Daily Mashriq

احتساب اور فوری انصاف کا اعلیٰ معیار

احتساب اور فوری انصاف کا اعلیٰ معیار

پاک فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ کا دو فوجی اور ایک سول افسر پر جاسوسی کا الزام ثابت ہونے پر انہیں دی گئی قید اور موت کی سزا ئوں کی توثیق کڑے احتساب کی روشن مثال ہے۔پاک فوج میں احتساب کے نظام کے تحت مختلف الزامات میں سزا پانے والوں کے نام عموماً سامنے نہیں آئے لیکن جس قسم کے سنگین جرم میں محولہ عناصر ملوث تھے ان کو کیفر کردار تک پہنچا نے کی اطلاع پاکستان کے عوام پاک فوج اور ان عناصر کو بتانا ضروری تھا جن کیلئے بد قسمتی سے ہماری فوج کے اس اعلیٰ درجے کے افسران استعمال ہوئے۔ ایک جانب جہاں یہ کوئی مثبت امر نہیں اور پاک فوج کیلئے بطور ادارہ افسوسناک صورتحال ہے وہاں اطمینان کا باعث امر یہ ہے کہ پاک فوج میں ہر سطح پر نگرانی اور احتساب کا ایک ایسا عمل یقینی ہے کہ خواہ کسی عہدے کا بھی افسر اور ماتحت ہو غداری کے ارتکاب پر ان کا خود کو خفیہ رکھنا اور بچنا نا ممکن ہے ۔فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کی جانب سے جمعرات کو جاری ہونے والے بیان کے مطابق سزا پانے والے افسران میں ایک ریٹائرڈ لیفٹیننٹ جنرل جاوید اقبال، ایک سابق بریگیڈیئر راجہ رضوان جبکہ ایک سول افسر وسیم اکرم شامل ہیں۔بیان کے مطابق یہ افسران غیرملکی خفیہ ایجنسیوں کو حساس معلومات فراہم کرنے میں ملوث تھے، ان پر جاسوسی کا الزام ثابت ہوا ہے جس کے بعد انہیں سزائیں دی گئی ہیں واضح رہے کہ ملک میں کوئی بھی آئینی عہدہ، چاہے وہ فوجی ہو یا سول، رکھنے کی صورت میں متعلقہ افسر کو آفیشل سیکرٹ ایکٹ پر دستخط کرنا ہوتے ہیں، جس کے تحت وہ عمر بھر کے لیے پابند ہو جاتے ہیں کہ وہ کسی بھی قسم کی خفیہ معلومات کسی بھی مرحلے پر کسی سے بھی شیئر نہیں کر سکتے۔پاکستانی فوج میں مینوئل آف پاکستان ملٹری لا کے مطابق جاسوسی کی سزا موت یا عمر قید ہے۔ سزا کا تعین فیلڈ جنرل کورٹ مارشل کرتا ہے، تاہم سزا کا تعین جرم کی نوعیت پر بھی منحصر ہے۔ فوج کے اندر احتساب کا نظام نہایت مضبوط ہے اورفوج کی بقا اسی نظام کی مضبوطی پر منحصر ہے احتساب میں رعایت نہیں برتی جاتی۔خیال رہے کہ فوج میں حساس عہدوں پر تعینات تمام اہلکاروں کی ملک کی خفیہ ایجنسیاں باقاعدہ نگرانی کرتی ہیں اور کسی بھی شک و شبے کی صورت میں ایکشن لے لیا جاتا ہے۔تاہم جاسوسی جیسے واقعات فوج میں نہایت کم ہوتے ہیں اور عام طور پر فوج میں افسران یا جوانوں کو سزا دینے سے متعلق خبریں منظر عام پر نہیں آتیںاگر چہ دنیا بھر میں اس قسم کے واقعات نئی بات نہیں اور یہ بھی معمول کی بات ہے کہ مختلف ممالک اور خاص طور پر بڑے ممالک اور جن ممالک کے درمیان کشیدگی و مخاصمت اور تعلقات کی نوعیت بہتر نہ ہو وہ ممالک ایک دوسرے کی فوجی اور مختلف سطح پر جاسوسی کی سعی کرتے رہتے ہیں حال ہی میں بھارت کے ساتھ کشیدگی کے دوران پاکستان نے نہایت حساس فوجی تیاریوں کی معلومات اور منصوبہ بندی کو طشت ازبام کر کے ہی بھارت کو جارحیت کے ارتکاب سے باز رہنے پر مجبور کرایا تھا پاکستان کو نہ صرف بھارت کے میزائل حملوں کی منصوبہ بندی کا علم تھا بلکہ پاکستانی طیاروں نے جہاں کارروائی کی وہاں پر نہایت حساس تنصیبات اور فوجی قیادت کی موجودگی کی مبینہ اطلاعات تھیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ اس کے باوجود کہ حساس معلومات افشاء کرنے والے عقابی نظروں اور نگرانی کے عمل سے بچ نہ پائے اور ان کے خلاف سخت سے سخت کارروائی بھی چھ ماہ کی مختصر مدت میں مکمل ہوئی بحیثیت قوم یہ ہمارے لئے افسوسناک معاملہ ہے کہ ہماری صفوں میں ایسے لوگ موجود تھے جو بہکاوے میں آگئے اس کے باوجود انہوں نے فرزندان سرزمین پاک کا حقیقی فرزند ہونے کا ثبوت نہیں دیا کہ ان کو اس قابل سمجھ کر اہم ترین ذمہ داریاں دے دی گئی تھیں۔ اس بارے دوسری رائے نہیں کہ پاک فوج میںشمولیت سے لیکر رخصتی تک چھان بین کا نظام موجود ہے اور فوجی جوانوں وافسران کی کردار سازی پر بھی پوری طرح توجہ دی جاتی ہے لیکن صرف یہ کافی نہیں بلکہ یہ ہر گھرانے ہر خاندان اور تمام والدین کی انفرادی واجتماعی دینی وقومی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے بچوں کو ابتداء ہی سے باکردار بنانے کی ذمہ داری نبھائیں۔پختہ کردار اور قوم وملک سے عہد وفا نبھانا صرف فوج ہی میں نہیں ہوتا بلکہ ہر سویلین افسر سے لیکر عام شخص تک اپنے وطن سے محبت اور حب الوطنی کے تقاضوں کو نبھانا ہم سب کی ذمہ داری ہے ایک مکمل اور باکردار قوم بننے کیلئے قومی کردار کی اہمیت مسلمہ ہے اس کے بغیر آگے بڑھنا اور قوموں کی صفوں میں باوقار طور پر کھڑا ہونا ممکن نہیں۔ جس طرح پاک فوج میں احتساب کا کڑا اور محض چھ ماہ کی مدت میں سزائوں تک کو حتمی شکل دینے کا نظام اورمعیار موجود ہے اسے معیار بنانے اور اس پر عمل پیرا ہونے کی ضرورت ہے تاکہ انصاف کی جلد فراہمی اور بروقت احتساب ممکن ہو۔ پاک فوج کے اعلیٰ افسران کو سزا دے کر یہ معیار طے کیا گیا ہے کہ پاکستان کو جو کوئی بھی اور جس طریقے سے بھی نقصان پہنچانے کی کوششوں میں ملوث ہو اس کے ذمہ دار کو کسی طور پر بھی بچنا نہیں چاہیئے۔

متعلقہ خبریں