وفاقی حکومت کو حاصل ٹیکس چھوٹ کا اخیار بھی ختم ہوگیا ہے۔

اس نئے مالی سال میں بجلی، گیس، چینی، ایل پی جی، سیگریٹ، سیمنٹ کی قیمتوں میں اضافہ ہوگا جبکہ جائیدادیں بھی مہنگی ہوجائیں گی۔

یاد رہے کہ 12 جون 2019 کو پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی حکومت نے اپنا پہلا مکمل بجٹ پیش کیا تھا، جس میں ٹیکس وصولیوں کا تخمینہ 55سو ارب روپے رکھا گیا تھا۔

اس بجٹ میں مختلف اشیا خورونوش پر ٹیکسز میں اضافہ کیا گیا تھا جبکہ دفاعی بجٹ میں کوئی اضافہ نہیں کیا گیا تھا اور اسے 1152 ارب روپے پر برقرار رکھا گیا تھا۔

بعد ازاں حکومت کی جانب سے پیش کیے گئے بجٹ کو بحث کے لیے قومی اسمبلی میں پیش کیا گیا تھا، جہاں اپوزیشن نے اس بجٹ پر سخت تنقید کرتے ہوئے اسے مسترد کردیا تھا۔

اسی بجٹ کو منظوری سے روکنے کی حکمت عملی کے لیے اپوزیشن جماعتوں کی آل پارٹیز کانفرنس بھی ہوئی تھی۔ تاہم 28 جون کو قوم اسمبلی نے چند تکنیکی ترامیم کے ساتھ آ مالی سال 20-2019 کے بجٹ کو باقاعدہ منظور کرلیا تھا۔

بجٹ کی منظوری کے لیے ایوان میں شق وار ووٹنگ ہوئی تھی، فنانس بل کی حمایت میں 178 اور مخالفت میں 147 ووٹ آئے تھے، جس کے بعد بل صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کے دستخط کے لیے بھیجا گیا تھا۔

متعلقہ خبریں