Daily Mashriq

افطار پارٹیوں کا موسم

افطار پارٹیوں کا موسم

رمضان المبارک آہستہ آہستہ آگے بڑھ رہا ہے بس اب چند دنوں کی بات ہے کہ افطار پارٹیوں کا موسم شروع ہو جائے گا مزے مزے کی افطار پارٹیاں ! رمضان شروع ہوتے ہی روزہ داروں کی ساری توجہ روزے اور تراویح پر ہوتی ہے جب دس پندرہ روزے گزر جاتے ہیں تو لوگ مساجد میں ختم القرآن سے فارغ ہوجاتے ہیں۔ اب چھوٹی تراویح پر زیادہ وقت نہیں لگتا ہمارے یہاںعرصہ دراز سے یہ روایت چلی آرہی ہے کہ ختم القرآن مکمل ہوتے ہی چھوٹی یا مختصر تراویح میں امام صاحب بیس منٹ میں بیس رکعتیں پڑھ جاتے ہیں مقتدی بھی خوش کہ چلو جلدفارغ ہوئے اب ویسے بھی ان کی توجہ افطار پارٹیوں پر مرکوز ہوتی ہے ان افطار پارٹیوں کی سب سے خوبصورت بات دوستوں سے ملاقات ہوتی ہے ایک دوسرے کے حال احوال سے باخبری بھی ہوجاتی ہے اور گپ شپ بھی لگی رہتی ہے۔ گپ شپ کے علاوہ کھانے پینے کے عنصر کو بھی کسی طور نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ کھانے پینے کے شوقین خوش خوراک لوگ ان افطار پارٹیوں میں شرکت کرنا ضروری سمجھتے ہیں۔ دن بھر کا روزہ اور افطارکے وقت دسترخوان پر طرح طرح کی نعمتیں کون ایسا ناشکرا ہوگا جو ان نعمتوں کو نظر انداز کرکے کفران نعمت کا مرتکب ہوگا ۔

