Daily Mashriq


تصور کی دنیا اور ٹرمپ کو سعودی تحائف

تصور کی دنیا اور ٹرمپ کو سعودی تحائف

اللہ تعالیٰ کا حضرت انسان کو اپنا شاہکار مخلوق بنا کر اس پر بیش بہا نعمتوں اور عنایات میں سے ایک اہم ترین نعمت و عطا دماغی و ذہنی قوت کے ذریعے تصورات کی دنیا آباد کرنا ہے۔ انسانی سوچ و احساس مجسم صورت میں تشکیل پائے تو تصور کہلاتا ہے اور اس کی رفتار شاید روشنی سے بھی تیز ہوتی ہے۔ پھر تصورات عجیب ہونے کے ساتھ ساتھ مختلف بھی ہوتے ہیں۔ دنیا کے اربوں انسان جس طرح شکل و صورت کے لحاظ سے مختلف ہیں اس طرح ان کے احساسات و تصورات بھی مختلف ہوتے ہیں اور پھر نقطہ نظر کی تبدیلی سے جذبات و احساسات اور تصورات بھی تبدیل ہوسکتے ہیں۔ کاش کوئی ایسا آلہ یا مشین یا کوئی اور چیز دستیاب ہوتی جس کے ذریعے انسان کے تصورات کا احاطہ ہوسکتا۔ امراء اور دولت مندوں کے احساسات و تصورات ضرور عام' متوسط اور غرباء کے تصورات سے مختلف ہوتے ہوں گے یہ جملے میرے ذہن و فکر سے کاغذ پر اس احساس و تصور کے تحت منتقل ہوئے جب میڈیا کے ذریعے سعودی عرب کے شاہ سلمان کی طرف سے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اس کے اہل خانہ کو دئیے گئے سرکاری نہیں' ذاتی تحائف کی تفصیل پڑھی۔ امریکی صدر کے دورہ سعودی عرب نے مجھے ورطہ حیرت میں پہلے ہی ڈال رکھا تھا لیکن ان تحائف نے تو مجھے تصورات میں ان داستانوں کی یاد دلائی جن میں جنات کے طلسم ہوش ربا واقعات کی تفصیل ہم جیسے لوگوں کے ہوش اڑا دیتے اور ہم اپنے معصوم تصورات کے ذریعے تصورات کی دنیا میں جا کر پریوں کی آغوش میں یا کبھی کبھی دیو ہیکل جنات کے پروں پر سوار ہو کر دنیا کی سیر کرتے ہوئے نیند کی گہری وادیوں میں چلے جاتے۔ سنا اور پڑھا تھا کہ دنیا کا سب سے بڑا سخی حاتم طائی عرب تھا اور ایک وقت میں ساٹھ اونٹ ذبح کرکے غرباء اور مساکین کو کھلا دیتا تھا۔ لیکن سعودی شاہ نے تو محاورتاً نہیں بلکہ حقیقتاً حاتم طائی کی قبر پر لات ماری۔ اخبار نے تو سعودی تاریخ لکھی ہے لیکن میں تصور کرتا ہوں کہ شاید دنیا کی جدید تاریخ میں کسی بادشاہ نے دوسرے بادشاہ کو کسی حکمران نے کسی حکمران کو کسی عاشق نے کسی معشوق و محبوب کو شاید ہی اتنے تحائف دئیے ہوں جتنے شاہ سلمان نے دنیا کے امیر ترین ملک کے امیر ترین صدر کو دئیے ہیں۔ صدر ٹرمپ تو بذات خود ارب پتی ہیں اور وسیع و عریض بزنس امپائر کے مالک ہیں۔ اپنے ذاتی جہاز رکھتے ہیں' اور ان کو شاہ سلمان کے ان تحائف کی ضرورت ہی نہیں تھی لیکن سچ کہا ہے کسی نے کہ دولت' دولت کے پاس آتی ہے۔