Daily Mashriq

جے آئی ٹی' احتساب اور دوغلا پن

جے آئی ٹی' احتساب اور دوغلا پن

اور کہاں سے کوئی مثال ڈھونڈ کر لائیں کہ تاریخ کا روشن باب و عہد ایک ہی ہے۔ ہم مجبور ہیں کہ حکمرانوں کی سادگی اور قانون کی حکمرانی کی مثال خلافت راشدہ کے علاوہ کہیں اور سے نہیں دی جا سکتی۔ 1937ء میں کانگریس کی حکومت تھی تو وزراء سے خطاب کرتے ہوئے گاندھی جی نے کچھ ایسے ہی خیالات کا اظہار کیا۔ مہتریجن رسالے میں گاندھی جی کا جو قول نقل ہوا ہے وہ کچھ یوں ہے۔ گاندھی جی نے کہا: '' میں آپ کو رام چند اور کرشن کی مثال نہیں دے سکتا' وہ تاریخی ہستیاں نہ تھیں' میں مجبور ہوں کہ سادگی کی مثال کے لیے ابوبکر رضی اللہ عنہ اور عمر رضی اللہ عنہ کے نام پیش کروں۔ وہ بہت بڑی ریاست کے حکمران تھے مگر انہوں نے فقیروں جیسی زندگی گزاری۔''قانون کی حکمرانی کے ضمن میں بیسیوں ایسی مثالیں ہیں جو کسی بھی عہد کے حکمرانوں سے خلافت راشدہ کو ممتاز کرتی ہیں۔ خلیفہ حضرت عمر عدالت میں پیش ہوئے تو قاضی نے کھڑے ہو کر استقبال کیا۔ آپ نے فرمایا یہ تمہاری پہلی بے انصافی ہے۔ آج یہاں جے آئی ٹی میں وزیر اعظم کے بیٹے کی پیشی کو بڑھا چڑھا کر بیان کیا جا رہا ہے ' جیسے کوئی بڑا کارنامہ سرانجام دیا گیا ہو۔ حسین نواز کی حیثیت ایک ملزم کی ہے۔ الزام ہے کہ انہوں نے دولت کی بیرون ملک غیر قانونی منتقلی کی ہے۔جوائنٹ انوسٹی گیشن ٹیم کریمنل انوسٹی گیشن کر رہی ہے۔اور وزراء کی فوج ظفر موج وزیر اعظم کے صاحبزادے کے دفاع میں لائن بنائے ہوئے ہے۔ جہاں جمہوریت صحیح معنوں میں موجود ہوتی ہے وہاں اس قسم کی ہڑبونگ اور چاپلوسی کے مظاہرے کیا دیکھنے میں آتے ہیں۔ عمران خان درست کہتے ہیں کہ دنیا کی کس جمہوریت میں وزراء یوں وزیر اعظم کی ذات کے دفاع میں حصہ لیتے ہیں ۔ پانامہ کیس جب سے منظرِ عام پرآیا ہے تمام سرکاری مشینری وزیر اعظم اور اُن کی اولاد کے حق میں مہم چلانے میں مصروف ہے۔ جمہوریت میں تو حکمران احتساب کے لیے خود کو پیش کرتے ہیں اور جمہوری حکمرانوں نے اپنے عہدوں سے الگ ہو کر احتساب کی اعلیٰ مثالیں پیش کی ہیں۔ نجانے ہم کس دنیا میں رہتے ہیں اور کیسی جمہوریت کی بات کرتے ہیں۔ یہ تو بادشاہت کا سٹائل ہے ۔ جے آئی ٹی میں پیش ہونے کے لیے حسین نواز تشریف لائے تو وزراء اُن کے ساتھ تھے۔ یہ کہاں اس طرح ہوتا ہے ؟ابھی تو وزیر اعظم نے جے آئی ٹی کے سامنے پیش ہونا ہے۔ کیا اس دن اسلام آباد کو عملی طور پر بند کر دیا جائے گا۔ مسلم لیگ ن کی عجب سیاسی سوچ رہی ہے۔ بظاہر اس کی قیادت اپنے آپ کو احتساب کے لیے پیش کرتی ہے لیکن درونِ خانہ یہ مختلف حیلے بہانوں سے احتسابی عمل کو سبوتاژ کرنے کی منصوبہ بندی میں مصروف رہتی ہے۔ مجھے یاد پڑتا ہے کہ جن دنوں میاں نواز شریف نے جسٹس سجاد علی شاہ کی عدالت میں پیش ہونا تھا تو تمام ملک سے لیگی قائدین اور کارکنان کو حکم تھا کہ وہ شاہراہ دستور پہنچیں۔ عدالتوں پر دباؤ بڑھانے کا یہ ہتھکنڈہ عدلیہ بحالی تحریک کے دنوں میں بھی استعمال ہوا۔ نواز شریف اور میاں شہباز شریف لندن سے ٹیلی فون کیا کرتے تھے اور مختلف اضلاع کی لیگی قیادت کو مع کارکنان اسلام آباد پہنچنے کی تاکید کیا کرتے تھے۔ مقصد عدلیہ کے ساتھ اظہار یکجہتی نہ تھا بلکہ جنرل مشرف کو اقتدار سے الگ ہٹانے کے لیے ایک سنہری موقع سے فائدہ اُٹھانا تھا۔ اب جے آئی ٹی کے اراکین پر دباؤ بڑھانے کی کوششیں ہو رہی ہیں۔ ایس ای سی پی اور سٹیٹ بینک کے وہ دو نمائندے جنہیں عدالت عظمیٰ کے معزز جج صاحبان نے خود سلیکٹ کیا ہے انہی پر حسین نواز کی جانب سے اعتراض کیا گیا ہے۔ اس اعتراض کی وجہ اس کے سوا اور کیا ہے کہ جے آئی ٹی کو دباؤ میں لایا جائے اور اس کی کارروائی تاخیر کا شکار ہو۔ پانامہ کیس کے دوران عدالت نے اس بات کا خاص نوٹس لیا اور ججوں کے ریمارکس میں واضح طور پر کہا گیا کہ وزیر اعظم نے احتساب کے لیے خود کو پیش کرنے کی بات کی لیکن حقائق سامنے لانے میں تاخیری حربے استعمال کیے جا رہے ہیں۔ یہ ہے وزیر اعظم اور دیگر مسلم لیگی قیادت کی حقیقت، ظاہری طور پر یہ اور ہیں لیکن اندر سے یہ بالکل مختلف ہیں۔ میاں نواز شریف کی سیاست کے زوال پذیر ہونے کی وجہ یہی دوغلا پن ہے جو وقت گزرنے کے ساتھ ظاہر ہوا۔ عدالت عظمیٰ میں جب کارروائی شروع ہوئی پارلیمنٹ میں کی گئی تقریر سے مختلف مؤقف اختیار کر لیا گیا ۔ عدالت عظمیٰ کے دو معزز ججوں نے اس بنیاد پر قرار دیا کہ وہ صادق اور امین نہیں رہے جب کہ تین دیگر ججوں نے معاملہ جے آئی ٹی کی فائنڈنگ کمیٹی سے مشروط کر دیا ہے۔ جوائنٹ انوسٹی گیشن ٹیم نے بروز اتوار حسین نواز کی پیشی رکھ کر یہ واضح پیغام دیا ہے کہ وہ ایک ایک دن کو کس قدر قیمتی سمجھتی ہے اور اپنا کام مقررہ وقت میں مکمل کرنے میں کس قدر سنجیدہ ہے۔بروز سوموار عدالتِ عظمیٰ نے جوائنٹ انوسٹی گیشن ٹیم پر حسین نواز کے اعتراض کو مسترد کر دیا ہے۔ یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ عدالتِ عظمیٰ کے معزز جج انصاف پر مبنی فیصلے میں کوئی رو رعایت اور لحاظ نہیں کریں گے۔ یوں جے آئی ٹی کے حوالے سے ابتداء میں جن شکوک و شبہات کا اظہار کیا جار ہا تھا وہ بے بنیاد لگ رہے ہیں۔ جے آئی ٹی کی کارکردگی کو مانیٹر کرنے کا جو میکنزم عدالت عظمیٰ نے ترتیب دیا ہے اس کو ملحوظ رکھتے ہوئے یہ بات وثوق کے ساتھ کہی جا سکتی ہے کہ وزیر اعظم اور ان کے بیٹے پانامہ سکینڈل کی زد میں آنے سے بچ نہ پائیں گے ۔ اور عدالتی فیصلہ عوامی خواہشات اور انصاف کے تقاضوں کے مطابق آئے گا۔

اداریہ