مشرقیات

مشرقیات

حضرت سلیمان بن ربیعہ کہتے ہیں کہ انہوں نے حضرت معاویہ کے زمانہ خلافت میں حج کیا' ان کے ساتھ بصرہ کی ایک جماعت بھی تھی جن میں منتصر بن حارث ضبی بھی تھے۔ ان لوگوں نے کہا: خدا کی قسم! جب تک ہم حضرت محمدۖ کے صحابہ میں سے کسی ایسے ممتاز اور پسندیدہ صحابی سے مل نہ لیں جو ہمیں حدیثیں سنائے اس وقت تک ہم لوگ (بصرہ) واپس نہیں جائیں گے۔ چنانچہ ہم لوگوں سے پوچھتے رہے تو ہمیں بتایاگیا کہ ممتاز صحابہ میں سے حضرت ابن عمرو بن العاص مکہ کے نشیبی حصہ میں ٹھہرے ہوئے ہیں۔ چنانچہ ہم ان کے پاس گئے تو ہم نے دیکھا کہ بہت بڑی مقدار میں سامان لے کر لوگ جا رہے ہیں' تین سو اونٹوں کاقافلہ ہے جن میں سو اونٹ تو سواری کے لئے ہیں اور دو سو اونٹوں پر سامان لدا ہوا ہے۔ ہم نے پوچھا یہ سامان کس کا ہے؟ لوگوں نے بتایا کہ یہ حضرت ابن عمرو کا ہے ' ہم نے حیران ہو کر کہا کیا یہ سارا انہی کا ہے؟ ہمیں تو یہ بتایاگیا تھا کہ وہ لوگوں میں سب سے زیادہ متواضع انسان ہیں (اور یہاں نقشہ اور ہی طرح کا نظر آرہا ہے) لوگوں نے بتایا کہ ( یہ سارا سامان ہے تو ان کا ہی ' لیکن اپنے پر خرچ کرنے کے لئے نہیں ہے بلکہ دوسروں پر خرچ کرنے کے لئے ہے) یہ سو اونٹ تو ان کے مسلمان بھائیوں کے لئے ہیں جن کو یہ سواری کے لئے دیں گے اور ان دو سو اونٹوں کا سامان ان کے پاس مختلف شہروں سے آنے والے مہمانوں کے لئے ہیں' یہ سن کر ہمیں بہت زیادہ تعجب ہوا' لوگوں نے کہا تم تعجب نہ کرو' حضرت ابن عمرو مالدار آدمی ہیں اور وہ اپنے پاس آنے والے ہر مہمان (کی مہمان نوازی بھی کرتے ہیں اور جاتے وقت اسے) زادراہ دینا اپنے ذمہ مستقل حق سمجھتے ہیں۔ہم نے کہا ہمیں بتائو وہ کہاں ہیں؟ لوگوں نے بتایا وہ اس وقت مسجد حرام میں ہیں۔
(اخرجہ ابو نعیم)
بصرہ کے چند قاری حضرت ابن عباس کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ ہمارا ایک پڑوسی ہے جو بہت کثرت سے روزے رکھنے والا ہے' بہت زیادہ تہجد پڑھنے والا ہے' اس کی عبادت کو دیکھ کر ہم میں سے ہر شخص اس پر رشک کرتا ہے۔ اس نے اپنی لڑکی کا نکاح اپنے بھتیجے سے کردیا ہے لیکن غریب کے پاس بچی کے لئے کوئی چیز نہیں ہے۔ حضرت ابن عباس ان حضرات کو لے کر اپنے گھر تشریف لے گئے اور ایک صندوق کھولا جس میں موجود درہم ان کے حوالے کردئیے کہ اس غریب کو دے دیں۔ یہ لے کر چلنے لگے تو حضرت ابن عباس نے ان سے فرمایا کہ ہم لوگوں نے اس کے ساتھ انصاف کا برتائو نہیں کیا' یہ مال اس کے حوالے اگر کردیا جائے گا تو اس غریب کو بڑی دقت ہوگی وہ اس سامان کے انتظام کے جھگڑے میں لگ جائے گا جس سے اس کی مشغولیت بڑھ جائے گی۔ اس کی عبادت میں خرج ہوگا۔ ہماری اس میں کیا شان گھٹ جائے گی کہ ایک دیندار کی خدمت ہم ہی کردیں سارا سامان اس رقم سے مکمل تیار کرکے اس فقیر کے حوالے کردیا۔ (احیایٔ)

اداریہ