Daily Mashriq


لوڈشیڈنگ' تصویر کا دوسرا رخ

لوڈشیڈنگ' تصویر کا دوسرا رخ

خیبر پختونخوا کو مرکز کی جانب سے کوٹہ کے مطابق بجلی کی عدم فراہمی اور صوبے میں بے تحاشا لوڈشیڈنگ کے خلاف عوام کا اس قدر اشتعال میں آناکہ جان سے ہاتھ دھو بیٹھنے کی نوبت آجائے اپنی جگہ قابل توجہ ضرور ہے لیکن تصویر کا جو دوسرا رخ وفاقی حکومت کے ذمہ دار نمائندے پیش کرتے ہیں اس سے بھی صرف نظر ممکن نہیں۔ وزیر مملکت پانی و بجلی عابد شیر علی نے کہا ہے جو اراکین پارلیمنٹ بجلی کی لوڈشیڈنگ کے حوالے سے جلسے جلوس کی قیادت کرتے ہیں وہ عوام میں بجلی چوری کے خلاف مہم چلائیں اورلوگوں کوقانونی طریقے سے بجلی لگانے کاکہیں ۔انہوں نے کہاکہ خیبر پختونخواکے کچھ علاقوں میں بجلی چوری کارجحان زیادہ ہے جویہ کہتے ہیں کہ خیبرپختونخوا میں بجلی کی لوڈشیڈنگ زیادہ ہے ان کو بجلی چوری کی طرف زیادہ توجہ دینی چاہئے اور عوام میں اس حوالے سے مہم چلانی چاہئے کہ بجلی کا استعمال قانونی طرقہ سے میٹر لگا کرکیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ جن علاقوں میں بجلی چوری ہوتی رہے گی گردشی قرضے میں اضافہ ہوگا حکومت مزید گردشی قرضے برداشت نہیں کرے گی وزیرمملکت نے کہاخیبر پختونخواکی حکومت وزارت پانی و بجلی پر بے جا تنقیدکررہی ہے ۔ خیبرپختونخوا کی حکومت نے گزشتہ چار سالوں میں چکدرہ گرڈ سٹیشن کے لئے جگہ فراہم نہیں کی اب چارسالوں کے بعد جگہ فراہم کی جارہی ہے وفاقی حکومت نے چکدرہ گرڈسٹیشن کیلئے 54 کروڑ روپے رکھے ہیں جگہ دینے میں ناکامی وزارت پرنہ ڈالی جائے ۔وزیر مملکت بجلی و پانی نے صوبائی حکومت پر چکدرہ گرڈ سٹیشن کے لئے اراضی کی فراہمی میں ناکامی کی جو ذمہ داری ڈالی ہے یہ پہلی مرتبہ نہیں بلکہ قبل ازیں بھی اس کی نشاندہی کی جاتی رہی ہے لیکن نا معلوم وجوہ کی بناء پر صوبائی حکومت اس ذمہ داری کی انجام دہی میں ناکام رہی۔ بجلی کی پیداوار میں اضافہ زیادہ مسئلہ نہیں بلکہ لوڈشیڈنگ کی حقیقی وجہ ٹرانسمیشن لائن کی بوسیدگی اور برقی رو کی ترسیل کے انتظام کا ناکارہ ہوجانا ہے۔ اگر کسی علاقے میں گرڈ سٹیشن ہی تعمیر نہ ہو تو علاقے کو بجلی کیسے مہیا کی جاسکتی ہے ۔ جو لوگ لوڈشیڈنگ کے خلاف مظاہرہ کر رہے ہیں ان کو اس طرح کے معاملات پر صوبائی حکومت کو بھی اس کی ذمہ داریاں یاد دلائیں تو موزوں ہوگا۔ بجلی کی لوڈشیڈنگ کوئی سیاسی مسئلہ نہیں اور نہ ہی اسے الزام تراشی کا ذریعہ بنانا مناسب ہے۔ اس عوامی مسئلے کے حل کے لئے وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو اپنے اپنے دائرہ کار میں اپنی ذمہ داریوں کی انجام دہی میں دیانتداری اور بروقت اقدامات کرنے کی ضرورت کا احساس ہونا چاہئے تاکہ عوام کو جتنا ممکن ہوسکے لوڈشیڈنگ کے عذاب سے بچایا جاسکے۔

