احتساب کا عمل جاری رہنا چاہیئے

احتساب کا عمل جاری رہنا چاہیئے

بد عنوانی اور کرپشن کے خلاف واویلا مچانے والی جماعت پاکستان تحریک انصاف کے چیئر مین عمران خان کیخلاف غیرقانونی اثاثوں اور ٹیکس چوری کے حوالے سے مقدمہ عدالت عظمیٰ میں زیر سماعت ہے ۔ چار دہائیوں سے اقتدار کے سنگھاسن پر براجمان وزیر اعظم محمد نواز شریف اوران کا اہل خاندان مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کے سامنے پیش ہو کر اپنی دولت وامارت اور اثاثہ جات کاحساب دینے کی سعی میں ہے ۔ وزیر اعظم کے خاندان اور تحریک انصاف کے چیئر مین کے اثاثہ جات ٹیکسوں اور جائیداد کے حوالے سے عدالت اور متعلقہ فورمز سے کیا فیصلہ اور نتیجہ سامنے آتا ہے اس پر اصولی طور پر بحث مناسب نہیں عدالت تحقیقاتی ٹیم اور الیکشن کمیشن سے جو بھی فیصلہ اور نتیجہ سامنے آئے وہ قوم کے سامنے ضرور آئے گا ۔ان فیصلوں کے ملکی سیاست پر کیا اثرات مرتب ہوں گے اس سے قطع نظر وطن عزیز پاکستان میں اب بد عنوانی، اختیارات کے ناجائز استعمال اور ناقابل احتساب ہونے کا تاثر بدلنے لگا ہے۔ ان مقدمات کا فیصلہ چاہے کسی کے حق میں آتا ہے یا خلاف اس سے کس کی حکومت کس کی شخصیت اور کس کا کردار متاثر ہوتا ہے اس سے قطع نظر اگر دیکھا جائے تو منظر نامے کا ایک مثبت اور حوصلہ افزاء پہلو یہ ہے کہ پاکستان میں اب حالات تبدیل ہو چکے ہیں یا تبدیل ہو رہے ہیں ۔اگر دیکھا جائے تو اس کی ابتداء پیپلز پارٹی کے دور حکومت میں پارٹی کے شریک چیئر مین اور صدر پاکستان آصف علی زرداری کی دولت و اثا ثہ جات کے حوالے سے عدالت میں جو معاملات سامنے آئے اور سوئس حکام کو خط لکھنے سے انکار پر ملک کے وزیر اعظم کو گھر جانا پڑا اس کے بعد سابق صدر اور سبکدوش آرمی چیف جنرل (ر) پرویز مشرف کو جس طرح کٹہرے میں لایا گیا ایک دہائی قبل اس کا تصور بھی نہیںکیا جا سکتا تھا ۔ اب وزیر اعظم کے صاحبزادوں سے جس طرح ایک تحقیقاتی ٹیم پوچھ گچھ کر رہی ہے کچھ عرصہ قبل تک یہ ایک خواب ہی تھا ۔ مگر اب یقینا اور واقعتا ایسا ہو رہا ہے ۔ تحریک انصاف کے چیئر مین عمران خان کی بھی اپنی جگہ سیاسی و سماجی حیثیت مسلمہ ہے ملک میں احتساب کا ماحول نہ ہوتا تو آج ان کی بھی عدالتوں میںحاضری مشکل ہوتی اس ساری صورتحال میں تو یہ ایک ابتداء ہی لگتی ہے ایک ایسی بنیا د جس پر آگے چل کر ایک موثر احتساب کی عمارت کھڑی ہو سکتی ہے ۔ گو کہ وطن عزیز میں کبھی احتساب بیورو کبھی نیب اور اس جیسے ادارے میں مساعی قبل ازیں کی حکومتوں میں ناپید نہ تھی لیکن موجودہ اور سابقہ ادوار کے احتساب میں ایک بڑا فرق یہ ہے کہ سابق ادوار میں احتساب سیاسی مخالفین ہی کا ہوتا رہا اور پھر سیاسی راستے بھی نکل آئے اس دور میں بھی ایک دو بڑی واضح مثالیں راستہ دینے کی نظر آتی ہیں لیکن بہر حال شاید معاملات کا اس طرح سے چلنا اور آگے بڑھتے بڑھتے منزل کے قریب ہوتے جانا ہی ارتقا ء کی فطرت ہے ۔ گو کہ اس وقت ملک میں احتساب کی فضا بڑی خوشگوار اور مضبوط محسوس ہوتی ہے لیکن اس کے غبارے سے کسی بھی وقت ہوا کے نکلنے اور معاملت و معاملات کے سر د پڑجانے کا امکان موجود ہے اگر چہ جے آئی ٹی وزیر اعظم کے صاحبزادوں کو دو تین کے عدالتی فیصلے کی مانند رپورٹ پیش کرتی ہے اور عمران خان کے خلاف عدالت میں کچھ ثابت نہیں ہوتا تو اس غبارے میں پھر جان باقی نہیں رہے گی بہرحال یہ ایک ممکنہ صورتحال کی امکانی تصویر تھی ہمارے تئیں کسی خاندان اور کسی فرد کے احتساب تک احتساب کا عمل محدود نہیں ہونا چاہیئے اس عمل کو آگے بڑھنا چاہیئے ۔ سیاستدانوں اور اہل ثروت افراد کا احتساب خاص طور پر ہونے کی ضرورت ہے کیونکہ ان عناصر نے کہیں نہ کہیں کسی نہ کسی جگہ کوئی نہ کوئی ایسی سرگرمی ضرور کی ہوگی جو کاروبار اور صنعت میں ہر پاکستانی شہری کو میسر نہیں۔ موجودہ صورتحال میں حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے اس قول کے صادق ہونے میں کالام کی گنجائش نہیں جنہوں نے اس وقت فرما یا تھا جب کاروبار وصنعت کی اس قدر وسعت پذیری کا تصور کم ہی تھا آپ کا قول تھا کہ ہر بڑے کاروبار کے پس پشت کسی نہ کسی دور میں بد عنوانی اور اختیارات کا غلط استعمال ضرور ہوا کرتا ہے ۔ آج دیکھا جائے تو اس قول کا اطلاق بڑے بڑے کاروبارپر ہی نہیں چھوٹے اور اوسط درج کے کاروبار میں بھی ایسی سرگرمی کا سراغ نکل آتا ہے جس کے بل بوتے پر کاروبار شروع کیا گیا ہوتا ہے یا پھر اسے وسعت دی جاتی ہے ۔ وطن عزیز میں اگر احتساب کا باب وزیر اعظم کے خاندان یا عمران خان پر بند ہو گا تو یہ ہماری بڑی بد قسمتی ہوگی اس عمل کا دائرہ کار بڑے بڑے سیاستدانوںصنعت کاروں اور ہر قسم کے کاروبار سے منسلک افراد تک اور ہر سطح تک بڑھا یا جانا چاہیئے یہاں تک کہ سرکاری ملازمین کی بھی مانیٹرنگ ہونی چاہیئے کہ کون اپنی مالی حیثیت سے بڑھ کر زندگی گزارتا ہے اور اس کا اضافی ذریعہ آمدن کیا ہے ۔ احتساب اور کرپشن کی مکمل روک تھام ہی اس ملک کی دولت کی لوٹ مار کی روک تھام کا باعث بن سکتاہے۔ سرمایہ کاری و صنعتوں کے فروغ کا باعث بن سکتا ہے بیرونی سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی بھی شفافیت ہی کو یقینی بنا کر ممکن ہوگی۔

اداریہ