امریکہ اور یورپ کے حکمران' ہمارے حکمرانوں کے برعکس قانوناً اس بات کے پابند ہوتے ہیں کہ سرکاری عہدیداری کے دوران ملنے والے تحفے تحائف سرکاری خزانے اور بیت المال میں جمع ہوں گے اس لئے شاہ سلمان نے اعلان کرکے کہا کہ یہ میری طرف سے ذاتی طور پر صدر ٹرمپ کے لئے ہیں۔ اس لئے ان تحائف کو عجائب گھروں کی زینت نہ بنانا بلکہ سیدھے اپنے گھر لے جانا۔ لیکن شاہ سلمان کی یہ خواہش شاید پوری نہ ہوسکے کیونکہ امریکی کانگریس کے اراکین شاید ہی ٹرمپ کو امریکہ کا صدر ہونے کے ناتے ملنے والے تحائف گھر لے جانے دیں گے۔صدر ٹرمپ پر دنیا کے کتنے صدور اور حکمرانوں نے رشک بلکہ حسد کیا ہوگا۔ ہم جیسے لوگوں کی تو تحائف کی تفصیلات پڑھتے ہوئے باچھیں کھل گئیں اور لالچ میں مبتلا ہوئے۔ لیکن سوائے اس کے کیا کہہ سکتے ہیں کہ ٹرمپ صاحب زہے نصیب۔ اور شاہ سلمان نے بھی صدر ٹرمپ کو یہ تحائف دیتے ہوئے یہی کہا ہوگا اگر میرے یہ تحائف آپ قبول فرمائیں تو ہماری عزت افزائی ہوگی۔ لیکن پھر میرے تصور نے ایک اور جست لگائی اور وہ میں ڈرتے ڈرتے الفاظ میں بیان کرنا چاہتا ہوں۔ '' اگر شاہ سلمان اتنے تحائف کو آدھا کرکے کسی مسلمان ملک کے غربا اور مساکین میں رمضان کے اس مبارک مہینے میں تقسیم کرواتے تو آخرت میں شاید شاہ صاحب کو اس کا اجر عظیم ملتا۔ اگر ان تحائف کا ایک چوتھائی افریقہ کے کسی غریب ملک کے باشندوں کے خوراک کی کمی کے شکار بچوں کی نذر کرتے تو شاید آخرت کا لا جواب توشہ بنتا۔ اگر سعودی حکمران اپنے کھربوں ڈالر کے اثاثوں میں سے زکوٰة بھی اسلامی ممالک میں تعلیم اور صحت کے شعبوں پر خرچ کرتے تو آج عالم اسلام کی یہ حالت نہ ہوتی۔ اور پھر یہ تصور تو ہم جیسے حساس لوگوں کو ہلکان کئے دیتا ہے کہ اگر سعودی حکمران آئی ایم ایف کے یہودی ساہوکاروں کے مقروض پاکستان کا ساٹھ ستر ارب ڈالر کا قرض ادا کرلیتے تو آزاد پاکستان شاید ان کے بہت کام آتا۔ اگرچہ اس میں پاکستانی حکمرانوں کی مجرمانہ غفلت اور قرض کی مے نوشی کے سبب ان کا اپنا کردار زیادہ ہے لیکن ایک دفعہ اگر سعودی سلاطین لوگوں کو اس قسم کے مسرفانہ تحائف دینے کی بجائے ہمارا سوددر سود قرض ادا کر کے ہمارے حکمرانوں کو تنبیہہ کرتے کہ بس! کافی ہے۔ اور یوں پاکستان ایک ایٹمی ملک کی حیثیت سے پورے قد کے ساتھ کھڑا ہو کر سعودی عرب کے شانہ بشانہ ہوتا تو شاید سعودی حکمرانوں کو 350ارب ڈالر کا اسلحہ خریدنے کی ضرورت بھی نہ آتی۔ اور یوں مسلمان کی دولت مسلمان کے کام آکر ایک دوسرے کی تقویت' دفاع اور حفاظت کا باعث بنتی۔ لیکن کیا ایسا ممکن ہے؟ نہیں' کبھی نہیں اور اگر ممکن ہوا تو شاید پھر قریب قیامت کی نشانیاں ہوں گی لیکن تصور اورخواب دیکھنے پر کوئی پابندی تو نہیں ہے نا۔ بس یہ میرا تصور و خواب ہے۔

متعلقہ خبریں