روزہ دار کادل چاہتا ہے کہ افطار کے وقت مزے مزے کے کھانوں سے لطف اندوز ہو کھانا یا نہ کھانا بالکل ایک علیحدہ مسئلہ ہے لیکن خریداری کی ہوس تو ہوتی ہے حالانکہ افطار کے وقت تو صرف ٹھنڈا شربت یا ٹھنڈا پانی ہی اچھالگتاہے اور بچے تو اتنا پانی پیتے ہیں کہ وہ کچھ کھانے کے قابل نہیں رہتے۔ٹھنڈے مشروبات کے حوالے سے بات چلی تو ڈاکٹر ادیب رضوی یاد آگئے یہ دنیا بھر میں گردے کے کامیاب علاج میں بطور ماہر معالج اپنی الگ پہچان رکھتے ہیں ان کا کہنا ہے کہ افطار کے وقت کولڈ ڈرنکس پیپسی کولا،سیون اپ، کوکا کولا ، سپرائٹ ،ڈیو وغیرہ پینے سے پرہیز کریں کیونکہ اس قسم کے کولڈ ڈرنکس پینے سے گردے متاثر ہوتے ہیں بہتر ہے کہ تازہ مشروبات استعمال کیے جائیںدہی کی لسی سے روزہ افطار کیا جائے تو بہتر ہے۔بات ہورہی تھی افطار پارٹیوں کی !یار لوگوں نے افطار پارٹی سے پوری طرح مستفید ہونے کے ایسے ایسے طریقے ایجاد کررکھے ہیں جو خوش خوراک حضرات کی خاص توجہ کے مستحق ہیں اس کی وجہ یہ ہے کہ کھانے پینے کا شوقین جس کا معدہ بھی خوب طاقتور ہے دن بھر روزہ رکھتا ہے اور پھر کسی افطار پارٹی میں شرکت تو کرتا ہے لیکن اپنے روایتی شرم و حیا اور ہچکچاہٹ کی وجہ سے پیٹ بھر کر کچھ کھانہیں پاتا وہ ابھی ادھر ادھر دیکھ ہی رہا ہوتا ہے کہ اس میدان کے پرانے شناور پلیٹوں کا ایسا صفایا کرتے ہیں کہ اس بیچارے کو کھجور کی گٹھلیوں کے سوا دستر خوان پر کچھ نظر ہی نہیں آتا۔ایسے سادہ لوحوں کے لیے خوراک کے شوقین جو افطار پارٹیوں کے پرانے منجھے ہوئے کھلاڑی ہیںانہوں نے چند گر ایجاد کر رکھے ہیں جو سینہ بہ سینہ چلے آرہے ہیں ان کا کہنا ہے کہ شربت کا جگ اپنے سامنے لیکن تھوڑا سا دور رکھیں ورنہ سب آپ سے شربت مانگنا شروع ہو جائیں گے اور اس طرح آپ بہت سی لذیذ اشیاء کا مزا چکھنے سے بھی محروم ہو جائیں گے۔ کھانے کے دوران دوسروں پر نظر رکھیں اور یہ جاننے کی کوشش کریں کہ کون سی چیز جلدی ختم ہور ہی ہے اور اگر ہوسکے تو اس نعمت پر عقاب کی طرح جھپٹنے کی کوشش کریں یہ وہ موقع ہوتا ہے جہاں شرمانا باعث نقصان ہوتا ہے بس آگے بڑھیے اور دشمن کا صفایا کیجیے لوگوں کی باتوں کی پرواہ نہ کریں۔ لوگوں کا کیا ہے انہیں تو بات کرنے لیے کسی نہ کسی بہانے کی تلاش ہوتی ہے۔ ہم نہ ہوتے تو کسی اور کے چرچے ہوتے ۔ خلقت شہر تو کہنے کو فسانے مانگے۔ بس آپ پیٹ پوجا پورے خلوص اور جوش و خروش کے ساتھ جاری رکھیے آپ کو لوگوں کے تبصروں سے ڈر لگتا ہے اور آپ محتاط طبیعت کے مالک ہیں تو پھر لوگوں کی تنقید سے بچنے کا ایک بہت آسان طریقہ نوٹ فرما لیں۔کھجور کی گٹھلیاں اپنے برابر بیٹھے ہوئے شخص کی گٹھلیو کے ساتھ ملاتے جائیں اس کا یہ فائدہ ہوگا کہ کسی کو پتہ بھی نہیں چلے گا کہ آپ نے کتنی کھجوریں نوش جاں کی ہیں۔اسی طرح چکن کی ہڈیاں بھی ساتھ بیٹھے شخص کے آگے رکھی جاسکتی ہیںہر لذیذ ڈش کا تیا پانچہ کرنے کے بعد تھوڑا سا پانی ضرور پیتے رہیں تاکہ خوراک کی پہلی تہہ نیچے بیٹھ جائے اور پیٹ کے دوزخ کو بھرنے کے لیے مزید ایندھن کے لیے آپ آسانی سے جگہ بنا سکیں۔ دسترخوان سے اٹھنے سے پہلے یا ٹیبل چھوڑتے وقت اس بات کی تسلی کرلیں کہ کوئی چیز بچ تو نہیں گئی کیونکہ یہ بات کفران نعمت کے زمرے میں آتی ہے اللہ پاک کی نعمتوں کے ساتھ پورا پورا انصاف کرنا چاہیے۔یہ ذہن میں رہے کہ درج بالا نسخہ تو صرف تمہید ہے ورنہ یار لوگوں نے افطار پارٹیاں لوٹنے کے ایسے ایسے فن پارے تخلیق کررکھے ہیں کہ حیرت ہوتی ہے اور اس گئے گزرے زمانے میں بھی یہ ماننا پڑتا ہے کہ یقینا ہم فن کاروں کے حوالے سے مکمل طور پر خود کفیل ہیں۔

اداریہ