سگریٹ نوشی کے خلاف اجتماعی معاشرتی مہم کی ضرورت

ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان میں ہر سال ساڑھے پانچ لاکھ افراد تمباکو نوشی سے متا ثر ہو رہے ہیں جبکہ دنیا بھر میں ہر سال ایک لاکھ سے زائد افراد تمباکو نوشی کے باعث اپنی زندگی کا چراغ گل کر دیتے ہیں۔ایک غیر سرکاری تنظیم کی جانب سے صوبائی ووفاقی حکومتوں سے مطالبہ کیا کہ سگریٹ کی ڈبیوں کے 85 فیصد حصے پر صحت سے متعلق تصویری انتباہ فوری نافذ کیا جائے تاکہ تمباکو نوشی پرکسی حد تک قابو پایاجا سکے۔ایک موزوں اور قابل عمل تجویز ہے۔ ان کا مطالبہ ہے کہ گٹکے اور نسوار پھر بھی پابندی عائد کی جائے تاکہ ملک میں منہ کے بڑھتے کینسر پر قابوپایا جائے اور عوامی مقامات پر پابندی کو یقینی بنایاجائے۔امر واقع یہ ہے کہ سگریٹ نوشی کی روک تھام کے لئے جو کردار والدین' اساتذہ ' میڈیا اور معاشرے کو اداکرنا چاہئے اس کا فقدان ہے۔ عام مشاہدے کی بات ہے کہ چھوٹے چھوٹے لڑکے اور نوجوان سگریٹ نوشی کی بری عادت میں مبتلا ہیں۔ اصولی طور پر ان کو سگریٹ کی فروخت نہیں اور کسی دکاندار کو اٹھارہ سال سے کم عمر کے بچوں کو سگریٹ فروخت نہیں کرنی چاہئے مگر یہاں سگریٹ تو کیا چرس' شراب' آئس اور ہر قسم کی نشہ آور اشیاء بہ آسانی دستیاب ہیں۔ با آسانی دستیابی کسی نشے میں اضافے اور اس کے عام ہونے کی ایک بڑی وجہ ہے۔ پبلک مقامات پر قانونی طور پر سگریٹ نوشی کی ممانعت ضرور ہے لیکن اس قانون پر عملدرآمد کون کرائے کیسے کرائے اور سر عام بسوں ' پارکوں اور عوامی مقامات پر سگریٹ پینے والوں کو کون روکے کسی کو اس سے غرض نہیں۔ اگر ہمیں اس لعنت کی روک تھام کرنی ہے تو پھر سگریٹ کی ڈبیوں پر اس کے مضر اثرات کی تشہیر کافی نہیں بلکہ اس کاعام زندگی یہاں تک کہ ڈراموں اور فلموں میں بھی اس کے استعمال کی نمائش پر پابندی لگائی جائے۔ والدین اپنے بچوں سکولوں' کالجوں اور یونیورسٹیوں میں اساتذہ اپنے شاگردوں کو اس مضر صحت سے بچنے کی برابر تلقین بھی کریں اور ان پر نظر بھی رکھیں۔ حکومت کو سگریٹ کی فروخت اور سگریٹ نوشی کی ممانعت کے حوالے سے قوانین پر عملدرآمد کی ذمہ داری سختی سے نبھانے کو یقینی بنانا چاہئے۔ جب تک اس فعل کو معاشرے میں برا خیال نہیں کیا جائے گا اور اس کی مجموعی طور پر مذمت نہیں کی جائے گی اس لعنت کی روک تھام ممکن نہیں۔

متعلقہ خبریں