Daily Mashriq


بجلی کی لوڈشیڈنگ اور ہم عوام

بجلی کی لوڈشیڈنگ اور ہم عوام

ہر گرمی کے موسم میں بجلی کی لوڈشیڈنگ کے خلاف احتجاج ہوتے ہیں۔ گرمی کے موسم میں عام لوگوں کی بجلی کے پنکھے چلانے کے لیے بجلی کی ضرورت میں اضافہ ہو جاتا ہے۔ سپلائی کم پڑ جاتی ہے۔ اور ہم لوگ احتجاج کے لیے سڑکوں پر نکل آتے ہیں۔ پولیس اور امن وامان کے ذمہ دار اداروں کو بلا لیا جاتا ہے اور بہت سے لوگ گرفتار ہوتے ہیں ، کچھ اس احتجاج کے فرو کرنے کی کارروائی میں زخمی ہو جاتے ہیں اور بعض اوقات چند عزیز ہم وطن جاں بحق بھی ہوتے ہیں جیسے کہ گزشتہ چند دن سے خیبر پختونخوا میں جاری لوڈ شیڈنگ کے خلاف احتجاج کے نتیجے میں ہوا ۔یہ قیمتی جانیں ہم نے کیوں ضائع کر دیں؟ کیا ان قربانیوں کے بعد بجلی کی لوڈشیڈنگ کا مسئلہ حل ہو گیا؟ کیا کوئی ایسی امید قائم ہو گئی ہے کہ بجلی کی لوڈشیڈنگ اتنے عرصے میں اتنی لاگت سے ختم ہو جائے گی؟ یہ دو افراد تو جاں بحق ہو گئے ۔ اس کے علاوہ جو نقصانات ہوئے ان پر غور کرنے کی ہمیں فرصت ہی نہیں۔ ہم ایک سادہ سی بات پر غور نہیں کرتے۔ یعنی ہمارے ملک میں بجلی کی ضرورت زیادہ ہے اور اس کی پیداوار کم ہوتی ہے۔ اس سادہ سی بات کا اعتراف کرنے کی بجائے اہل سیاست اسے الزام تراشی اور اپنا قد بڑھانے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ سابق صدر جنرل پرویز مشرف نے اقتدار سنبھالنے کے بعد تجویز پیش کی تھی کہ بجلی کے آنے والے بحران سے نمٹنے کے لیے کالا باغ ڈیم تعمیر کر لیا جائے۔ لیکن کئی ماہ تک اس موضوع پر کھلی بحث کے باوجود اس پر قومی اتفاقِ رائے نہ ہو سکا۔اس کے بعد گزشتہ تقریباًبیس برس کے دوران جتنی بھی حکومتیں ملک میں قائم رہیں انہوں نے بجلی پیدا کرنے کے بارے میںنہیں سوچا۔ نئے ڈیموں کی تعمیر کی تجاویز بھی آئیں، ان کی تجاویز کے قابل عمل ہونے کی رپورٹیں تیار کرنے پر اخراجات بھی اُٹھے۔ یہ بھی سنا کہ کراچی سے گوادر تک طویل ساحلی پٹی ہے جس میں سمندر کی لہروں کی حرکت سے بجلی پیدا کی جا سکتی ہے ۔ یہ بھی کہا گیا کہ سمندر سے سال کے پچاس ہفتے سمندری ہوا 5سے 15میل فی گھنٹہ کی رفتار سے خشکی کی طرف چلتی ہے اس سے بجلی پیدا ہو سکتی ہے۔ شمسی توانائی سے بجلی پیدا کرنے کی باتیں بھی کی گئیں ، بائیو گیس سے بجلی حاصل کرنے کی تجاویز بھی آئیں ۔ یہ بھی سنا کہ متبادل توانائی کے کمیشن نے ایسی چھوٹی ٹربائین تیار کر لی ہے جو نہر کے پانی کی رفتار سے بھی بجلی بنا سکتی ہے۔ شمسی توانائی کے قابل عمل ہونے کے مظاہرے کئی شہروں میں نظر آئے۔ راولپنڈی کینٹونمنٹ بورڈ کے زیر انتظام ایک پارک میں روشنی کا بندوبست شمسی توانائی کے ذریعے ہوتا ہے ۔ لیکن سٹریٹ لائٹ کے لیے یہ طریقہ اختیار نہیں کیا گیا۔ اگر ملک کے بڑے شہروں اور قصبوں کے میونسپل ادارے سٹریٹ لائٹ کے لیے شمسی توانائی استعمال کریں تو ایک طرف قومی گرڈ پربجلی کی دستیابی بڑھ جائے گی دوسری طرف میونسپل اداروں کے اخراجات بھی کم ہو سکتے ہیں۔ ہمارے ملک میں ہائیڈل بجلی زیادہ تر استعمال ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ بجلی پیدا کرنے کے اتنے متبادل ذرائع سامنے آئے لیکن کسی پر بھی سنجیدگی سے غور نہیں کیا گیا۔ پارلیمانی ادارے بھی کام کرتے رہے ۔ ان میں بھی حکومت کو متبادل ذرائع سے بجلی حاصل کرنے کا مشورہ نہیں دیا گیا ۔ بھلا ہو چین کا جس نے اپنی معاشی اور ہماری معاشی ضرورتوں کو مدنظر رکھتے ہوئے سی پیک کا منصوبہ پیش کر دیا ہے۔ اس انتظام کے تحت بھی بجلی پیدا کرنے کے بڑے منصوبے ہیں جن پر کام ہو رہا ہے۔ ہمارے ملک میں پیدا ہونے والے تھرکے کوئلے سے تھرمل بجلی پیدا کی جائے گی۔ اور حکومت دعوے کر رہی ہے کہ آئندہ سال (جو غالباً انتخابات کا سال ہے ) بجلی کی لوڈشیڈنگ نہیں ہو گی۔ یہی حکمران پہلے بھی کہتے رہے ہیں کہ چھ ماہ میں لوڈشیڈنگ ختم نہ کر دی تو میرا نام بدل دیجئے۔ لیکن غور کرنے کی بات یہ ہے کہ بجلی پیدا کرنے کے اتنے متبادل ذرائع سامنے آنے کے باوجود ہم وہ طریقہ اختیار کر رہے ہیں جس کے لیے ٹیکنالوجی اورافرادی قوت چین سے آئے گی۔ اس میں تھر کا کوئلہ استعمال ہو گا ۔ اس کوئلے کے جلنے سے ماحول پر کیا اثر پڑے گا اس کا اندازہ نہیں لگایا جا رہا۔ حالانکہ ہم لوگ چھوٹے پیمانے پر بائیو گیس کے یونٹ لگا سکتے ہیں ۔ شمسی توانائی استعمال کر سکتے ہیں اور خیبر پختونخوا میں چھوٹی بڑی بیس سے زیادہ آبی گزر گاہوں پر ٹربائن نصب کر سکتے ہیں جن کے بارے میں فیزیبلٹی رپورٹ سابقہ متحدہ مجلس عمل کے دور میں تیار ہو چکی ہے۔ ان متبادل انتظامات پر کسی فورم میں غور بھی نہیں کیا گیا جہاں ان کو منظور نہیں تو مسترد تو کیا جا سکتا تھا تاکہ قطر سے آنے والی گیس اور چین کے تعاون سے کوئلے سے تیار ہونے والی بجلی پیدا کرنے کے حق میں دلائل زیادہ واضح ہو جائیں۔ یہ تو وہ ہے جو ہم کر سکتے تھے۔ لیکن جو ہم کر رہے ہیں وہی ہے جو ہم ہمیشہ سے کرتے آ رہے ہیں ۔ گرمی سے تنگ آ کر احتجاجی جلوس نکالنا ' حکمرانوں کا پولیس بلانا۔ جلوس کے شرکاء کا مشتعل ہوجانا اور پولیس کا فائرنگ پر اُتر آنا اورکسی عزیز ہم وطن کا جاں بحق ہو جانا۔ گزشتہ سال سے اس میں دو عنصر اور شامل ہو گئے ہیں ۔ ایک پانی اور بجلی کے وزیر مملکت عابد شیر علی کے چیلنج اور دھمکیاں کہ جہاں سے بل پورے ملیں گے وہاں بجلی فراہم کی جائے گی اور دوسرے خیبر پختونخوا اسمبلی کے ارکان کا احتجاجی جلوسوں کی قیادت کرنا اور گرڈ سٹیشنوں پر قبضہ کرنے کی کوشش کرنا۔ جس کے نتیجے میں حاصل وہی ہوا کہ ایک سابق طالب علم لیڈر ناحق جاں بحق ہو گیا۔ قصور ان ارکان اسمبلی کا نہیں ہے جو عوام کے مطالبے کے حق میں ان کے ساتھ نہیں چلتے۔ علاج یہ ہے کہ سرکاری املاک میں توڑ پھوڑ بند کر دی جائے جو ہم سب پاکستانیوں کی ملکیت ہیں۔ اس میں ملزم وہ ہیں جنہوں نے سالہا سال متبادل ذرائع معلوم ہونے کے باوجود ان پر عمل کرنے کے لیے کچھ نہیں کیا۔ کسی سیاسی وابستگی کو خاطر میں لائے بغیر ان سب کو اس صورت حال کا ذمہ دار قرار دیا جانا چاہیے جن کی کم کوشی یا دیگر وجوہات کی وجہ سے ملک میں بجلی کی پیداوار ضرورت سے کم ہے۔

متعلقہ خبریں